سیدنا امام ابو الحسن اشعری رحمۃاللہ - ردِ رافضیت | دفاع…

سیدنا امام ابو الحسن اشعری رحمۃاللہ

  محمد ظفر اقبال

سیدنا امام ابو الحسن اشعریؒ (متوفی 324ھ) لکھتے ہیں:  

فَأَمَّا مَا جَرَى بَيْنَ عَلِی وَالزُّبَيْرِ وَ عَائِشَةَ رَضِی اللَّهُ عَنْهُمْ فَإِنَّمَا كَانَ تَأْوِيلًا وَ اجْتِهَادًا، وَ عَلی الْإِمَامُ وَحُكْمٌ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ، وَقَدْ شَهِدَ لَهُمُ النَّبِیﷺ بِالْجَنَّةِ وَالشَّهَادَةِ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُمْ كُلُّهُمْ كَانُوا عَلَى حَقٍّ فِی اجْتِهَادِهِمْ، وَكَذَلِكَ مَا جَرَى بَيْنَ عَلِی وَ مُعَاوِيَةَ رَضِی اللهُ عَنْهُمَا كَانَ عَلَى تَأْوِيلٍ وَاجْتِهَادٍ  

(الابانۃ: صفحہ69 باب الکلام فی امامۃ ابی بکر الصدیق تحت دلیل آخر)  

ترجمہ: پس جو نزاع سیدنا علیؓ، سیدنا زبیرؓ اور سیدہ عائشہؓ میں پیش آیا، وہ تاویل و اجتہاد پر مبنی تھا، اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ امام (خلیفہ) تھے اور یہ سب حضرات اہلِ اجتہاد تھے، اور ان کے لیے نبی پاکﷺ نے جنت و شہادت کی بشارت دی ہے پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کے سب اپنے اجتہاد میں حق پر تھے اسی طرح سیدنا علیؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان جو نزاع ہوا، وہ بھی تاویل و اجتہاد پر مبنی تھا۔