1: پھر آپؓ کا کاتبِ وحی ہونا اور آنحضرتﷺ کی بارگاہِ عالیہ سے جاری شدہ خطوط و فرامین کا کاتب ہونا آپؓ کی بڑی عظیم فضیلت ہے۔ سیرت کی کتابوں میں جہاں کاتبانِ نبویﷺ کا تذکرہ ہے، وہاں آپؓ کا نامِ نامی اسمِ گرامی بھی ہے۔ ملاحظہ ہو:
(الاستیعاب تحت الاصابہ: جلد 3 صفحہ375 مجمع الزوائد: جلد9 صفحہ 357 البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ22 جوامع السیرۃ: صفحہ20)
خدمتِ نبویﷺ کی سعادت کے آگے ساری دنیا کی دولت ہیچ ہے۔ حضرت امیرِ معاویہؓ کو بار بار یہ سعادت میسر آئی۔
2: حضرت ابنِ عباسؓ ایک مرتبہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں:
عن ابنِ عباسؓ: أن معاویۃ قال: قصرت عن رأس رسول اللہﷺ بمشقص
(صحیح البخاری: جلد1 صفحہ233 کتاب الحج، باب الحلق والتقصیر عند الاھلال، صحیح مسلم: جلد1 صفحہ408 باب جواز التقصیر والمعتمر من شعرہ)
ایک مرتبہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے آنحضرتﷺ کے بال مشقص (لوہے کا خاص قسم کا آلہ) کے ساتھ کاٹے۔
3: آپؓ کے پاس آنحضرتﷺ کے کچھ بالِ مبارک اور ناخنِ مبارک بھی بطورِ تبرک موجود و محفوظ تھے، جسے آپؓ نے اپنے کفن میں رکھنے کی وصیت کی تھی جو پوری ہوئی۔
(تاریخ الخلفاء، مترجم: صفحہ70)
4: پھر غزوات (مثلاً حنین، طائف، تبوک) میں آپؓ کی شرکت اور آنحضرتﷺ سے آپ کے نسبی تعلقات، یہ وہ فضائل ہیں جنہیں ناقدینِ معاویہ اپنے باطن کی آلودگی سے کبھی گدلا نہیں کر سکتے۔ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع میں بھی نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے۔
پیر سید محمد کرم شاہ الازہری صاحب رقم طراز ہیں:
پھر ظہر سے پہلے سرکارِ دو عالمﷺ مکہ مکرمہ کی طرف اپنی ناقہ پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔ حضورﷺ نے اپنے پیچھے حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ کو بٹھایا ہوا تھا اور جا کر طوافِ افاضہ کیا، اسی کو طوافِ صدر اور طوافِ زیارت بھی کہتے ہیں۔
(ضیاء النبیﷺ: جلد4 صفحہ768 باب حجۃ الوداع)
ان سب کے علاوہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا نہ صرف صحابی، بلکہ ایک فقیہ اور مجتہد صحابیِ رسول ہونا بذاتِ خود ایک عظیم فضیلت ہے۔ اور فضائلِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں قرآن کی جنتی آیات اور آنحضرتﷺ کی جتنی احادیث موجود ہیں، وہ سب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک مستقل بابِ فضیلت رکھتی ہیں۔ ان فضائل کے ہوتے ہوئے اگر دوسرے فضائل نہ بھی ہوں تو اس سے آپؓ کی شان میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی۔
حافظ ابنِ قیم رحمۃ اللہ (متوفی 751ھ) فرماتے ہیں:
ومراده ومراد من قال ذلك من أهل الحديث أنه لم يصح حديث فی مناقبه بخصوصه، وإلا فما صح عندهم فی مناقب الصحابةؓ على العموم، ومناقب قریش فهو داخل فيه
(المنار المنیف: صفحہ 109 فصل30)
یعنی ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے خصوصی مناقب کے لیے عدمِ صحتِ حدیث کا قول ہے، ورنہ وہ تمام صحیح و مسلّم مناقب جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور قریش کے لیے کتاب و سنت میں موجود ہیں، حضرت امیرِ معاویہؓ ان میں داخل ہیں۔