خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 3

حضرت ابو الدرداء و حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہما فریقین میں رفعِ نزاع کی کوش کر رہے تھے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان سے کہا: سیدنا علی المرتضیٰؓ کو میری طرف سے جا کر بتلا دو:  

فَقُولَا لَهُ فَلْيُقِدْنَا مِنْ قَتَلَةِ عُثْمَانَ ثُمَّ أَنَا أَوَّلُ مِمَّنْ بَايَعَهُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ 

(البدایہ والنہایہ: جلد7 صفحہ 260 تحت سنہ 37ھ) 

ترجمہ: آپ کہیں کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو سزا دیں، پھر پہلا میں ہوں جو اہلِ شام میں سے ان کی بیعت کرے گا۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ خود بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اس دعویٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا نامہِ عنبہ شمامہ میں فرماتے ہیں:  

وَالظَّاهِرُ أَنَّ رَبَّنَا وَاحِدٌ، وَنَبِيَّنَا وَاحِدٌ، وَ دَعْوَتُنَا فِی الْإِسْلَامِ وَاحِدَةٌ، لَا نَسْتَزِيدُهُمْ فِی الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَالتَّصْدِيقِ بِرَسُولِهِ وَلَا يَسْتَزِيدُونَنَا، إِلَّا أَمْرٌ وَاحِدٌ اخْتَلَفْنَا فِيهِ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ، وَ نَحْنُ مِنْهُ بَرَاءٌ 

(نہج البلاغہ: صفحہ 182 مکتوب نمبر، 58)

ترجمہ: (صفین میں ہمارے اور اہلِ شام کے درمیان جو جنگ ہوئی، اس سے کوئی غلط فہمی نہ ہو) ظاہر ہے کہ ہمارا رب ایک ہے، ہمارے نبیﷺ ایک ہیں، اور ہماری دعوتِ اسلام ایک ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولﷺ کی تصدیق کا تعلق ہے، نہ ہم ان سے اس کے بارے میں کوئی مزید مطالبہ کرتے ہیں، نہ وہ ہم سے ہمارا سب کچھ ایک تھا سوائے اس کے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ کے خون کے معاملے میں ہمارا اختلاف ہوا اور ہم اس سے بری ہیں۔  

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ایک شخص کو اہلِ شام کے بارے میں نازیبا کلمات کہتے ہوئے سنا تو فرمایا:  

لَا تَقُولُوا إِلَّا خَيْرًا، إِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَيْنَا وَ بَغَيْنَا عَلَيْهِمْ فَقَاتَلْنَاهُمْ 

(منہاج السنہ: جلد3 صفحہ 61 فصل ولما قال السلف ان اللہ امر بالاستغفار لاصحاب محمدﷺ الخ)

ترجمہ: یوں مت کہو اور ان کے متعلق کلمہِ خیر ہی کہو ان لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم نے ان پر زیادتی کی ہے اور ہم نے یہ گمان کیا ہے کہ انہوں نے ہم پر زیادتی کی ہے، سو اس پر قتال واقع ہوا۔

شیعہ محدث ابو العباس عبداللہ بن جعفر حمیری قمی لکھتے ہیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اپنے ساتھ لڑنے والوں کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ان کی تکفیر کی بناء پر ان سے لڑائی نہیں کی، اور نہ ہی انہوں نے ہماری تکفیر کی بناء پر ہم سے لڑائی۔ وَلَكِنَّا رَأَيْنَا أَنَّا عَلَى حَقٍّ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ عَلَى حَقٍّ(قرب الاسناد: صفحہ45)

ترجمہ: اور لیکن ہم نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا اور انہوں نے خود کو حق پر سمجھا۔  

ایک مرتبہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کسی نے مقتولینِ صفین کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا:  

لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْ هَؤُلَاءِ وَقَلْبُهُ نَقِی إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ

(مقدمہ ابنِ خلدون: صفحہ215 فصل نمبر 30 تحت فی ولایۃ العہد)    

ترجمہ: ان میں سے جو بھی صفائی قلب کے ساتھ مرا ہو گا وہ داخلِ جنت ہو گا۔ اور:  

قَالَ عَلِی قَتْلَای وَقَتْلَى مُعَاوِيَةَ فِی الْجَنَّةِ۔ رواہ الطبرانی والرجالہ وثقوا

(مجمع الزوائد: جلد9 صفحہ 594 باب ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما) 

ترجمہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ دونوں کے مقتولین جنتی ہیں۔  

یہی وجہ ہے کہ اختتامِ جنگ پر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مقتولین کی تجہیز و تکفین کی اور خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی شاید تاریخِ عالم میں ایسی جنگ نہ ہوئی ہو کہ دن میں جن حضرات کے درمیان جنگ ہوتی، رات کو وہی فریق ایک دوسرے کے مقتولین کی تجہیز و تدفین میں حصہ لیتا۔

(حضرت امیرِ معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ، 243، 244 تحت جنگِ صفین کے فریقین کی صحیح حیثیت) 

مولانا حالی مرحوم (متوفی 1935 ہجری) نے بالکل صحیح کہا ہے:  

اگر اختلاف ان میں باہم دگر تھا  

تو بالکل مدار اس کا اخلاص پر تھا  

جھگڑے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا  

خلاف آشتی سے خوش آئند تر تھا

(صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 1054 کتاب الفتن)  

4: یہاں تک تو گفتگو تھی ہر دو فریق کے اخلاص پر، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اختلاف حضورِ اکرمﷺ کی نگاہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے حضورِ اکرمﷺ نے اپنی متعدد احادیث میں اس جنگ کی طرف اشارے دیے ہیں اور ان سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ‏ اس جنگ کو اجتہاد پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔ صحیح مسلم اور مسند احمد میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (متوفی 74 ہجری) سے متعدد صحیح سندوں کے ساتھ آنحضرتﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ:  

تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ 

(البدایہ والنہایہ: جلد، 7 صفحہ، 278) 

ترجمہ: مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے وقت ایک گروہ (امت سے) نکل جائے گا اور اس کو وہ گروہ قتل کرے گا جو مسلمانوں کے دونوں گروہوں میں حق سے زیادہ قریب ہو گا۔

شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: اس حدیث میں امت سے نکل جانے والے فرقے سے مراد باتفاق خوارج ہیں انہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جماعت نے قتل کیا، جن کو سرکارِ دو عالمﷺ نے اولی الطائفتین بالحق (دو گروہوں میں حق سے زیادہ قریب) فرمایا ہے آنحضرتﷺ کے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا اختلاف کھلا حق و باطل کا اختلاف نہیں ہو گا، بلکہ اجتہاد و رائے کی دونوں جانب گنجائش ہو سکتی ہے البتہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جماعت حق سے نسبتاً زیادہ قریب ہو گی اگر آپﷺ کی مراد یہ نہ ہوتی تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جماعت کو حق سے زیادہ قریب کی بجائے محض برحق جماعت کہا جاتا۔

(حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ، 243، 244 تحت جنگِ صفین کے فریقین کی صحیح حیثیت) 

اس طرح صحیح بخاری، صحیح مسلم اور حدیث کی متعدد کتابوں میں نہایت مضبوط سند کے ساتھ یہ حدیث آئی ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:  

صفحہ 2 از 3