سیدنا امام ابو اسحاق اسفرائینیؒ (متوفی 418ھ) فرماتے ہیں:
فَإِنَّهُ أَی التَّخَاصُمُ وَالنِّزَاعُ وَالتَّقَاتُلُ وَالدِّفَاعُ الَّذِی جَرَى بَيْنَهُمْ كَانَ عَنْ اجْتِهَادٍ قَدْ صَدَرَ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ رُؤَسِ الْفَرِيقَيْنِ، وَمَقْصِدٌ سَائِغٌ لِكُلِّ فِرْقَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ الْمُصِيبُ فِی ذَلِكَ لِلصَّوَابِ وَاحِدُهُمَا وَهُوَ عَلِی رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِ وَمَنْ وَالَاهُ، وَالْمُخْطِئُ هُوَ مَنْ نَازَعَهُ وَعَادَاهُ، غَيْرَ أَنَّ لِلْمُخْطِئِ فِی الِاجْتِهَادِ أَجْرًا وَثَوَابًا خِلَافًا لِأَهْلِ الْجَفَاءِ وَالْعِنَادِ، فَكُلُّ مَا صَحَّ مِمَّا جَرَى بَيْنَ الصَّحَابَةِ الْكِرَامِ وَجَبَ حَمْلُهُ عَلَى وَجْهٍ يَنْفِی عَنْهُمُ الذُّنُوبَ وَالْآثَامَ
(شرح عقائد اسفرائینی: جلد 2 صفحہ 386 بحوالہ مقامِ صحابہ: صفحہ 104)
ترجمہ: اس لیے جو نزاع و جدال اور دفاع و قتال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان پیش آیا، وہ اس اجتہاد کی بناء پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیا تھا، اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا۔ اگرچہ اس اجتہاد میں برحق فریق ایک ہی ہے اور وہ سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں اور ان کے رفقاء ہیں، اور خطا پر وہ حضرات ہیں جنہوں نے سیدنا علیؓ سے نزاع و عداوت کا معاملہ کیا۔ البتہ جو فریق خطا پر تھا، اسے بھی ایک اجر و ثواب ملے گا۔ اس عقیدے میں صرف اہلِ جفا و عناد ہی اختلاف کرتے ہیں۔ لہٰذا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان مشاجرات کی جو صحیح روایات ہیں، ان کی بھی اس میں تشریح کرنا واجب ہے جو ان حضرات سے گناہوں کے الزام کو دور کرنے والی ہو۔