خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 3

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ 

(صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 1054 کتاب الفتن، صحیح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 390 کتاب الفتن و اشراط الساعۃ)

ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں آپس میں قتال نہ کریں ان کے درمیان زبردست خون ریزی ہو گی، حالانکہ دونوں کی دعوت ایک ہو گی۔

اس کے علاوہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم ہی فرماتے ہیں: 

علماء نے فرمایا ہے کہ اس حدیث میں دو عظیم جماعتوں سے مراد سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جماعتیں ہیں۔ (شرح مسلم للنودی: جلد، 2 صفحہ، 390) اور آنحضرتﷺ نے ان دونوں کی دعوت ایک قرار دیا ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے بھی پیشِ نظر طلبِ اقتدار نہیں تھا، بلکہ دونوں (جماعتیں) اسلام ہی کی دعوت کو لے کر کھڑی ہوئی تھیں اور اپنی رائے کے مطابق دین ہی کی بھلائی چاہتی تھیں۔  

یہی وجہ ہے کہ جنگِ صفین کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت پر یہ واضح نہ ہو سکا کہ حق کس جانب ہے، اس لیے وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہے بلکہ امام محمد بن سیرینؒ (متوفی 110 ہجری) کا تو کہنا یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت اس جنگ میں شریک نہیں تھی۔  

(منہاج السنہ: جلد، 3 صفحہ، 186)

سوال یہ ہے کہ اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مؤقف صراحتاً باطل تھا اور معاذ اللہ فسق تھا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اتنی بڑی تعداد نے کھل کر سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ساتھ کیوں نہ دیا؟ اگر وہ صراحتاً برسرِ بغاوت تھے تو قرآنِ کریم کا یہ کھلا ہوا حکم تھا کہ ان سے قتال کیا جائے، پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت نے اس قرآنی حکم کو کیوں پسِ پشت ڈال دیا؟

حافظ ابنِ کثیرؒ نے بھی مذکورہ دو حدیثیں اپنی تاریخ میں نقل کر کے لکھا ہے:  

وَفِيهِ أَنَّ أَصْحَابَ عَلِی أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ، وَهَذَا هُوَ مَذْهَبُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِی اللَّهُ عَنْهُ هُوَ الْمُصِيبُ، وَإِنْ كَانَ مُعَاوِيَةُ مُجْتَهِدًا وَهُوَ مَأْجُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ  

(البدایہ والنہایہ: جلد، 2 صفحہ، 279)

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اصحاب دونوں جماعتوں میں حق سے زیادہ قریب تھے، اور یہی اہلِ سنت والجماعت کا مسلک ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ برحق تھے، اگرچہ حضرت امیرِ معاویہؓ مجتہد تھے اور ان شاءاللہ اس اجتہاد پر انہیں بھی اجر ملے گا۔  

اس کے بعد امام نوویؒ کا حوالہ پیش کر کے حضرت مفتی صاحب مدظلہم لکھتے ہیں: یہ ہے اہلِ سنت کا صحیح مؤقف جو قرآن و سنت کے مضبوط دلائل، صحیح روایات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجموعی سیرتوں پر مبنی ہے اب اگر ان تمام روشن دلائل، قوی احادیث اور ائمہِ اہلِ سنت کے علی الرغم کسی کا دل ہشام کلبی اور ابو مخنف جیسے لوگوں کے بیان کیے ہوئے افسانوں پر فریفتہ ہے اور ان کی بناء پر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو موردِ الزام ٹھہرانے اور گناہ گار ثابت کرنے پر ہی مصر ہے، تو اس کے لیے ہدایت کی دعا کے سوا اور کیا جا سکتا ہے؟ جس شخص کو سورج کی روشنی کی بجائے اندھیرا ہی اچھا لگتا ہو، اس ذوق کا علاج کس کے پاس ہے؟ لیکن ایسا کرنے والے کو خوب اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ پھر معاملہ صرف سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کا نہیں، ان کے ساتھ سیدہ عائشہؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدنا عمرو بن العاصؓ، اور سیدنا عبادہ بن الصامتؓ پر بھی معاذ اللہ فسق کا الزام لگانا ہو گا اور پھر اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وہ عظیم الشان جماعت بھی اس ناوکِ تسفیق سے نہیں بچ سکتی، جنہوں نے نعوذ باللہ ان حضرات کو کھلے ہوئے فسق کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا، امتِ اسلامیہ کے ساتھ اس صریح دھاندلی کا آنکھوں سے نظارہ کیا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کو جو اس دھاندلی کے خلاف جہاد کر رہے تھے، بے یار و مددگار چھوڑ کر گوشۂِ عافیت کو اختیار کر لیا لہٰذا عشرہ مبشرہ میں سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور باقی اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا قدامہ بن مظعون، سیدنا کعب بن مالک، سیدنا نعمان بن بشیر، سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا حسان بن ثابت، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابو الدرداء، سیدنا ابو امامہ باہلی، سیدنا مسلمہ بن مخلد، اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہم جیسے حضرات کے لیے بھی یہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر باطل کے ہاتھ مضبوط کیے اور امامِ برحق کی اطاعت چھوڑ کر فسق کا ارتکاب کیا۔ 

اگر کوئی شخص یہ تمام باتیں تسلیم کرنے کو تیار ہے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھی فاسق قرار دے، لیکن پھر اس سے پردے میں رکھ کر بات کرنے کی بجائے کھل کر ان تمام باتوں کا اقرار کرنا چاہیے اور واضح الفاظ میں اعلان کر دینا چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں تعظیم و تقدیس کے عقائد، ان کی افضلیت کے دعوے، ان کے حق میں خیر القرون کے خطابات سب ڈھونگ ہیں، ورنہ عملاً ان میں اور آج کی دنیا پرست سیاستدانوں میں شمہ برابر کوئی فرق نہیں تھا۔

(ایضاً صفحہ، 244، 249 تحت جنگِ صفین کے فریقین کی حثیت) 

ان گزارشات کے بعد اگر مصنفِ نام و نسب کے تحریر کردہ اقتباس کی تنقیح کی جائے تو مصنف کا دعویٰ درجِ ذیل نکات میں پیش کیا جا سکتا ہے:  

1: سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا وہ کسی بھی لحاظ سے پسندیدہ نہ تھا۔  

2: کسی شرعی مسئلے میں حتیٰ الوسع جدوجہد کے بعد اجتہادی غلطی کا معاملہ کچھ اور ہے، مگر دنیوی اور ملکی امور میں ایسی اجتہادی خطا کو جو موجبِ فتنہ بنے باعثِ اجر و ثواب قرار دینا قرینِ دانش مندی و انصاف نہیں۔  

3: ہم ان کے اس طرزِ عمل کو اجتہادی کارنامہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔


صفحہ 3 از 3