ملا علی قاری حنفیؒ (متوفی 1014ھ) لکھتے ہیں:
فَلَا يُشْكَلُ بِاخْتِلَافِ بَعْضِ الصَّحَابَةِ فِی الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ قُلْتُ: الظَّاهِرُ أَنَّ اخْتِلَافَ الْخِلَافَةِ أَيْضًا مِنْ بَابِ اخْتِلَافِ فُرُوعِ الدِّينِ النَّاشِی عَنْ اجْتِهَادِ كُلٍّ، لَا مِنَ الْغَرَضِ الدُّنْيَوِی الْقَادِحِ وَالْحَظِّ النَّفْسِی
(مرقاۃ المفاتیح: جلد 11 صفحہ 367 باب مناقب الصحابہ)
ترجمہ: لہٰذا آپﷺ کے اس ارشاد پر یہ اشکال وارد نہ کیا جائے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خلافت و امارت میں اختلاف کیا تھا میں کہتا ہوں کہ اختلافِ خلافت بھی ظاہری طور پر دینی فروعی اختلاف کے ضمن میں آتا ہے جو ہر ایک کے اپنے اپنے اجتہاد سے پیدا ہوا اس میں بھی کوئی دنیاوی غرض نہیں تھی جو خواہشاتِ نفسانی کا حصہ لیے ہوئے ہو۔