علامہ قرطبی مالکی رحمۃاللہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

علامہ قرطبی مالکی رحمۃاللہ

  محمد ظفر اقبال

سیدنا علامہ قرطبی مالکیؒ (متوفی 671ھ) لکھتے ہیں:  

لَا يَجُوزُ أَنْ يُنْسَبَ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ خَطَأٌ مَقْطُوعٌ بِهِ، إِذْ كَانُوا كُلُّهُمُ اجْتَهَدُوا فِيمَا فَعَلُوهُ وَ أَرَادُوا اللهَ عَزَّوَجَلَّ، وَهُمْ كُلُّهُمْ لَنَا أَئِمَّةٌ، وَقَدْ تعبدْنَا بِالْكَفِّ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ، وَأَلَّا نَذْكُرَهُمْ إِلَّا بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ لِحُرْمَةِ الصُّحْبَةِ، وَلِنَهْی النَّبیﷺ عَنْ سَبِّهِمْ، وَأَنَّ اللهَ غَفَرَ لَهُمْ وَأَخْبَرَ بِالرِّضَا عَنْهُمْ 

(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی: جلد16 صفحہ 321، سورۃ الحجرات تحت: وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ)

ترجمہ: کسی ایک صحابیؓ کی طرف قطعی طور پر خطا کی نسبت کرنا جائز نہیں ہے جبکہ ان سب نے جو کچھ کیا ہے، اپنے اجتہاد سے کیا ہے اور انہوں نے اللہ ہی کی رضا کا ارادہ کیا ہے۔ اور وہ سب ہمارے پیشوا ہیں، اور ہمیں اس بات کا حکم ہے کہ ان کے مابین جو جھگڑے ہوئے ہیں، ان سے اپنی زبانیں روکیں، اور ان کا ذکر خیر کے ساتھ کریں، کیونکہ شرفِ صحابیت بڑی حرمت کی چیز ہے، اور نبی کریمﷺ نے ان کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے اپنے راضی ہونے کی خبر دی ہے۔