شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط ہشتم) - دفاعِ…

شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط ہشتم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 2
حاصل یہ ہے کہ سیدنا مروان، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا طلحہ، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا حسن بن علی، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہم، اور بھی جو لوگ حضرت عثمانؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان پر پہنچے اور کچھ لڑکے اور عورتیں بھی (جنازہ کے لیے) آ ملے۔ حضرت عثمانؓ کو گھر کے باہر لائے۔ مروان بن حکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے بعد یہ تمام احباب جنازہ کو اس مقام میں لائے جو بقیع کے قریب تھا اور وہاں دفن کردیا(یعنی اس مقام کو حش کوکب کے نام سے ذکر کرتے ہیں) 
تاریخ شہادت:
حضرت عثمانِ غنیؓ کی شہادت کی تاریخ 18 ذوالحج 35 ہجری بروز جمعہ 655 عیسوی ہے۔
رفع اشتباہ:
یہاں یہ بات بظاہر اشتباہ ہے کہ تاریخ طبری کی اس مقام کی عام روایات جن سے معترضین اعتراض پیدا کرتے ہیں ان کو نظر انداز کرکے مذکور بالا روایات کو لیا گیا ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سلسلہ میں اس قاعدہ کی روایت مقصود ہے جو علماء نے لکھا ہے کہ
واذا اختلف کلام امام فیوخذ ما یوافق الادلہ الظاھرہ و یعرض عما خالفھا: 
یعنی جب ایک مسئلہ میں کسی امام کے کلام میں اختلاف پایا جائے تو جو ظاہر دلائل کے موافق کلام ہو، اس کو اخذ کیا جائے اور جو اسکے خلاف کلام ہو اس سے اعراض کیا جائے۔
اس قاعدہ کی روشنی میں طبری کی جو روایات قواعدِ شرعی سے مطابقت رکھتی ہیں اور دیکر اکابر علماء اور مؤرخین کے بیانات کے موافق ہیں، ان پر اعتماد کیا جائے گا اور جن روایات سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اعتراض پیدا ہو ان کو ترک کر دیا جائے گا۔
1: الزواجر لابن حجر المکی صفحہ 28، تحت الکبیرۃ الاولی الشرک بحث ایمان و کفر فرعون، طبع مصر۔ 
2: رد المحتار للشامی صفحہ 317، جلد ثالث، تحت توبہ الباس مقبولہ الخ باب المرتد) 
حاصل بحث یہ ہے کہ 
اگرچہ اس مسئلہ میں مؤرخین نے کئی قسم کی بے سروپا روایات نقل کی ہیں، تاہم بعض احادیث کی روایات اور اہلِ تاریخ کے عمدہ بیانات مسئلہ ہذا کی وضاحت کے لیے موجود ہیں (جیسا کہ سابقہ سطور میں ان کو مختصراً نقل کیا ہے) 
ان میں مذکور ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اسی روز دفن کیا گیا یعنی جمعہ کے روز عصر کے وقت باغیوں نے آنجنابؓ کو ظلماً شہید کیا تھا اور آپؓ پر ظلم و ستم کے زور کی وجہ سے دفن کرنے میں بھی مانع ہوئے تھے لیکن حالات کی برہمی اور شدید رکاوٹوں کے باوجود بعض اکابر حضرات (مذکورہ بالا) نے اسی روز رات کو (شبِ ہفتہ) کو دفن کا انتظام کیا۔ غسل و کفن دفن حسبِ دستور کیا گیا اور صلوٰۃ جنازہ بھی ادا کی گئی اور نمازِ جنازہ میں شامل ہونے والے حضرات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ وغیرہم کا ذکر روایات میں موجود ہے اور حوالہ جات مندرجہ بالا اس بات پر شاہد ہیں۔ اعتراض پیدا کرنے والے لوگوں نے خیانت سے کام لیا ہے کہ اپنے مطلب کے موافق روایات کو لے لیا اور جن روایات سے دفاع ہو سکتا تھا اور مطاعن کے جواب پر مشتمل تھیں، ان کو ترک کر دیا۔

صفحہ 2 از 2