شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط ششم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط ششم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 2
یا اللہ یہ شخص ایسے دو بزرگوں کو گالیاں دیتا ہے جن کے اعمال کے متعلق آپ کو بخوبی علم ہے (کہ وہ کس قدر نیک تھے) اے اللہ جو کچھ یہ ان دونوں کے بارے میں کہتا ہے اگر آپ کو ناپسند ہے تو مجھے اس میں کوئی نشانی دکھا دیجیے چنانچہ میں نے دیکھا کہ (اس پر اللہ کا غضب اترا اور) اس کا منہ سیاہ ہو گیا جیسا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ 
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا گستاخ بجلی کی لپیٹ میں:
ابو نضرۃ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمانؓ کو برا کہہ رہا تھا، ہم نے اس کو روکا کہ حضرت عثمانؓ کے بارے میں اس طرح کی گفتگو نہ کرو تو اس نے ہماری بات نہ سنی اور آپ کی گستاخی سے باز نہ آیا۔ اتنے میں اچانک ایک زوردار بجلی چمکی اور اس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اسے جلا دیا۔
فجاءت صاعقۃ فاحترقتہ۔
(مختصر تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 268) 
ترجمہ: تمام قاتل اپنے انجام کو پہنچے۔
سیدنا عثمانؓ کے قتل کے جن لوگوں نے منصوبے بنائے اور اس ارادہ سے وہ مدینہ آئے اور انہوں نے اس گھناؤنی واردات میں حصہ لیا وہ سب ظالم خدا کی پکڑ میں آئے، اس ظلم میں مصری باشندے بہت آگے تھے عبداللہ ابنِ سبا اور اس تحریک کی قیادت یہیں تھی پھر ایک وقت آیا کہ خود عبداللہ ابنِ سباء کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج نے گرفتار کیا اور اسے اس کے گندے عقائد کی سزا میں آگ میں جلا دیا۔
فامر باحراق قوم منھم فی حفرتین۔
(الفرق بین الفرق: صفحہ، 177)
(صحیح بخاری: جلد، 1 صفحہ، 423) 
شیعہ عالم ابو عمرو احمد بن عبدالعزیز لکھتا ہے کہ امیر المؤمنین (سیدنا علیؓ نے ابنِ سباء سے کہا) کہ تجھ پر شیطان سوار ہے تو اپنی ان حرکتوں سے باز آجا اور توبہ کر لے لیکن اس نے آپ کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو آپؓ نے اسے تین دن قید میں رکھا اور اس کے بعد زندہ جلا دیا۔ 
(رجال کشی: جلد، 2 صفحہ، 183)
تاریخ طبری سے معلوم ہوتا ہے کہ بصرہ کے جو لوگ اس فساد میں شریک ہوئے وہ سب کے سب بھی بالآخر قتل کئے گئے ان میں سے کوئی بھی نہ بچا، اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا انتقام لیتے ہیں اور انہیں دنیا میں بھی نشانہ عبرت بناتے ہیں۔ سیدنا عثمانؓ کے خلاف اٹھنے والوں میں سے شاید ہی کوئی بچا ہو جسے اس دنیا میں خون اور ذلت کا عذاب نہ دیکھنا پڑا ہو، ان میں سے ہر ایک یکے بعد دیگرے خدا کی گرفت میں آیا اور اس نے اللہ کے نیک بندے کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی دنیوی سزا بھی دیکھی اور آخرت میں پکڑ اور وہاں کی رسوائی و ذلت تو آپؓ کا ہر گستاخ دیکھے گا۔ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بدعا تھی آپؓ نے اللہ کے حضور عرض کیا تھا کہ اے اللہ تو ان سب کو گن رکھنا، ان سب کو اپنے عبرتناک انجام سے دوچار کرنا اور ان میں سے کوئی باقی نہ بچے۔ 
اللہم احصھم عددا و اقتلھم بددا ولا یبق منھم ابدا۔
(رواہ ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 50) 
حضرت امام مجاہدؒ لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خون میں جو بھی شریک ہوا اللہ نے سب کو عبرتناک انجام سے دو چار کیا تھا۔
فقتل اللہ منھم من قتل فی الفتنۃ۔
(مختصر تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 206)
(موسوعہ آثار الصحابہؓ: جلد، 2 صفحہ، 33)
رنگ جب محشر میں لائے گی تو اڑ جائے گا رنگ
یہ نہ سمجھیے کہ سرخی خون شہیداں کچھ نہیں۔نہیں۔

صفحہ 2 از 2