علامہ تفتازانی رحمۃاللہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

علامہ تفتازانی رحمۃاللہ

  محمد ظفر اقبال

سیدنا علامہ سعد الدین مسعود التفتازانیؒ (متوفی 808ھ) لکھتے ہیں:  

وَ لَيْسُوا كُفَّارًا وَلَا فَسَقَةً وَلَا ظلمَةً لِمالَهُمْ مِنَ التَّأْوِيلِ، وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا، فَغَايَةُ الْأَمْرِ أَنَّهُمْ أَخْطَئُوا فِی الِاجْتِهَادِ، وَذَلِكَ لَا يُوجِبُ التَّفْسِيقَ فَضْلًا عَنِ التَّكْفِيرِ، وَلِهٰذَا مَنَعَ عَلِی اللهُ أَصْحَابَهُ مِنْ لَعْنِ أَهْلِ الشَّامِ وَ قَالَ: إِخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَيْنَا 

(شرح مقاصد: جلد 2 صفحہ305 المبحث السابع اتفق اہل الحق علی وجوب تعظیم الصحابۃ)  

ترجمہ: اور وہ کافر نہیں، نہ فاسق ہیں، اور نہ ہی انہیں ظالم ٹھہرایا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کوئی نہ کوئی تاویل ضرورتھی، گو وہ باطل ہی کیوں نہ ہو۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اجتہاد میں خطا کی، اور اس سے فسق لازم نہیں آتا، چہ جائیکہ کفر۔ اور اسی لیے سیدنا علیؓ نے ان لوگوں کو جو اہلِ شام پر لعنت کر رہے تھے، اس سے روکا اور فرمایا: وہ ہمارے بھائی ہی ہیں جو ہم پر چڑھ دوڑے ہیں۔