کسی شرعی مسئلے میں حتیٰ الوسع جدوجہد کے بعد اجتہادی غلطی کا معاملہ کچھ اور ہے، مگر دنیوی اور ملکی امور میں ایسی اجتہادی خطا جو موجبِ فتنہ بنے باعثِ اجر و ثواب قرار دینا قرینِ دانش مندی اور انصاف نہیں۔
اس بحث میں چند امور قابلِ ذکر ہیں:
1: امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفانؓ (متوفی 35ھ) کی مظلومانہ شہادت کے بعد جو ہوش ربا حالات پیش آئے اور جو بالآخر جنگِ جمل اور صفین پر منتج ہوئے، اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ (متوفی 40ھ) جیسی شخصیت جنہوں نے 23 برس آنحضرتﷺ کی صحبتِ شریفہ سے فیض اٹھایا ہے، جنہیں نطقِ نبوت يُحِبُّ اللّٰهَ وَ رَسُولَهُ و يُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ (مشکوٰۃ: صفحہ، 566 باب مناقب علی بن ابی طالب) کی سند مرحمت ہوئی ہے جنہیں پیچیدہ اور مشکل مسائل میں أَقْضَاھمْ عَلِی (ایضاً) کا تمغا عطا کیا گیا ہے جو وفورِ علم و تقویٰ، معراجِ خشیت و انابت، اوجِ دانش و دیانت اور کمالِ فہم و بصیرت میں (اپنے زمانۂ خلافت میں) بہرحال سب ہی سے فائق تھے۔ جب ان کا کہنا یہ ہے:
فَإِنَّا مُسْتَقْبِلُونَ أَمْرًا لَهُ وُجُوهٌ وَ أَلْوَانٌ، لَا تَقُومُ لَهُ الْقُلُوبُ، وَلَا تَثْبُتُ عَلَيْهِ الْعُقُولُ، وَأَنَّ الْآفَاقَ قَدْ أَغَامَتْ لِمَحَجَّةٍ قَدْ تُنكرَت
(نہج البلاغہ: صفحہ48 خطبہ92)
ترجمہ: ہمیں ایک ایسے امر کا سامنا ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں، جس کے سامنے نہ دل قائم رہ سکتے ہیں نہ عقلیں ٹھہر سکتی ہیں، افق پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں اور راستہ مشتبہ ہو گیا ہے۔
جب سیدنا علیؓ یہ فرما رہے ہیں تو میں اور آپ آج صدیوں بعد تاریخ کی کتابوں سے رطب و یابس روایات دیکھ کر فیصلہ کیا کر سکتے ہیں؟ یہ ہے حالات کا صحیح نقشہ جس سے امتِ مسلمہ اس وقت دو چار تھی۔
2: مفسدین اور باغیوں نے سارے مسلمانوں کی موجودگی میں، مدینۃ الرسول میں، عین روضہ نبویﷺ کے پہلو میں امیر المؤمنین، امام المظلومین سیدنا عثمان غنیؓ (متوفی 35ھ) کو بے دردی سے شہید کر کے خلافتِ اسلامیہ کے پرخچے اڑا دیے تھے۔
3: حد تو یہ ہے کہ اس باغی ٹولے نے خاندانِ نبوتﷺ خصوصاً سیدنا علیؓ کی جھوٹی محبت کا سہارا لے رکھا تھا، انہی کے کیمپ میں موجود اور عملاً بالا دست تھا بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہو گا کہ خود دائرۂ خلافت ان مفسدین اور زائغین کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا تھا۔ سیدنا علیؓ خود فرماتے ہیں:
يَمْلِكُونَنَا وَلَا نَمْلِكُهُمْ
(نہج البلاغہ: صفحہ92 خطبہ 168)
ترجمہ: وہ ہم پر مسلط ہیں اور ہم ان پر حاوی نہیں ہیں۔
4: سوال یہ ہے کہ کیا سیدنا عثمانؓ کے قصاص کا مسئلہ صرف ایک نفس کے قتل کا مسئلہ تھا؟ اور پھر کون حضرت عثمانؓ؟ جو خلیفہِ راشد ہیں اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے بعد کائنات کی افضل ترین شخصیت ہیں، جنہیں چالیس روز تشنہ لب رکھ کر ذبح کر دیا گیا ہو قلم کو یارا نہیں کہ ان جگر خراش واقعات کو بیان کر سکے پھر وہ حضرت عثمانؓ جن کے قتل کی افواہ پر خود سرورِ کائناتﷺ نے 1400 مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قصاصِ عثمانؓ کے لیے بیعت لی تھی اور اس اقدام کی تائید میں آیاتِ قرآنی نازل ہوئی تھیں ایک مرتبہ آپﷺ نے اپنے دستِ مقدس کو سیدنا عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا تھا تو کیا قصاص کا مطالبہ تنہا ایک فردِ واحد کی ذات کا مسئلہ تھا؟ اس کے ساتھ آیتِ کریمہ کے تحت قصاصِ دمِ عثمان فرض تھا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰى
(سورۃ البقرۃ: آیت 178)
ترجمہ: اے ایمان والو! فرض ہوا تم پر (قصاص) برابری کرنا مقتولوں میں۔
اور حدیث میں ہے کہ:
مَنْ قُتِلَ مُتَعَمِّدًا ادفع إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاؤا قَتَلُوا وَإِنْ شَاؤا أَخَذُوا الدِّيَةَ
(ترمذی: جلد1 صفحہ258 ابواب الدیات باب ما جاء فی الدیۃ کم ھی من الابل)
ترجمہ: جو کسی کو جان بوجھ کر مار ڈالے تو قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے، خواہ وہ اسے بدلہ میں قتل کر ڈالیں یا اس سے دیت وصول کریں۔
5: قصاص ایک شرعی مسئلہ ہے جس کی فضیلت آیتِ قرآنی و حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوئی سیدنا امیرِ معاویہؓ کو دعویٰ خلافت و امارت تھا ہی نہیں ۔
شیخ الاسلام سیدنا مولانا ظفر احمد عثمانیؒ (متوفی 1394ھ) فرماتے ہیں:
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھیجے گئے ایک وفد نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بیعت کرنے کو کہا تو سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں سیدنا علیؓ سے بیعت کر لوں گا بشرط یہ کہ وہ یا تو خود قصاصِ عثمانؓ میں قاتلوں کو قتل کر دیں گے، (اگر وہ خود نہ کر سکیں تو) انہیں میرے حوالے کر دیں۔ اور دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھی:
وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا
(سورۃ: بنی اسرائیل آیت 33)
ترجمہ: اور جو شخص ظلماً مار دیا جائے تو ہم نے بنا رکھا ہے اس کے ولی وارث کے لیے مضبوط حق، پھر وہ وارث (بدلہ لیتے وقت) مارنے میں زیادتی نہ کریں۔ (تو) بلا شک وہ مدد یافتہ و غالب اور کامیاب رہے گا۔
سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص نہ لیا گیا تو حضرت امیرِ معاویہؓ ضرور غالب ہوں گے۔
(ازالۃ الخفاء: جلد 1 صفحہ434 البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ 21)
(برأتِ عثمانؓ: صفحہ38 تحت مطالبہ قصاص کا حق)
ایک طرف مطالبہِ قصاص سے فضا گونج رہی تھی، جبکہ دوسری طرف:
حُجَّةُ مُعَاوِيَةَ وَمَنْ مَعَهُ: منْ قَتَلَ عُثْمَانَ مَظْلُومًا، وَ وُجُودُ قَتلَتِهِ بِأعْيَانهِمْ فِی الْعَسْكَرِ الْعِرَاقِی
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ288 کتاب الاعتصام، باب ما یذکر من ذم الرای الخ، تفسیر القرطبی: جلد16 صفحہ318 تحت سورۃ الحجرات مسئلۃ الرابعہ)
ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں کی دلیل یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تو ظلماً مقتول ہوئے اور ان کے قاتل تو خود عراقی لشکر میں موجود ہیں۔
اور قاتلینِ عثمانؓ نے بیعتِ علی رضی اللہ عنہ کے پردے میں اپنا مکروہ چہرہ چھپایا ہوا تھا بقول حکیم الاسلام سیدنا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (متوفی 1176ھ):
قاتلان بجز آنکہ پناہی بحضرتِ مرتضیٰ برند و با او بیعت کنند علاجے نیافتند، پس در بابِ عقدِ خلافتِ او از ہمہ بیشتر سعی کردند دوم موافقتِ اوز دندو کیف ما کان عقدِ بیعت واقع شد
(قرۃ العین: صفحہ، 143 تحت و اما علی المرتضیٰؓ)
ترجمہ: قاتلانِ عثمانؓ کو اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی (سیاسی) پناہ لیں اور ان کی بیعت کریں اسی لیے انہوں نے بیعتِ حضرت علیؓ کے انعقاد کے لیے بڑی کوشش کی اور خوب ان کی موافقت میں حصہ لیا۔ جس طرح بھی ہوا یہ بیعت منعقد ہوئی۔
حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728ھ) بھی لکھتے ہیں:
اخْتَلَفُوا اكَاذِیب وَابْتَدَعُوا آرَاءً فَاسِدَةً لِيُفْسِدُوا بِهَا دِينَ الْإِسْلَامِ وَيُستزِلُّوا بِهَا مَنْ لَيْسُوا بِأولی الْأَحْلَامِ، فَسَعَوْا فِی قَتْلِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَوَّلُ الْفِتَنِ، ثُمَّ انْزَوَوْا إِلَى عَلِی لَا حُبًّا فِيهِ وَلَا فِی أَهْلِ الْبَيْتِ، لَكِنْ لِيُقِيمُوا سُوقَ الْفِتْنَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ سَعَوْا مَعَهُ مِنْهُمْ مَنْ كفرهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَ قَاتَلَهُ كَمَا فَعَلَتِ الْخَوَارِجُ، وَسَيقهمْ أَوَّلُ سَيْفٍ سُل عَلَى الْجَمَاعَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَظْهَرَ الطَّعْنَ عَلَى الْخُلَفَاءِ الثَّلَاثَةِ كَمَا فَعَلَتِ الرَّافِضَة
(منہاج السنۃ: جلد3 صفحہ243 مبحث قتال مانعی الزکاۃ الزین قاتلہم ابوبکر)
ترجمہ: انہوں نے جھوٹی روایات گھڑیں اور فاسد خیالات ایجاد کیے تاکہ اس طرح دینِ اسلام کو فاسد کریں اور ان لوگوں کو دین سے ہٹا دیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے انہوں نے قتلِ عثمانؓ کی بھرپور کوش کی اور یہ اولین فتنہ ہے پھر یہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے، اس لیے نہیں کہ انہیں حضرت علیؓ یا اہلِ بیتؓ سے محبت تھی، بلکہ محض اس لیے کہ مسلمانوں میں فتنہ برپا کریں پھر انہوں نے آپؓ کے ساتھ ہو کر جنگیں لڑیں بعد میں انہی میں سے بعض نے آپؓ کی تکفیر کی اور آپؓ کے ساتھ جنگ کی اور خوارج کہلائے، اور جماعتِ اہلِ اسلام پر سب سے پہلے انہی کی تلوار بے نیام ہوئی اور انہی میں سے بعض نے حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ پر طعن کیا اور روافض کہلائے۔
6: سیدنا علیؓ کا فرمانا یہ تھا کہ میرے پاس اتنی قوت نہیں ہے کہ میں مفسدین کی گوشمالی کر سکوں فریقِ مخالف کا اس کے جواب میں کہنا تھا کہ:
1: آپ ان کو ہمارے حوالے کر دیں، ہم قصاص لے لیں گے۔
2: اگر یہ نہ کر سکیں تو ہمیں ان کی گرفتاری کی اجازت مرحمت فرما دیں اور ان کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود بھی صفین کے موقع پر جنگ کی ابتداء سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے نہ ہوئی تھی، بلکہ آپؓ تو دفاعی پوزیشن میں تھے پھر جنگ بندی کی سعادت بھی سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی۔
جبکہ بقول امامِ اہلِ سنت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ (متوفی 1383ھ):
لڑائی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھیوں کی سرکشی اور بزدلی سے بہت پریشانی رہی۔
(خلفائے راشدینؓ: صفحہ222 حالات حضرت علی المرتضیٰ، تحت جنگ صفین)
اگر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو دنیوی و ملکی امور میں رخنہ اندازی کا شوق ہوتا تو آپ جنگِ جمل ہی میں اپنی فوجیں لے آتے یا جنگِ نہروان کے بعد حملہ آور ہو جاتے، جبکہ اس وقت سیدنا علیؓ کے پاس تھوڑا سا علاقہ تھا ۔
مولانا عبدالشکور لکھنویؒ فرماتے ہیں:
جنگِ صفین کے بعد حضرت علیؓ کے قبضے سے تمام ملک نکل گیا، حتیٰ کہ آخر میں سوائے کوفہ اور مضافاتِ کوفہ کے آپؓ کے پاس کچھ نہیں رہ گیا۔
(ایضاً: صفحہ 216 حالات حضرت علی المرتضیٰؓ تحت حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافت)
یہی بات امام الہند سیدنا شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے بھی ازالۃ الخفاء (جلد1 صفحہ 479 فصل پنجم، بیان فتن) میں لکھی ہے۔
اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ چاہتے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد اپنی خلافت کا اعلان کر دیتے، لیکن انہوں نے ایسا بالکل نہیں کیا۔ جن کو حضورِ اکرمﷺ کی یہ بشارت ہو کہ:
مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِی سُفْيَانَ أَحْلَمُ أُمَّتِی وَأَجْوَدُهَا
(تطہیر الجنان واللسان: صفحہ 12 الفصل الثانی فی فضائلہ و مناقبہ و خصوصیاتہ الخ)
وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ لہٰذا قصاص جیسے شرعی اور دینی مسئلے کو دنیوی یا ملکی مسئلہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔