کیا عدمِ صحت کا قول صحتِ عدم کو مستلزم ہے؟ - ردِ رافضیت |…

کیا عدمِ صحت کا قول صحتِ عدم کو مستلزم ہے؟

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 3 از 3

سو اگر عدمِ صحت سے مراد یہ ہے کہ فضائلِ سیدنا امیرِ معاویہؓ میں کوئی حدیث ثابت ہی نہیں تو یہ قول مردود ہے، اور اگر صحت سے صحتِ مصطلحہ عند المحدثین مراد ہے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس کا دائرہ تنگ ہے۔ احادیثِ صحیحہ کی قلت کے باعث بیشتر احکام و فضائل احادیثِ حسان ہی سے ثابت ہوتے ہیں، اور مسندِ احمد اور سنن کی حدیث درجۂ حسن سے کم تر نہیں۔ اور فنِ حدیث میں طے ہو چکا ہے کہ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر بھی عمل جائز ہے، حسن کی تو کیا بات ہے۔ اور میں نے کسی معتبر کتاب میں امام مجد الدین ابن الاثیر رحمۃ اللہ علیہ کا قول دیکھا تھا کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مسند احمد کی حدیث صحیح ہے، مگر اس وقت وہ کتاب ذہن میں نہیں رہی۔ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے شرح سفر السعادۃ میں انصاف نہیں کیا، کیونکہ انہوں نے مصنف کے اس فقرے پر تعقب نہیں کیا جیسا کہ اس کے دوسرے تعصبات پر تعقب کیا ہے۔


صفحہ 3 از 3