اگر واقعا معاویہ فقیہ عادل ہوتے حدیث رسول صلی الله عليه…

اگر واقعا معاویہ فقیہ عادل ہوتے حدیث رسول صلی الله عليه وآله وسلم من مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية رواه مسلم، کے تحت فورن مولا علی علیہ السلام کی بیعت کرتے نہ کہ بغاوت کرتے؟

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 2 از 2

تلبیہ کا ترک کرنا اور ابن عباس ؓ کا معاویہؓ پر لعنت کرنے والے اعتراض کا جواب پہلے ہی دے چکا ہوں کہ اس میں خالد بن مخلد شیعہ راوی ہے۔ اور یہ روایت اس کی بدعت کی تائید میں ہے کہ اس میں معاویہؓ کی برائی بیان کی جارہی ہے۔

لیکن اس بات کا رد کرنے کے بجائے سیف الاسلام نے یہ لکھا کہ

۔باقی آپ نے فرمایا یے داعی الی مذھب ھے تو جناب والا ھر جگہ پر یے قانون جاری نہیں ھوتا

مثلا شیعہ کھے خدا ایک ھے تو پھر کیا آپ دو خدا مانو گے؟

اگر شیعہ راوی کہے نبی معصوم عن الخطأ ھیں کیا آپ پھر انبیاء کے بارے میں  یہ کہو گے کہ وہ معصوم نہیں ہیں؟  

سیف الاسلام کا یہ لاعلمی والا جواب آپ نے دیکھ لیا ،حالانکہ آپ سمھجدار ہیں کہ یہاں بدعتی روای کی تائید کی بات چل رہی ہے۔

کیا شیعہ کا خدا کو ایک ماننا، نبی کریمﷺ کو معصوم کہنا، کیا یہ باتیں اس کی بدعت کی تائید میں ہیں؟؟

کس نے کہا ہے کہ اللہ کو ایک ماننا اور نبی ﷺ کو معصوم ماننا بدعت ہے؟؟

بغیر سوچے سمجھے الٹا سیدھا کچھ لکھ  دینے کو جواب نہیں کہا جاتا۔

رہا ابن عباسؓ کا معاویہؓ کو گدھا کہنا، تو اس کا بھی جواب دے چکا ہوں کہ عکرمہ خارجی تھا، اور یہ روایت شاذ ہے۔

جس پر جھنگوی نے جواب میں ابن حجرؒ کا حوالہ دے کر کہا کہ

 اس کی خارجیت قطع سےثابت نہیں ھے 

حالانکہ میں تھذیب التھذیب سے کئی محدثین کے حوالاجات سے ثابت کرچکا ہوں،

یہاں نقل کرتا ہوں۔

قال بن لهيعة وكان قد أتى نجدة الحروري ۔۔۔۔۔۔قال وكان يحدث برأي نجدة

وقال بن لهيعة عن أبي الأسود كان أول من أحدث فيهم أي أهل المغرب رأي الصفرية

وقال يعقوب بن سفيان سمعت بن بكير يقول قدم عكرمة مصر وهو يريد المغرب وترك هذه الدار وخرج إلى المغرب فالخوارج الذين بالمغرب عنه أخذوا

وقال علي بن المديني كان عكرمة يرى رأي نجدة

وقال يحيى بن معين إنما لم يذكر مالك بن أنس عكرمة لأن عكرمة كان ينتحل رأي الصفرية

وقال عطاء كان أباضيا

وقال مصعب الزبيري كان عكرمة يرى رأي الخوارج

عن أحمد قال خالد الحذاء كل ما قال بن سيرين نبئت عن بن عباس فقد سمعه من عكرمة قلت ما كان يسمى عكرمة قال لا محمد ولا مالك لا يسمونه في الحديث الا أن مالكا سماه في حديث واحد قلت ما كان شأنه قال كان من أعلم الناس ولكنه كان يرى رأي الخوارج رأي الصفرية وإنما أخذ أهل إفريقية رأي الصفرية

یہ میں نے تھذیب التھذیب سے آٹھ محدثین کے اقولات نقل کئے ہیں جنھوں نے عکرمہ کو خارجی کہا ھے، ابن لهيعة، أبو الأسود، ابن بكير، علي بن المديني، مالك بن أنس، عطاء، مصعب الزبيري، محمد بن سيرين رحمہم اللہ۔

اب بتائیں عکرمہ کا خارجی ھونا قطعیت سے ثابت ہوا کہ نہیں؟

دوسری بات یہ کے میں متقدمین محدثین کے بات نقل کررہا ہوں اور آپ ابن حجرؒ اور علامہ عجلیؒ کی بات، حالانکہ آپ کے خیر طلب صاحب نے میری ایک بات کا جواب دیتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ

[متقدمین رجالیوں کی بات اس وجہ سے مانی جاتی ہے کہ عموما ان میں سے اغلبیت اقوال حسی ہوتے ہیں اور متأخرین کےاجتہاد پر مبنی ہوتے ہیں، تو اجتہاد کے اقول میں مناقشات ہوتے ہیں اور حسی اقوال میں عدم تعارض کے ہوتے ہوئے مناقشہ نہیں ہوتا]۔(اسکین نیچے دیا ہے)۔

تو آپ کے مناظر محقق خیر طلب صاحب کی اس بات کی مطابق عکرمہ کے بارے میں آپ کے پیش کردہ ابن حجرؒ اور علامہ عجلیؒ والی بات اجتہادی ہے اور میرے پیش کردہ بات حسی ہے، تو میری بات قابل قبول ہے نہ کہ آپ کی۔

نوٹ۔ خیر طلب صاحب کے اس بات کا رد میں انہی کی ایک دوسری تحریر سے کرونگا کہ جس میں وہ متقدمین کو چھوڑ کر متاخرین کی بات لے رہے ہیں۔

صفحہ 2 از 2