Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دشمن کے مقابلہ میں متحدہ مؤقف کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

عہدِ عثمانی میں حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خراسان پر قیس بن الہیثم سلمیؓ کو اپنا نائب مقرر کیا۔ قیس وہاں سے روانہ ہوئے، طبسین ، بادغیس، ہراۃ اور قہستان سے بہت بڑی فوج جمع کی، اور چالیس ہزار فوج لے کر پہنچے۔ پھر قیس بن الہیثم سلمیؓ نے عبداللہ بن خازم سے مشورہ طلب کیا کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا میرا خیال یہ ہے کہ تم اس ملک کو میرے لیے چھوڑ دو، میں اس کا امیر ہوں، اور حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ جب خراسان میں جنگ ہو تو میں اس کا امیر ہوں گا۔ پھر اس سے متعلق عمداً گھڑی ہوئی تحریر پیش کر دی۔ قیسؓ نے اس سلسلہ میں اس سے تکرار کو ناپسند کیا، اور اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا اور امارت اس کو سونپ دی۔ قیس بن الہیثمؓ نے اپنے اس فعل سے متحدہ موقف اور اتحاد کو برقرار رکھنا چاہا تاکہ اختلاف کی وجہ سے فوج میں کمزوری نہ رونما ہو جائے اور پھر شکست کھانا پڑے، بہر حال اللہ کے فضل سے دشمن پر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔

(الادارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 189)