حافظ ابنِ حجر مکی شافعی ہیتمیؒ (متوفی 974ھ) لکھتے ہیں:
وَ مِنْ اعْتِقَادِ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ أَيْضًا أَنَّ مُعَاوِيَةَ الله لَمْ يَكُنْ فِی أَيَّامِ عَلِی خَلِيفَةً، وَ إِنَّمَا كَانَ مِنَ الْمُلُوكِ، وَغَايَةُ اجْتِهَادِهِ أَنَّهُ كَانَ لَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ عَلَى اجْتِهَادِهِ، وَأَمَّا عَلِی فَكَانَ لَهُ أَجْرَانِ: أَجْرٌ عَلَى اجْتِهَادِهِ، وَأَجْرٌ عَلَى إِصَابَتِهِ
(الصواعق المحرقۃ: صفحہ217 الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ رضی اللہ عنہم الخ)
ترجمہ: اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سیدنا علیؓ کے ایامِ خلافت میں خلیفہ نہ تھے، بلکہ بادشاہ تھے، اور ان کے اجتہاد کی غایت یہ ہے کہ ان کو اس اجتہاد پر ایک اجر ملے گا۔ اور سیدنا علیؓ کو دو اجر ملیں گے: ایک اجتہاد کا، دوسرا اصابت کا۔