شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط پنچم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط پنچم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3
حضرت عثمانؓ اپنے گھر کے ایک حصہ میں تھے آپؓ کی اہلیہ آپؓ کے ہمراہ تھی باغی گروہ بڑی ہوشیاری سے آپؓ کے گھر داخل ہو گیا اور پھر گھر کے دروازہ کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے گھر کا ایک حصہ بھی جل گیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر کہا کہ دروازہ اس لیے جلایا گیا ہے کہ اس سے بڑھ کر انہیں کوئی اور اہم کام کرنا مقصود ہے سو اب تم لوگ منتشر ہو جاؤ گے اگر میں تم سے دور رہوں گا تو بھی یہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے میں حضورﷺ کے اس ارشاد پر سر تسلیم خم کر کے صبر کروں گا۔
(طبری: جلد، 3 صفحہ، 390) 
سیدنا حسان بن ثابتؓ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا دروازہ جلایا گیا تھا آپؓ کہتے ہیں۔ 
آج ابنِ اروی یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گھر تباہ ہو گیا ہے اس کا ایک دروازہ گرا ہوا ہے اور دوسرا جل کر ویران ہو گیا ہے یہ وہ گھر تھا جہاں حاجت مند لوگ آتے اور وہ ان کی حاجت روائی کرتا تھا اور اس گھر میں ذکر الہٰی اور شرافت کے کاموں کا ہی چرچا تھا۔
(طبری: جلد، 3 صفحہ، 427) 
آپؓ کے گھر میں داخل ہونے والوں میں حضرت محمد بن ابی بکرؓ اور ان کے کچھ ساتھی تھے سیدنا محمد ابی بکر رضی اللہ عنہ جب آپؓ کے کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ سیدہ نائلہؓ کے ساتھ ہیں اور قرآن کریم آپؓ کی گود میں رکھا ہوا ہے آپؓ اس کی تلاوت فرما رہے ہیں حضرت محمد بن ابی بکرؓ نے آگے بڑھ کر حضرت عثمانؓ کی داڑھی پکڑی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر تمہارے والد تمہیں یہ کام کرتے دیکھتے تو انہیں بہت دکھ ہوتا یہ سنتے ہی سیدنا محمد بن ابی بکرؓ نے آپؓ کی داڑھی چھوڑ دی اور گھر سے نکل گیا۔
علامہ ابن کثیرؒ کا بیان ہے کہ حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ وہاں سے باہر چلا گیا اور جو لوگ آپؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے ان سے بات چیت کی اور انہیں اس سے روکنے کی کوشش کی مگر انہوں نے سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی بات نہ مانی اور وہ اندر داخل ہو گئے
(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 184)
اور آپؓ پر حملہ کر کے شہید کر دیا پھر وہ لوگ جس راستے سے آئے تھے اسی راستے سے نکل کر فرار ہو گئے
(تاریخ: صفحہ، 165)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بھی ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی اور ان سے کہا کہ اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کی تلوار نہ نکالو خدا کی قسم اگر تم اس تلوار کو نیام سے نکالو گے تو دوبارہ اس تلوار کو نیام کے اندر نہیں رکھ سکو گے تم پر افسوس ہے کہ تمہارا مدینہ فرشتوں کی حفاظت پر ہے اگر آج تم نے انہیں قتل کر دیا تو وہ فرشتے اس شہر کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
(طبری: جلد، 3 صفحہ، 399) 
آپؓ نے ان سے یہ بھی کہا کہ خدا کے لیے سیدنا عثمانؓ پر ہاتھ نہ اٹھاؤ یہ دنیا میں زیادہ نہیں جئیں گے خدا کی قسم اگر تم نے آپؓ کو شہید کر دیا تو پھر تم کبھی اکٹھے نماز نہ پڑھ سکو گے۔
(المصنف لابن ابی شیبہ: جلد، 7 صفحہ، 515) 
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی شہادت کے وقت تلاوت قرآن مجید میں مصروف تھے جب قاتلوں نے آپؓ کے سر پر لوہے کی لاٹ ماری تو آپؓ کی زبان سے (بسم اللہ توکلت علی اللہ) بے ساختہ نکلا اور خون آپؓ کے سر سے بہہ کر آپؓ کی داڑھی کو تر کر رہا تھا قرآن آپؓ کی گود میں تھا آپؓ نے بائیں جانب سہارا لیا اور آپؓ کی زبان پر (سبحان اللہ العظیم) کے الفاظ جاری تھے اور آپؓ کے خون کا قطرہ سامنے رکھے ہوئے قرآن کریم پر آ گرا اور قرآن کریم کی آیت (فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم) آپؓ کے خون سے سرخ ہو گئی۔ 
قال عثمانؓ بسم اللہ توکلت علی اللہ واذا الدم یسیل علی اللحیۃ یقطر و المصحف بین یدیہ فاتکا علی شقہ الایسر وھو یقول سبحان اللّٰہ العظیم وھو فی ذالک یقرء المصحف و الدم یسیل علی المصحف حتی وقف الدم عند قولہ تعالیٰ فسیکفیکھم اللّٰہ وھو السمیع العلیم۔
(طبقات: جلد، 3 صفحہ، 54)
سیدنا عبداللہ بن سعیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا وہ مصحف جس پر آپؓ کا خون گرا تھا دیکھا تھا۔
رأیت مصحف عثمانؓ ونضح الدماء فی علی اشیاء من الوعد و الوعید فکان ذالک عند الناس من الآیات
(تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 227) 
سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنے شوہر امیر المؤمنینؓ کو اس طرح خون میں لت پت دیکھا تو چیخ پڑیں اور آگے بڑھ کر آپؓ کو بچانا چاہا تو ظالموں نے آپؓ کے ہاتھ پر تلوار ماری جس سے ان کی انگلیاں بھی کٹ گئیں تھیں مگر ظالموں نے اس کی پرواہ کیے بغیر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سینے پر برچھا مارا اور پھر تلوار کی نوک آپؓ کے پیٹ میں اتار دی عون بن کنانہ نے آپؓ کے قاتلوں میں کنانہ بن بشر سودان بن حمران کا نام لیا ہے اور کہا کہ انہوں نے آپؓ کو نیزے سے نو ضربیں ماری تھیں فطعنہ تسع طعنات۔
(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 175) 
اور اس طرح آپؓ کو شہید کر دیا گیا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
آپؓ زندگی کی آخری سانسوں میں بھی حضورﷺ کی امت کے درمیان اتحاد کی دعا کرتے رہے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور ان کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا تھی اللھم اجمع امۃ محمدﷺ
(ریاض: جلد، 3 صفحہ، 73) 
ترجمہ: اے اللہ حضورﷺ کی امت کو آپس میں جوڑے رکھنا۔
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اگر آپؓ اس وقت یہ دعا فرماتے کہ یہ لوگ کبھی متحد نہ ہوں تو پھر قیامت تک ان میں کبھی اتفاق نہ ہوتا۔
(ریاض: جلد، 3 صفحہ، 73)
ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ نے باوجود ی کہ آپؓ امیر سلطنت تھے آپؓ کے پاس فوج کی کمی نہ تھی پھر بھی آپؓ نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا نہ اپنے بچاؤ کی کوشش کی آپؓ صبر کا پیکر بنے رہے اور شہید کر دیے گئے۔
فلا ریب ان عثمان ان تولی ثنتی عشرۃ سنۃ ثم قصد الخارجون علیہ قتلہ و حصروہ وھو خلیفۃ الارض و المسلمون کلھم رعیۃ وھو مع ھذا کم یقتل مسلما ولا دفع عن نفسہ بقتال بل صبر حتی قتل۔
(منہاج السنہ: جلد، 8 صفحہ، 221)
صفحہ 2 از 3