تنقیح دوم موصوف کا کہنا ہے کہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تنقیح دوم موصوف کا کہنا ہے کہ

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 2

اور قاتلینِ عثمانؓ نے بیعتِ علی رضی اللہ عنہ کے پردے میں اپنا مکروہ چہرہ چھپایا ہوا تھا بقول حکیم الاسلام سیدنا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (متوفی 1176ھ):  

قاتلان بجز آنکہ پناہی بحضرتِ مرتضیٰ برند و با او بیعت کنند علاجے نیافتند، پس در بابِ عقدِ خلافتِ او از ہمہ بیشتر سعی کردند دوم موافقتِ اوز دندو کیف ما کان عقدِ بیعت واقع شد  

(قرۃ العین: صفحہ، 143 تحت و اما علی المرتضیٰؓ)  

ترجمہ: قاتلانِ عثمانؓ کو اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی (سیاسی) پناہ لیں اور ان کی بیعت کریں اسی لیے انہوں نے بیعتِ حضرت علیؓ کے انعقاد کے لیے بڑی کوشش کی اور خوب ان کی موافقت میں حصہ لیا۔ جس طرح بھی ہوا یہ بیعت منعقد ہوئی۔

حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728ھ) بھی لکھتے ہیں:  

اخْتَلَفُوا اكَاذِیب وَابْتَدَعُوا آرَاءً فَاسِدَةً لِيُفْسِدُوا بِهَا دِينَ الْإِسْلَامِ وَيُستزِلُّوا بِهَا مَنْ لَيْسُوا بِأولی الْأَحْلَامِ، فَسَعَوْا فِی قَتْلِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَوَّلُ الْفِتَنِ، ثُمَّ انْزَوَوْا إِلَى عَلِی لَا حُبًّا فِيهِ وَلَا فِی أَهْلِ الْبَيْتِ، لَكِنْ لِيُقِيمُوا سُوقَ الْفِتْنَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ سَعَوْا مَعَهُ مِنْهُمْ مَنْ كفرهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَ قَاتَلَهُ كَمَا فَعَلَتِ الْخَوَارِجُ، وَسَيقهمْ أَوَّلُ سَيْفٍ سُل عَلَى الْجَمَاعَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَظْهَرَ الطَّعْنَ عَلَى الْخُلَفَاءِ الثَّلَاثَةِ كَمَا فَعَلَتِ الرَّافِضَة  

(منہاج السنۃ: جلد3 صفحہ243 مبحث قتال مانعی الزکاۃ الزین قاتلہم ابوبکر)  

ترجمہ: انہوں نے جھوٹی روایات گھڑیں اور فاسد خیالات ایجاد کیے تاکہ اس طرح دینِ اسلام کو فاسد کریں اور ان لوگوں کو دین سے ہٹا دیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے انہوں نے قتلِ عثمانؓ کی بھرپور کوش کی اور یہ اولین فتنہ ہے پھر یہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے، اس لیے نہیں کہ انہیں حضرت علیؓ یا اہلِ بیتؓ سے محبت تھی، بلکہ محض اس لیے کہ مسلمانوں میں فتنہ برپا کریں پھر انہوں نے آپؓ کے ساتھ ہو کر جنگیں لڑیں بعد میں انہی میں سے بعض نے آپؓ کی تکفیر کی اور آپؓ کے ساتھ جنگ کی اور خوارج کہلائے، اور جماعتِ اہلِ اسلام پر سب سے پہلے انہی کی تلوار بے نیام ہوئی اور انہی میں سے بعض نے حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ پر طعن کیا اور روافض کہلائے۔

6: سیدنا علیؓ کا فرمانا یہ تھا کہ میرے پاس اتنی قوت نہیں ہے کہ میں مفسدین کی گوشمالی کر سکوں فریقِ مخالف کا اس کے جواب میں کہنا تھا کہ:  

1: آپ ان کو ہمارے حوالے کر دیں، ہم قصاص لے لیں گے۔  

2: اگر یہ نہ کر سکیں تو ہمیں ان کی گرفتاری کی اجازت مرحمت فرما دیں اور ان کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود بھی صفین کے موقع پر جنگ کی ابتداء سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے نہ ہوئی تھی، بلکہ آپؓ تو دفاعی پوزیشن میں تھے پھر جنگ بندی کی سعادت بھی سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی۔

جبکہ بقول امامِ اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ (متوفی 1383ھ):  

لڑائی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھیوں کی سرکشی اور بزدلی سے بہت پریشانی رہی۔  

(خلفائے راشدینؓ: صفحہ222 حالات حضرت علی المرتضیٰ، تحت جنگ صفین)

اگر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو دنیوی و ملکی امور میں رخنہ اندازی کا شوق ہوتا تو آپ جنگِ جمل ہی میں اپنی فوجیں لے آتے یا جنگِ نہروان کے بعد حملہ آور ہو جاتے، جبکہ اس وقت سیدنا علیؓ کے پاس تھوڑا سا علاقہ تھا ۔

مولانا عبدالشکور لکھنویؒ فرماتے ہیں:  

جنگِ صفین کے بعد حضرت علیؓ کے قبضے سے تمام ملک نکل گیا، حتیٰ کہ آخر میں سوائے کوفہ اور مضافاتِ کوفہ کے آپؓ کے پاس کچھ نہیں رہ گیا۔ 

(ایضاً: صفحہ 216 حالات حضرت علی المرتضیٰؓ تحت حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافت)

یہی بات امام الہند سیدنا شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے بھی ازالۃ الخفاء (جلد1 صفحہ 479 فصل پنجم، بیان فتن) میں لکھی ہے۔

اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ چاہتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد اپنی خلافت کا اعلان کر دیتے، لیکن انہوں نے ایسا بالکل نہیں کیا۔ جن کو حضورِ اکرمﷺ کی یہ بشارت ہو کہ:  

مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِی سُفْيَانَ أَحْلَمُ أُمَّتِی وَأَجْوَدُهَا  

(تطہیر الجنان واللسان: صفحہ 12 الفصل الثانی فی فضائلہ و مناقبہ و خصوصیاتہ الخ)  

وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ لہٰذا قصاص جیسے شرعی اور دینی مسئلے کو دنیوی یا ملکی مسئلہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔


صفحہ 2 از 2