چلیے، کچھ دیر کے لیے ہم ان تمام دلائل کو چھوڑ کر مصنف کی تحریر کردہ جملوں پر غور کرتے ہیں کہ کیا اس سے فضائلِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تمام احادیث کی نفی ہو جاتی ہے؟ موصوف کا کہنا ہے:
صاحبِ فتح الباری فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنے کلام میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ لوگوں نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے لیے اپنی طرف سے فضائل و مناقب کی جو روایات گھڑ لی ہیں، ان کی کوئی اصل نہیں۔ اور فضائلِ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں بہت سی احادیث مروی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی روایت ایسی نہیں جو اسناد کے لحاظ سے صحیح ہو۔ (نام و نسب: صفحہ 515)
صاحبِ فتح الباری امام احمد رحمۃاللہ کا یہ اشارہ نقل کر رہے ہیں کہ لوگوں نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں جو روایات گھڑ لی ہیں، وہ جعلی اور من گھڑت ہیں، ان کی کوئی اصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ فضائلِ معاویہؓ میں کوئی روایت ثابت ہی نہیں ہے۔ خود حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی کتاب مسند احمد (جلد 4 صفحہ 127، 216) میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کی احادیث نقل کی ہیں۔
اگر وضعی اور گھڑی ہوئی روایات کے انکار سے کل روایات کی نفی لازم آتی ہے، تو قبلہ! سیدنا امیرِ معاویہؓ کا نمبر تو بعد میں ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے زیادہ کس کے فضائل میں احادیث وضع کی گئی ہیں؟
حافظ ذہبی رحمۃ اللہ (متوفی 748ھ) عامر الشعبیؒ کا قول نقل کرتے ہیں:
ما کذب علی أحد من هذه الأمة ما کذب علیٰ علیؓ
(تذکرۃ الحفاظ: جلد1 صفحہ82 تحت ذکر ابو عامر الشعبی، میزان الاعتدال: جلد1 صفحہ436 تحت ذکر الحارث بن عبد اللہ الاعور)
امت میں جس قدر جھوٹ سیدنا علیؓ پر باندھا گیا، اس قدر کسی پر نہیں باندھا گیا۔
حافظ ابنِ قیم جوزی رحمۃ اللہ (متوفی 751 ہجری) فرماتے ہیں:
قال الحافظ أبو یعلی الخلیلیؒ فی کتاب الارشاد: وضعت الرافضۃ فی علی و أهل البیت نحو ثلاث مائة ألف حدیث
(المنار المنیف: صفحہ 108فصل 30)
حافظ ابو یعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ کتاب الارشاد میں فرماتے ہیں کہ روافض نے فضائلِ علیؓ اور فضائلِ اہلِ بیتؓ میں تین لاکھ احادیث گھڑ کر پھیلا دی ہیں۔
حافظ خلیلی رحمۃاللہ کے اس ارشاد پر حافظ ابنِ قیم رحمۃاللہ یوں مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں:
ولا تستبعد هذا، فإنک لو تتبعت ما عندهم من ذلك، لوجدت الأمر کما قال
(ایضاً)
اور (حافظ خلیلیؒ کی) اس بات میں کوئی استبعاد نہیں۔ اگر تم (وضع شدہ مواد کی) جستجو کرو گے تو معاملہ ایسے ہی پاؤ گے جیسا کہ حافظ خلیلیؒ نے کہا ہے۔
حضرات علمائے کرام کے ان بیانات کے بعد اب اگر کوئی نادان فضائلِ علیؓ و اہلِ بیتؓ کی تمام احادیث کا انکار کر دے، جیسا کہ مصنف نام و نسب نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ساتھ کیا ہے (نام و نسب: صفحہ518) تو پھر اس کے لیے سوائے ہدایت کی دعا کے اور کیا کیا جا سکتا ہے؟ اب رہا مصنف کا آخری جملہ کہ:
فضائلِ معاویہؓ میں بہت سی احادیث مروی ہیں، لیکن اس میں کوئی روایت ایسی نہیں جو اسناد کے لحاظ سے صحیح ہو۔
اس بحث میں دو باتیں لائقِ توجہ ہیں:
1: یہ بات گھڑی ہوئی روایت کے بارے میں کہی جا رہی ہے، کیونکہ اس سلسلۂ کلام میں پیچھے سے جعلی احادیث کے بارے میں چل رہا ہے کہ فضائلِ معاویہؓ میں جو گھڑی ہوئی روایات مروی ہیں، ان میں سے کوئی روایت ایسی نہیں جو اسناد کے لحاظ سے صحیح ہو۔ یہ بات ہمارے مؤقف کے ہرگز خلاف نہیں، بلکہ ہم بھی موضوعی اور جعلی روایت کا انکار کرتے ہیں، خواہ وہ حضرت علیؓ کے بارے میں ہو یا حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں۔
جناب احمد رضا خان صاحب بریلویؒ (متوفی 1340ھ) فرماتے ہیں:
انصافاً یوں ہی وہ مناقبِ سیدنا امیرِ معاویہؓ و سیدنا عمرو بن العاصؓ کے صرف نواصب کی روایت سے آئیں، کہ جس طرح روافض نے فضائلِ امیر المؤمنین و اہلِ بیتؓ میں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں۔ کما نص علیہ الحافظ ابو یعلی و الحافظ الخلیلی فی الارشاد، یونہی نواصب نے مناقبِ معاویہؓ میں حدیثیں گھڑیں کما أرشد الیہ الامام الذاب عن السنۃ احمد بن حنبل رحمہ اللہ
(فتاویٰ رضویہ جدید: جلد 5 صفحہ461)
2: اگر اس بیان سے فضائلِ معاویہؓ کی تمام احادیث کا انکار مقصود ہے تو بیان مشاہدہ اور نقل دونوں کے خلاف ہے، کیونکہ جمہور محدثین فضائلِ معاویہؓ میں وارد شدہ احادیث کو صحیح اور حسن قرار دیتے ہیں۔ اور جہاں تک ضعیف روایات کی بات ہے تو فضائل کے باب میں ضعیف روایات بھی مقبول ہوتی ہیں، جیسا کہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ نے الموضوعات الکبیر (صفحہ 108)، علامہ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ نے تطہیر الجنان (صفحہ 13)، علامہ سخاوی رحمۃ اللہ نے المقاصد الحسنہ (صفحہ، 431) اور علامہ محمد بن عراق الکنانی رحمۃ اللہ نے تنزیہ الشریعۃ (جلد 2 صفحہ157) میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے۔
اگر ضعیف روایات قابلِ قبول نہ ہوں تو خود فضائلِ سیدنا علیؓ کی بے شمار روایات کو چھوڑ دینا ہو گا۔