علامہ ابنِ حزم اندلسیؒ (متوفی 456ھ) فرماتے ہیں:
فَبِهَذَا قَطَعْنَا عَلَى صَوَابِ عَلِی وَصِحَّةِ إِمَامَتِهِ وَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَقِّ، وَأَنَّ لَهُ أَجْرَيْنِ أَجْرَ الِاجْتِهَادِ وَأَجْرَ الْإِصَابَةِ، وَقَطَعْنَا أَنَّ مُعَاوِيَةَؓ وَ مَنْ مَعَهُ مُخْطِئُونَ مُجْتَهِدُونَ مَأْجُورُونَ أَجْرًا وَاحِدًا
(الفصل فی الملل والنحل: جلد 4 صفحہ161 تحت الکلام فی حرب علی و من حاربه من الصحابۃ)
ترجمہ: پس اس بناء پر ہم یقین رکھتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد میں صواب پر ہیں، اور آپؓ کی امامت صحیح ہے، اور آپؓ برحق تھے، اور آپؓ کے لیے دو اجر ہیں: ایک اجر اجتہاد کرنے کا، اور ایک اجر اجتہاد کے صحیح ہونے کا۔ اور ہم اس پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان کے ساتھی مجتہد ہیں اور مخطئی پر ہیں، اور (خطا کی وجہ سے بھی) ان کو ایک اجر ملے گا۔