کیا عدمِ صحت کا قول صحتِ عدم کو مستلزم ہے؟ - ردِ رافضیت |…

کیا عدمِ صحت کا قول صحتِ عدم کو مستلزم ہے؟

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 3

كتب إلی أبو نصر القشيری، أنا أبوبكر البيهقی، أنا أبو عبد الله الحافظ، قال: سمعت أبا العباس الأصم قال: سمعت أبی يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحنظلی يقول: لا يصح عن النبیﷺ فی فضل معاوية بن أبی سفيان شیء، وأصح ما روی فی فضل معاوية حديث أبی حمزة عن ابن عباس: أنه كان كاتب النبیﷺ، فقد أخرجه مسلم فی صحيحه، و بعده حديث العرباض: اللهم علمه الكتاب، وبعده حديث ابن أبی عميرة: اللهم اجعله هادياً مهدياً 

(تاریخ مدینہ دمشق: جلد21 صفحہ، 193 تحت ترجمہ معاویہ بن سفیانؓ، البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ38 سنہ 60 ہجری تحت ترجمہ معاویہؓ) 

اسحاق بن ابراہیم حنظلیؒ کہتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں کوئی بھی صحیح روایت حضور اکرمﷺ سے مروی نہیں ہے، اور سب سے صحیح روایت حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ابو حمزہؓ کی روایت حضرت ابنِ عباسؓ سے ہے کہ وہ کاتبِ نبیﷺ تھے، اور اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، اور اس کے بعد حدیثِ سیدنا عرباضؓ ہے: اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب کا علم سکھا دے، اور اس کے بعد حضرت ابنِ ابی عمیرہؓ کی روایت ہے: اے اللہ! معاویہ کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا دے۔  

حافظ جلال الدین السیوطی رحمۃ اللہ (متوفی 911ھ) نے بھی ایسا ہی قول نقل کیا ہے:  

وقال السيوطی الشافعی: أصح ما ورد فی فضل معاوية حديث ابن عباس: أنه كاتب النبیﷺ، فقد أخرجه مسلم فی صحيحه، وبعده حديث العرباض: اللهم علمه الكتاب، وبعده حديث ابن أبی عميرة: اللهم اجعله هادياً مهدياً 

(تنزیہ الشریعۃ: جلد2 صفحہ8 الفصل الاول تحت باب فی طائفۃ من الصحابہ رضی اللہ عنہم) 

امام سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: صحیح تر روایت حضرت امیرِ معاویہؓ کی فضیلت میں حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت ہے کہ بیشک وہ کاتبِ نبیﷺ تھے۔ اس کو مسلم نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے، اور اس کے بعد حدیثِ سیدنا عرباضؓ ہے: اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب کا علم سکھا دے، اور ان کے بعد ابنِ ابی عمیرہؓ کی روایت ہے: اے اللہ! اس کو ہادی اور مہدی بنا دے۔  

حافظ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (متوفی 974ھ) فرماتے ہیں:  

قيل: عبر البخاری بقوله: باب ذكر معاوية، ولم يقبل: فضائله ولا مناقبه، لأنه لم يصح فی فضائله شیء كما قاله ابن راهويه، و ذلک ان تقول إن كان المراد من هذه العبارة أنه لم يصح منها شیء على وفق شرط البخاری فأكثر الصحابة كذلك، إذا لم يصح شیء عنها، وإن لم يعتبر ذلك القيد فلا يضره ذلك، لما يأتی أن من فضائله ما حديثه حسن حتى عند الترمذی كما صرح به جامعه، وستعلمه مما يأتی والحديث الحسن لذاته كماهنا حجة اجماعا، بل الضعيف فی المناقب حجة أيضاً، وحينئذ فماج ذكره ابن راهويه بتقدير صحته لا يقدح فی فضائل معاوية 

(تطہیر الجنان واللسان: صفحہ9، 10 الفصل الثانی، فی فضائلہ و مناقبہ و خصوصیاتہ و علومہ و اجتہادہ الخ)

بعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ بخاری نے جس باب میں حضرت امیرِ معاویہؓ کے حالات بیان کیے ہیں، اس باب کا عنوان باب ذکر معاویہؓ رکھا ہے، باب فضائل معاویہؓ نہیں رکھا، نہ یہ کہا کہ باب مناقب معاویہؓ، اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث وارد ہی نہیں ہوئی، جیسا کہ ابنِ راہویہ رحمۃ اللہ نے بیان کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ مراد ہے کہ بخاری کی شرط کے مطابق کوئی روایت صحیح نہیں، تو اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہی حالت ہے، اور اگر شرطِ بخاری کی قید نہ لگائی جائے تو یہ بات غلط ہو گی، کیونکہ ان کے فضائل میں بعض حدیثیں حسن ہیں، جیسا کہ امام ترمذیؒ نے جامع ترمذی میں بیان کیا، اور عنقریب تم کو معلوم ہو گا کہ حدیثِ حسن لذاتہٖ بالاجماع حجت ہے، بلکہ مناقب میں تو ضعیف حدیث بھی حجت ہوتی ہے۔ المختصر، ابنِ راہویہؒ نے جو کچھ بیان کیا، وہ فضائلِ معاویہؓ میں قادح نہیں ہو سکتا۔  

مندرجہ بالا تصریحات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے کاتبِ نبویﷺ ہونے کی فضیلت کو جو امام مسلم رحمۃ اللہ نے ذکر کی ہے، علمائے کرام کے نزدیک اصح چیز ہے۔ معلوم ہوا کہ علماء کے نزدیک فضیلتِ کتابتِ نبویﷺ حضرت امیرِ معاویہؓ کے حق میں صحیح تر فضیلت ہے اور صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لہٰذا ان کی فضیلت کے عدمِ صحت کا قول درست نہیں، اور جو روایات اس سے کم درجے کی ہیں، ان کے حق میں اکابر محدثین حسن ہونے کا حکم لگا رہے ہیں، جس سے شرعی مسائل اور فقہی احکام ثابت ہوتے ہیں۔

چنانچہ حضرت علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ (متوفی 1239ھ)، جنہیں مصنف نے اپنی اسی زیرِ بحث کتاب میں محقق و عالمِ دین حضرت علامہ عبد العزیز فرہارویؒ جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ (حاشیہ: صفحہ 504)فرماتے ہیں:  

فإن أريد بعدم الصحة عدم الثبوت فهو مردود، لما مر بين المحدثين، فلا ضير، فإن فسحتھا ضيقة، و عامة الأحكام والفضائل إنما تثبت بالأحاديث الحسان لعزة الصحاح، ولا ينحط ما فی المسند والسنن عن درجة الحسن، وقد تقرر فی فن الحديث جواز العمل بالحديث الضعيف فی الفضائل فضلاً عن الحسن وقد رأيت فی بعض الكتب المعتبرة من كلام الإمام مجد الدين ابن الأثير صاحب میزان الجامع حديث مسند أحمد فی فضيلة معاوية صحيح، إلا أنی لا أستحضر الكتاب فی الوقت، ولم ينصف الشيخ عبد الحق الدهلوی فی شرح سفر السعادة، فإنه أقر كلام المصنف ولم يتعقبه كتعقبه على سائر تعصباته 

(الناہیہ: صفحہ39 فصل فی الأجوبۃ عن مطاعنہ)

صفحہ 2 از 3