ام المؤمنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

ذرا آپ تصور کریں عرب کے اس فحش معاشرے میں جہاں صدیوں سے شراب و کباب اور عورت کی آبرو سرِ عام بکتی ہو، ایسے میں 25 سال تک جوانی کی اُمنگوں اور جذبات کے ولولوں کو ضبطِ نفس کی پاکیزگی میں ڈھانپ کر کسی نوجوان دو شیزہ سے نہیں بلکہ 40 سالہ بیوہ عورت سے شادی کر کے پاکبازی کی ایسی مثال قائم کی جس کی مثال نہ پہلے ملتی ہے نہ بعد میں، دونوں کا کردار اتنا اجلا اور شفاف کہ دشمن تک کو اخلاقی پہلو پر منفی بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

سیدہ خدیجہؓ کی وجہ انتخاب:

ام المومنین سیدہ خدیجہؓ کی رسول اللہﷺ سے گفتگو ان الفاظ میں موجود ہے:

انی رغبت فیک لحسن خلقک و صدق حدیثک

ترجمہ: میں نے آپ کو آپ کے حسن اخلاق اور زبان کی سچائی کی وجہ سے اپنے لیے منتخب کیا۔

فضائل و مناقب:

سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، سیدہ خدیجہؓ خود بیان کرتی ہیں کہ جبرائیل امین رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہﷺ یہ خدیجہؓ آرہی ہیں ان کے ساتھ ایک برتن ہے اس میں سالن اور کھانا ہے، جب وہ آپں کے پاس آجائیں تو ان کو ان کے پروردگار کی طرف سے سلام پہنچایئے اور میری طرف سے بھی، اور ان کو خوشخبری سنایئے جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی، جس میں نہ شور و شغب ہوگا اور نہ کوئی زحمت و مشقت ہو گی۔

حافظ ابنِ حجرؒ نے لکھا ہے: ان ذالک کان وھو بحرا۔

ترجمہ: یعنی جبرائیل علیہ السلام کی یہ آمد اس وقت ہوئی تھی جب رسول اللہﷺ‎ غارِ حرا میں تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ غارِ حرا میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی پہلی آمد کے بعد کا ہے۔

اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ مکہ کی سب سے زیادہ دولت مند اور بوڑھی خاتون ہونے کے باوجود حضورﷺ‎ کے لئے کھانے پینے کا سامان گھر پر تیار کر کے مکہ سے اڑھائی تین میل پیدل سفر کرنا بلکہ غارِ حرا کی بلندی تک چڑھنا کس قدر دشوار معلوم ہوتا ہے؟ چونکہ یہ عمل خلوص دل سے تھا اس لیے پروردگارِ عالم اور جبرئیل امین علیہ السلام کے سلام پہنچتے ہیں۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ سے روایت ہے، نبی کریمﷺ‎ نے ارشاد فرمایا: اس دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر خدیجہ بنتِ خویلدؓ ہیں۔

سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کی مجھے رسول اللہﷺ‎ کی ازواج میں سے کسی پر ایسا رشک نہیں آیا جیسا کہ سیدہ خدیجہؓ پر آیا حالانکہ میں نے ان کو دیکھا نہیں، لیکن آپﷺ‎ ان کو بہت یاد کرتے اور بکثرت ان کا ذکر فرماتے، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ آپ بکری ذبح فرماتے، پھر اس میں سے حصے بنا کر سیدہ خدیجہؓ سے میل جول اور محبت رکھنے والیوں کے ہاں بھیجتے۔

بسا اوقات میں کہہ دیتی دنیا میں بس سیدہ خدیجہؓ ہی ایک عورت تھیں، اس پر آپﷺ‎ فرماتے کہ خدیجہ تو خدیجہ تھی اور ان سے میری اولاد ہوئی۔

نوٹ: آپﷺ‎ کی ساری اولاد ام المومنین سیدہ خدیجہؓ سے ہے سوائے سیدنا ابراہیمؓ کے یہ سیدہ ماریہ قبطیہؓ کی بطن سے پیدا ہوئے۔ جن کا مستقل تذکرہ کتاب کے آخر میں آ رہا ہے۔

اولاد:

محدثین نے لکھا ہے کہ نبی کریمﷺ‎ کی عمر مبارک جب 30 برس کی ہوئی یعنی رشتہ ازدواج کے تقریباً 5 سال بعد آپﷺ‎ کے پہلے صاحب زادے قاسم پیدا ہوئے، انہیں کے نام پر رسول اللہﷺ‎ نے اپنی کنیت ابو القاسم رکھی، ان کاچھوٹی عمر میں ہی انتقال ہوگیا، ان کے بعد آپؓ کی سب سے بڑی صاحب زادی سیدہ زینبؓ پیدا ہوئیں، ان دونوں کی پیدائش اعلانِ نبوت سے پہلے ہوئی، اس کے بعد صاحبزادے عبداللہ کی ولادت ہوئی، ان کی پیدائش دورِ نبوت میں ہوئی اسی لئے ان کو طیب اور طاہر کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا انتقال بھی کم سنی میں ہوگیا، پھر ان کے بعد مسلسل تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں جن کے نام سیدہ رقیہؓ، سیدہ امِ کلثومؓ اور سیدہ فاطمہؓ رکھے گئے۔

امتیازی خصوصیات:

نمبر1: کڑے حالات میں تسلی:

نکاح کے تقریباً 15برس بعد اللہ تعالیٰ نے آپﷺ‎ کو شرف ختمِ نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپﷺ‎ پر شدید حالات آئے تو اس کڑے وقت آپﷺ‎ کو جس طرح کی دانش مندانہ و ہمدردانہ تسلی کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و توفیق سے سیدہ خدیجہؓ ہی سے ملی۔

آپﷺ‎ اعلانِ نبوت سے پہلے تنہائی میں عبادت کرنے کے لئے غارِ حرا میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور سیدہ سیدہ خدیجہؓ آپﷺ‎ کے لئے کھانے پینے کا سامان تیار کر کے دے دیا کرتی تھیں۔ آپﷺ‎ حرا میں کئی کئی راتیں ٹھہرتے، اللہ کی یاد میں مصروف رہتے، کچھ دنوں بعد تشریف لاتے اور سامان لے کر واپس چلے جاتے۔

ایک دن حسب معمول آپﷺ‎ غارِ حرا میں مشغول عبادت تھے کہ جبرئیل امین تشریف لائے اور فرمایا کہ اِقْرَأْ یعنی پڑھیئے! آپﷺ‎ نے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِیْ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرئیل امین نے آپﷺ‎ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے بھینچ کر چھوڑا اور عرض کی اِقْرَأْ (پڑھیئے) آپ نے بھر وہی جواب دیا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرائیل امین نے دوبارہ آپﷺ‎ کو اپنے سے چمٹا کر خوب زور سے دبا کر چھوڑا اور پھر پڑھنے کو کہا۔ آپﷺ‎ نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں فرشتے نے پھر تیسری مرتبہ آپﷺ‎ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹایا اور خوب زور سے دبا کر آپﷺ‎ کو چھوڑ دیا اور خود پڑھنے لگے:

اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَ‌۞ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ‌۞ اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ۞ الَّذِىۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ۞ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ۞

(سورة العلق: آیت 1 2 3 4 5)

یہ آیات مبارکہ سن کر آپﷺ‎ نے یاد فرما لیں اور ڈرتے ہوئے گھر تشریف لائے سیدہ خدیجہؓ سے فرمایا: زملونی زملونی مجھے کپڑا اوڑھا دو مجھے کپڑا اوڑھا دو۔انہوں نے آپﷺ‎ کو کپڑا اوڑھا دیا اور کچھ دیر بعد وہ خوف کی کیفیت ختم ہوئی، آپﷺ‎ نے سیدہ خدیجہؓ کو واقعہ سنایا،فرمایا: لَقَدْ خَشِيْتُ عَلىٰ نَفْسِی۔

ترجمہ: مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہو رہا ہے

عموماً خواتین ایسے حالات میں گھبرا جاتی ہیں اورتسلی دینےکے بجائے پریشان کن باتیں شروع کر دیتی ہیں لیکن آپؓ ذرہ برابر بھی نہ گھبرائیں اور تسلی دیتے ہوئے فرمایا:

صفحہ 2 از 3