حضرت خواجہ شمس العارفینؒ (متوفی 1300ھ) جو جناب مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے شیخِ طریقت بھی تھے، ان کے ملفوظات میں ہے:
بعد ازاں سخن در ذکر جنگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ و امیرِ معاویہؓ افتاد خواجہ شمس العارفین فرمود آنچہ میان حضرت علی و امیر معاویہؓ نزع و خصومت واقع شدہ است از روئے اجتہاد بودنہ از جہت عناد پس اے درویش اگرچہ امیرِ معاویہؓ بر خطا بود لیکن فعل مجتہد اگر بر خطا افتدہم یک ثواب حاصل شود پس درویش رابا ید کہ درحق ایشاں ہیچ نہ گوید
(مرآۃ العاشقین: صفحہ، 109 تحت مراۃ بیست و سوم 23 ذکر جہاد اصغر و جہاد اکبر)
ترجمہ: گزشتہ گفتگو کے بعد سیدنا علیؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مابین جنگ کا تذکرہ ہوا تو خواجہ شمس العارفینؒ نے فرمایا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے درمیان جو نزاع و خصومت واقع ہوئی وہ از روئے اجتہاد تھی، کسی عناد کی بناء پر نہیں تھی پھر فرمایا: اے درویش! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اگرچہ خطاء پر تھے لیکن مجتہد اگر خطاء پر بھی ہو تو پھر بھی اسے ایک ثواب حاصل ہوتا ہے، پس درویش کو چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں بدگوئی ہرگز نہ کرے۔
اہلِ سُنّت والجماعت کی معتبر کتابوں سے یہ اکیس (21) عدد حوالہ جات سرسری تلاش کے بعد لکھ دیے ہیں، ورنہ اہلِ سنت والجماعت کا کوئی محقق عالم ایسا نہیں ہے جس نے اس اختلاف کو اجتہادی اختلاف کے بجائے عنادی اختلاف کہا ہو، اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فعل کو اجتہادی خطاء سے زیادہ کچھ کہا ہو اور یہ خطاء بھی ایں خطا از صد صواب اولیٰ تر است کا مصداق ہے حضرت مجدد صاحبؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ:
فَلَاجَرَمَ خَطَاءُ مُعَاوِيَةَ خَيْرٌ مِنْ صَوَابِهِمَا بِبَرَكَةِ الصُّحْبَةِ
ترجمہ: صحبتِ نبویﷺ کی برکت سے حضرت امیرِ معاویہؓ کی خطاء بھی حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اور حضرت اویس قرنیؒ کے صواب سے بہتر ہے۔
لہٰذا پیر نصیر الدین اور ان کے اسلاف و اکابر کی ساری زندگی کی نیکیاں مل کر اس اجر کا پاسنگ بھی نہیں بن سکتیں جو اجر حضرت امیرِ معاویہؓ کو اس خطائے اجتہادی پر ملا ہے:
ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ