جہاں تک موصوف کے اس جملہ فقرہ کا تعلق ہے تو یہ کم فہم و کم سواد اس فقرے کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے یہ بات تو ہم پہلے نقل کر ہی آئے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خود سے افضل بھی مانتے تھے اور احق بالخلافہ بھی ہاں یہ ضروری ہے کہ انہوں نے اپنی بیعت کو قصاصِ دمِ عثمانؓ سے مشروط کر دیا تھا۔
اگر مصنفِ مذکور صفین کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جنگِ صفین میں پہل سیدنا علی المرتضیٰؓ کی طرف سے ہوئی تھی جب عراقی فوجیں مقامِ دخلیہ تک پہنچ گئیں تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو مجبوراً دفاع کے لیے نکلنا پڑا۔
حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:
لم یکن معاویۃ ممن یختار الحرب ابتداء بل کان من اشد الناس حرصا علی ان لا یکون قتالا۔
(منہاج السنہ: جلد 2 صفحہ219 فصل قال الرافضی و کان بالیمین یوم الفتح الخ)
ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ جنگ کی ابتدا کرنے والے نہ تھے بلکہ آپؓ تو اس بات کے سب سے زیادہ خواہاں تھے کہ (مسلمانوں میں باہمی) جنگ و قتال کی نوبت نہ آئے۔
اسی طرح جنگ بندی کی ابتداء بھی حضرت امیرِ معاویہؓ کی جانب سے ہوئی جب کثیر تعداد میں لوگ شہید ہو گئے تو حضرت امیرِ معاویہؓ نے فرمایا:
قَدْ فَنِی النَّاسُ فَمَنْ لِلثُّغُورِ؟ مَنْ لِلْجِهَادِ الْمُشْرِكِينَ وَالْكُفَّارِ
(البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ273 تحت سنہ 37ھ)
ترجمہ: اگر لوگ یوں ہی فنا ہو گئے تو سرحدوں کی حفاظت کون کرے گا اور کون مشرکین و کفار سے جہاد کرے گا؟
حافظ ابنِ اثیر الجزریؒ (متوفی 630ھ) کا بیان ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
هَذَا حُكْمُ كِتَابِ اللهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، فَمَنْ لِثُغُورِ الشَّامِ بَعْدَ أَهْلِهِ، وَمَنْ لِثُغُورِ الْعِرَاقِ بَعْدَ أَهْلِهِ؟
(الکامل لابنِ اثیر: جلد3 صفحہ161 ذکر تتمۃ امر صفین، تحت سنہ 37ھ)
ترجمہ: یہ کتاب اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان حَکَم ہے اہلِ شام کے نہ رہنے کے بعد شام کی سرحدوں کی حفاظت کون کرے گا؟ اور اہلِ عراق کے نہ رہنے کے بعد عراق کی سرحدوں کی نگرانی کون کرے گا؟
مفکرِ اسلام سیدنا ڈاکٹر خالد محمود صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
جنگِ صفین میں باوجود اس کے کہ شامی افواج بہت ہی قوی اور کثیر تھیں، آپ نے کھلے قرآن کا واسطہ دے کر خون ریزی کو بند کرایا اور معاملے کو حل کرنے کے لیے فکر و تدبر و نظر و استدلال کی راہ اختیار فرمائی یہ گمان ہرگز نہ کیا جائے کہ آپؓ کا لڑائی سے طبعاً دور ہونا کسی کمزوری یا بزدلی کی وجہ سے تھا جس ذاتِ گرامی نے روم کی سیاسی قوت پر وہ کاری ضرب لگائی ہو کہ صدیوں کا تمدن اور سالہا سال کی قلت سب پامال کر کے رکھ دی ہو، اس کے بارے میں ایسا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا علامہ ابنِ کثیرؒ البدایہ والنہایہ جلد، 8 صفحہ، 133 میں لکھتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ رومی ممالک پر سولہ 16 دفعہ حملہ آور ہوئے بحری لڑائیوں میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی پیش قدمی تاریخِ اسلام کے وہ انمٹ نقش ہیں جنہیں مستقبل کی کوئی غلط بیانی نہیں دھو سکتی۔ (عقبات: صفحہ231)
جب سیدنا امیرِ معاویہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے مابین جنگ جاری تھی تو شاہِ روم نے مسلمانوں کی باہمی چپقلش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام پر حملہ کرنے کے لیے عظیم لشکر جمع کیا جب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے قیصرِ روم کے نام خط لکھا کہ:
اگر تم نے اپنا ارادہ پورا کرنے کی ٹھان لی ہے تو میں قسم کھاتا ہوں کہ اپنے ساتھی حضرت علیؓ سے صلح کر لوں گا، پھر تمہارے خلاف ان کا جو لشکر روانہ ہو گا اس کے پہلے سپاہی کا نام معاویہ ہو گا اور میں قسطنطنیہ کو جلا ہوا کوئلہ بنا دوں گا اور تمہاری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ کر پھینکوں گا۔
(تاج العروس: جلد7 صفحہ 208 مادہ اصطفین)
حافظ ابنِ کثیرؒ (متوفی 774ھ) اسی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَاللهِ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ وَتَرْجِعْ إِلَى بِلَادِكَ يَا لَعِينُ لَأَصْطَلِحَنَّ أَنَا وَابْنُ عَمِّی عَلَيْكَ وَلَأُخْرِجَنَّكَ مِنْ جَمِيعِ بِلَادِكَ، وَلَأُضَيِّقَنَّ عَلَيْكَ الْأَرْضَ بِمَا رَحُبَتْ فَعِنْدَ ذَلِكَ خَافَ مَلِكُ الرُّومِ وَانْكَفَّ
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ119 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)
ترجمہ: اے لعین! اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے شہروں کی طرف مراجعت نہ کی تو اللہ کی قسم! میں اور میرے چچا کے بیٹے تیرے خلاف صلح کر لیں گے اور تجھے تیرے ملک سے نکال باہر کریں گے اور زمین کو باوجود وسعت کے تم پر تنگ کر دیں گے۔ قیصرِ روم اس خط سے ڈر گیا اور اپنے ارادے سے باز آ گیا۔
محمد بن محمود الآملی نے نفائس الفنون میں ذکر کیا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سامنے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا تو آپؓ نے فرمایا:
كَانَ عَلِی وَاللهِ كَاللَّيْثِ إِذَا دَعَا، وَكَالْبَدْرِ إِذَا بَدَا، وَكَالْمَطَرِ إِذَا عَدَا فقال له بعض من حضر: أنت أم علی؟ فقال: خُطُوطٌ مِنْ عَلِی خَيْرٌ مِنْ آلِ أَبِی سُفْيَانَ
(الناہیہ: صفحہ 33 فضل فی فضائل معاویۃؓ)
ترجمہ: واللہ حضرت علیؓ شیر کی مانند تھے جب پکارتے تھے، بدرِ کامل کی مانند تھے جب ظاہر ہوتے تھے، بارانِ رحمت کی مانند تھے جب بخشش کرتے تھے۔
حاضرین میں سے کسی نے کہا: آپؓ افضل ہیں یا سیدنا علیؓ؟ فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چند خطوط بھی آلِ ابی سفیانؓ سے افضل ہیں۔
جب سیدنا علیؓ کی شہادت کی اطلاع سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپؓ رونے لگے۔ اہلیہ محترمہ نے کہا: زندگی میں لڑتے رہے اب رو رہے ہیں؟ تو فرمایا:
وَيْحَكِ! إِنَّكِ لَا تَدْرِينَ مَا فَقَدَ النَّاسُ مِنَ الْفَضْلِ وَالْفِقْهِ وَالْعِلْمِ
(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ129 تحت ترجمہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما وذکر شیء من ایامہ و دولتہ)
ترجمہ: تمہیں نہیں معلوم کہ ان کی وفات سے کیسی فقہ اور کیسا علم رخصت ہو گیا۔
ضرار صدائی جو حضرت علیؓ کے خاص حمایتی لوگوں میں سے تھے، ان سے ایک مرتبہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت علیؓ کے اوصاف بیان کرو انہوں نے غیر معمولی اوصاف بیان کیے تو فرمایا:
رَحِمَ اللهُ أَبَا الْحَسَنِ! كَانَ وَاللهِ! كَذَلِكَ۔
(الاستیعاب: جلد3 صفحہ209 تحت تذکرہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ)
ترجمہ: اللہ سیدنا ابو الحسن (علی رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔
اس حقیقت کا انکار اہلِ تشیع بھی نہ کر سکے۔
چنانچہ شیعہ مجتہد ہاشم بحرانی لکھتے ہیں:
فَذَرَفَتْ دُمُوعُ مُعَاوِيَةَ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمَا يَمْلِكُهَا وَهُوَ يَنْشِفُهَا بِكُمِّهِ وَقَدِ احْتَنَقَ الْقَوْمُ بِالْبُكَاءِ، ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: رَحِمَ اللهُ أَبَا الْحَسَنِ وَاللهِ كَذَلِكَ
(حلیۃ الابرار: جلد1 صفحہ345)
ترجمہ: حضرت علیؓ کے فضائل سن کر بے اختیار حضرت امیرِ معاویہؓ کے آنسو ان کی داڑھی مبارک پر گرنے لگے اور وہ انہیں اپنی آستین کے ساتھ پونچھتے رہے اور قوم کے گلے روتے روتے بند ہو گئے پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ نے (ضرار صدائی سے مخاطب ہو کر) کہا کہ اللہ سیدنا ابو الحسنؓ پر رحم کرے، اللہ کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔
یہی روایت شیعہ کی دیگر کتابوں مثلاً
امالی شیخ صدوق (مجلس 9 صفحہ 371 المجلس الحادی والتسعون)
درِ نجفیہ (صفحہ360)
شرح ابنِ ابی الحدید (جلد4 صفحہ473) میں بھی اختلافِ الفاظ کے ساتھ موجود ہ ۔
قارئینِ محترم! حقائق و واقعات کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ مشتے نمونہ و از خروارے چند واقعات نقل کر دیے ہیں، جن سے آپ سیدنا امیرِ معاویہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کا کامل مصداق پائیں گے ان کے درمیان جو اختلافات تھے وہ فسادِ نیت پر نہیں بلکہ غلط فہمیوں پر مبنی تھے اور غلط فہمی کے دوران نفوسِ قدسیہ کے درمیان کشمکش کا پیدا ہو جانا مستبعد نہیں ہے۔ حجۃ الاسلام سیدنا مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ (متوفی 1297ھ) فرماتے ہیں:
سیدنا امیرِ معاویہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا معاملہ حضرت ہارون و حضرت موسیٰ علیہما السلام جیسا تھا ہم کو تو اب یہی لازم ہے کہ ان کی عیب چینی نہ کریں اور یوں سمجھیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اگر باہم کچھ مناقشہ ہوا بھی تو وہ ایسا ہی تھا جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت خضر علیہ السلام میں یہ جھگڑے و قال و قیل ہوئے یہ سب قصے کلام اللہ میں موجود ہیں، انکار کی کوئی گنجائش نہیں مناقشاتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہ تو کلامِ اللہ میں مذکور ہیں نہ حدیث میں ذکر ہے، تاریخ میں ان افسانوں کا بیان ہے۔ سو تاریخوں کا ایسا کیا اعتبار اور وہ بھی شیعوں کی تاریخوں کا اعتبار؟
(اجوبہ اربعین: صفحہ188)
اب یہ مصنفِ نام و نسب ہی بہتر جانتے ہیں کہ وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اور کس رویے کے خواہاں ہیں۔