ام المؤمنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 3

کَلَّا وَاللّٰہِ مَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا، اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔

ترجمہ: خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کس و ناتواں لوگوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، دوسروں کو مال و اخلاق سے نوازتے ہیں۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق بجانب امور میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

نمبر 2: اسلام کی خاتونِ اوّل ہونے کا اعزاز:

سیدہ خدیجہؓ نزولِ وحی کے ابتدائی ایام میں آپﷺ‎ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مکہ کی پوری آبادی میں موحد صحیح العقیدہ نصرانی اور توریت و انجیل کے بڑے عالم و عامل تھے، انہوں نے آپﷺ‎ سے غارِ حرا میں جبرائیل علیہ السلام اور نزولِ وحی کی سرگزشت سن کر پختہ یقین کے ساتھ آپﷺ‎ کے نبی ہونے کی بات کہی تو آپؓ نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ پوری امت میں سیدہ خدیجہؓ سب سے پہلے آپﷺ کے برحق نبی ہونے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔

نمبر 3: اپنی دولت رسول اللہﷺ پر لٹا دی:

سیدہ خدیجہؓ کو اللہ کریم نے دولت مندی کی نعمت سے بھی خوب نوازا تھا، آپؓ نے اپنی پوری دولت اور اپنے غلام سیدنا زیدؓ کو آپﷺ‎ کے قدموں میں ڈال دیا اور آپﷺ‎ کو دین اسلام کی اشاعت کے مقدس مشن میں گھریلو معاشی افکار سے بے نیاز کر دیا۔

نمبر 4: بت پرستی سے بیزاری:

اہلِ مکہ بت پرستی کے شرک میں مبتلا تھے، لیکن جاہلیت کے اس دور میں گنتی کے دو چار آدمی ایسے بھی تھے جن کو فطری طور پر بت پرستی سے نفرت تھی، ان میں ایک ام المومنین سیدہ خدیجہؓ بھی تھیں۔

نمبر 5: شِعْبِ ابی طالب میں تین سالہ محصوری:

مشرکینِ مکہ نے نبی کریمﷺ‎ کی دعوتِ اسلام کو روکنے کے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے یہاں تک کہ انہوں نےآپﷺ‎ کا اور آپﷺ ‎کے خاندان بنو ہاشم کے ان تمام لوگوں کا بھی جنہوں نے اگرچہ آپﷺ کی دعوتِ اسلام کو قبول نہیں کیا تھا لیکن نسبی اور قرابتی تعلق کی وجہ سے آپﷺ کی کسی درجہ میں حمایت کرتے تھے سوشل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور آپﷺ کے وہ قریبی رشتہ دار بھی شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے، کھانے پینے اور بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا اور یہ بائیکاٹ تین سال کے عرصہ تک محیط رہا، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کبھی کبھی درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرنا پڑا۔ ایامِ محصوری کے اس تین سالہ دور میں سیدہ خدیجہؓ نبی کریمﷺ‎ کے ہمراہ رہیں۔

نمبر6: آپؓ کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہیں کیا:

نبی کریمﷺ‎ نے جب ام المومنین سیدہ خدیجہؓ سے شادی کی اس کے بعد تقریباً 24 سال تک آپؓ زندہ رہیں، اس پورے 24 سالہ دور میں رسول اللہﷺ‎ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔

وفات:

ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ 24 سال تک نبی کریمﷺ‎ کی جانثار، اطاعت گزار اور وفا شعار بیوی بن کر زندہ رہیں اور ہجرت سے 3 برس قبل 64 سال کی عمر پا کر تقریباً ماہِ رمضان المبارک کی 10 تاریخ کو مکہ معظمہ میں وفات پا گئیں۔ حضورﷺ‎ نے جحون (جنت المعلی) میں آپؓ کو اپنے ہاتھوں قبر مبارک میں اتارا۔ چونکہ اس وقت تک نمازِ جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا، اس لئے ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی گئی۔


صفحہ 3 از 3