شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط پنچم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط پنچم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3
فعثمان حاصروہ و طلبوا خلعہ من الخلافۃ او قتلہ ولم یزالوا بہ حتی قتلوہ وھو یمنع الناس من مقاتلتھم الی ان قتل شہیدا وما دافع عن نفسہ فھل ھذا الا من اعظم الصبر علی المصائب۔
 (ایضاً: صفحہ، 455)
وقاتلوہ قاتلھم اللہ فصبروا کف نفسہ وعبیدہ حتی ذبح صبرا فی دارہ والمصحف بین یدیہ و زوجتہ نائلۃ عندہ۔
(تذکرہ: جلد، 1 صفحہ، 9)
سبائی باغی ٹولے نے آپؓ کو شہید کر دیا اللہ انہیں غارت کرے آپؓ نے صبر کا مظاہرہ کیا اپنے ہاتھ کو روکے رکھا اور اپنے خادموں کو بھی اس سے روک دیا حتیٰ کہ آپؓ کو آپؓ کے گھر میں شہید کر دیا گیا آپؓ اس وقت قرآن کی تلاوت کر رہے تھے آپؓ کی اہلیہ آپؓ کے پاس تھیں۔
شہادت کے بعد قاتلوں میں سے ایک شخص جب آپؓ کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ آپؓ کا سر قرآن پر ہے تو اس بدبخت نے اپنا پاؤں آپؓ کے سر پر مارا اور اسے مصحف سے دور کر دیا اور کہنے لگا کہ میں نے آج تک کسی کافر (معاذ اللہ) کا چہرہ اتنا حسین اور کسی کافر (معاذ اللہ) کے لیٹنے کی جگہ (یعنی قرآن) اتنی باعزت نہیں دیکھا۔
ما رایت کالیوم وجہ کافر احسن ولا مضجع کافر اکرم۔
(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 175) 
یہ بدبخت شیعہ سبائی لوگ سیدنا عثمانؓ کو شہید کرنے کے بعد جب فرار ہوئے تو حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا نے آواز دی کہ لوگوں امیر المؤمنین کو شہید کر دیا گیا ہے تو قریب کھڑے لوگ آمد کی جانب دوڑے اور گھر آکر دیکھا تو پتا چلا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کئے جا چکے تھے اور جونہی یہ خبر حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو وہ بھی دوڑے دوڑے آئے اور سیدنا عثمانؓ کے جسد خاکی کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے انہیں آپؓ کی شہادت پر بڑا رنج ہوا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہیں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو سخت ڈانٹا اور کہا کہ
تم دونوں کو میں نے ان کے دروازے پر پہرہ بٹھانے کے لیے بھیجا تھا تمہارے ہوتے ہوئے قاتل کس طرح اپنے کام میں کامیاب ہو گئے پھر آپؓ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زور سے ایک تھپڑ مارا اور سیدنا حسینؓ کے سینہ پر بھی زور سے ہاتھ مارا آپؓ نے سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے بچوں کو بھی ڈانٹا اور وہاں سے انتہائی رنج اور غصہ کے ساتھ واپس نکل آئے۔
(تاریخ الخلفاء: صفحہ، 165)
حضرت عثمانؓ کی شہادت 18 ذوالحج 35 ہجری جمعہ کے روز عصر کے وقت ہوئی۔
(تاریخ: صفحہ، 167)
اس وقت آپؓ کی عمر 82 یا 84 سال کے قریب تھی۔

صفحہ 3 از 3