تنقیح اول حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت علی…

تنقیح اول حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے رویہ

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 2

ضرار صدائی جو حضرت علیؓ کے خاص حمایتی لوگوں میں سے تھے، ان سے ایک مرتبہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت علیؓ کے اوصاف بیان کرو انہوں نے غیر معمولی اوصاف بیان کیے تو فرمایا:  

رَحِمَ اللهُ أَبَا الْحَسَنِ! كَانَ وَاللهِ! كَذَلِكَ۔  

(الاستیعاب: جلد3 صفحہ209 تحت تذکرہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ)  

ترجمہ: اللہ سیدنا ابو الحسن (علی رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔

اس حقیقت کا انکار اہلِ تشیع بھی نہ کر سکے۔

چنانچہ شیعہ مجتہد ہاشم بحرانی لکھتے ہیں:  

فَذَرَفَتْ دُمُوعُ مُعَاوِيَةَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا يَمْلِكُهَا وَهُوَ يَنْشِفُهَا بِكُمِّهِ وَقَدِ احْتَنَقَ الْقَوْمُ بِالْبُكَاءِ، ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: رَحِمَ اللهُ أَبَا الْحَسَنِ وَاللهِ كَذَلِكَ 

(حلیۃ الابرار: جلد1 صفحہ345)  

ترجمہ: حضرت علیؓ کے فضائل سن کر بے اختیار حضرت امیرِ معاویہؓ کے آنسو ان کی داڑھی مبارک پر گرنے لگے اور وہ انہیں اپنی آستین کے ساتھ پونچھتے رہے اور قوم کے گلے روتے روتے بند ہو گئے پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ نے (ضرار صدائی سے مخاطب ہو کر) کہا کہ اللہ سیدنا ابو الحسنؓ پر رحم کرے، اللہ کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔

یہی روایت شیعہ کی دیگر کتابوں مثلاً 

امالی شیخ صدوق (مجلس 9 صفحہ 371 المجلس الحادی والتسعون) 

درِ نجفیہ (صفحہ360) 

شرح ابنِ ابی الحدید (جلد4 صفحہ473) میں بھی اختلافِ الفاظ کے ساتھ موجود ہ ۔

قارئینِ محترم! حقائق و واقعات کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ مشتے نمونہ و از خروارے چند واقعات نقل کر دیے ہیں، جن سے آپ سیدنا امیرِ معاویہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کا کامل مصداق پائیں گے ان کے درمیان جو اختلافات تھے وہ فسادِ نیت پر نہیں بلکہ غلط فہمیوں پر مبنی تھے اور غلط فہمی کے دوران نفوسِ قدسیہ کے درمیان کشمکش کا پیدا ہو جانا مستبعد نہیں ہے۔ حجۃ الاسلام سیدنا مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ (متوفی 1297ھ) فرماتے ہیں:  

سیدنا امیرِ معاویہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا معاملہ حضرت ہارون و حضرت موسیٰ علیہما السلام جیسا تھا ہم کو تو اب یہی لازم ہے کہ ان کی عیب چینی نہ کریں اور یوں سمجھیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اگر باہم کچھ مناقشہ ہوا بھی تو وہ ایسا ہی تھا جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت خضر علیہ السلام میں یہ جھگڑے و قال و قیل ہوئے یہ سب قصے کلام اللہ میں موجود ہیں، انکار کی کوئی گنجائش نہیں مناقشاتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہ تو کلامِ اللہ میں مذکور ہیں نہ حدیث میں ذکر ہے، تاریخ میں ان افسانوں کا بیان ہے۔ سو تاریخوں کا ایسا کیا اعتبار اور وہ بھی شیعوں کی تاریخوں کا اعتبار؟  

(اجوبہ اربعین: صفحہ188)

اب یہ مصنفِ نام و نسب ہی بہتر جانتے ہیں کہ وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اور کس رویے کے خواہاں ہیں۔


صفحہ 2 از 2