پھر یہ بات خود قابلِ غور ہے کہ کیا کسی حدیث کے بارے میں عدمِ صحت کا قول اس حدیث کے موضوع ہونے پر دلالت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جو یہ بات کہتے ہیں وہ مصطلحاتِ محدثین ہی سے ناواقف ہیں۔
چند اکابر کی تصریحات ملاحظہ ہوں:
1: حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں:
لا يلزم من كون الحديث لم يصح أن يكون موضوعاً
(القول المسدد: صفحہ 45 الحدیث السابع)
کسی حدیث کے صحیح نہ ہونے سے اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
2: علامہ عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ (متوفی 1122ھ) فرماتے ہیں:
نفيه الصحة لا ينافی أنه حسن كما علم
(شرح الزرقانی علی المواهب: جلد 5 صفحہ 55 تحت ذکر نعلہﷺ)
حدیث کا صحیح نہ ہونا حسن کے نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا، جیسا کہ معلوم ہے۔
3: حافظ ابن الہمام رحمۃ اللہ (متوفی 861 ہجری) سے منقول ہے:
وقول من يقول فی حديث إنه لم يصح، إن سُلّم لم يقدح، لأن الحجة لا تتوقف على الصحة بل الحسن كاف
(مرقاۃ المفاتیح: جلد2 صفحہ88 کتاب الصلوٰۃ:الفصل الثانی: باب ما لا یجوز من العمل فی الصلوۃ)
ترجمہ: کسی حدیث کی نسبت کہنے والے کا یہ کہنا کہ وہ صحیح نہیں، اگر مان لیا جائے تو بھی یہ بات موجبِ قدح نہیں، کیونکہ حجیت صرف صحت پر موقوف نہیں بلکہ حسن بھی کافی ہے۔
4: علامہ نور الدین السمھودی رحمۃ اللہ (متوفی 911 ہجری) جواهر العقدين فی فضل الشرفين میں فرماتے ہیں:
قد يكون غير صحيح وهو صالح للاحتجاج به إذ الحسن رتبته بين الصحيح والضعيف
(الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل: صفحہ 195 ایقاظ 6 فی أن نفی الصحة والثبوت لا یلزم منہ الخ)
اور کبھی کبھی غیرِ صحیح حدیث قابلِ استدلال ہوتی ہے، کیونکہ حسن کا مرتبہ صحیح اور ضعیف کے درمیان ہے۔
5: حافظ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (متوفی 974ھ) امام احمد رحمۃ اللہ (متوفی 241ھ) کے قول پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قول أحمد: إنه لا يصح، أی لذاته، فلا ينفی كونه حسناً لغيره، والحسن لغيره يحتج به كما بين فی علم الحديث
(الصواعق المحرقہ: صفحہ185 الفصل الاول: فی الآیات الواردة فیہم، المقصد الخامس)
امام احمدؒ کا یہ فرمانا کہ یہ حدیث صحیح نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح لذاتہ نہیں، تو یہ حسن لغیرہ کی نفی نہ کرے گا، اور حسن لغیرہ بھی حجت ہے، جیسا کہ علمِ حدیث میں بیان ہو چکا ہے۔
6: حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمۃ اللہ (متوفی 1304ھ) لکھتے ہیں:
كثيراً ما يقولون: لا يصح، ولا يثبت هذا الحديث، ويظن منه من لا علم له أنه موضوع أو ضعيف، وهو مبنی على جهله بمصطلحاتهم وعدم وقوفه على مصرّحاتهم
(الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل: صفحہ 191 ایقاظ 9 فی أن نفی الصحة والثبوت الخ)
ترجمہ: اکثر لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں اور یہ حدیث ثابت نہیں، بے علم لوگ ان جملوں سے یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع یا ضعیف ہے، حالانکہ یہ بات ان (بے علم) لوگوں کی مصطلحاتِ حدیث سے جہالت اور اس کی تصریحات سے عدمِ واقفیت پر مبنی ہے۔
7: مصنف نام و نسب کے ممدوح جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی (متوفی 1341ھ) لکھتے ہیں:
محدثین کرام کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیں، اس کے یہ معنیٰ نہیں ہوتے کہ غلط و باطل ہے، بلکہ صحیح ان کی اصطلاح میں ایک اعلیٰ درجے کی حدیث ہے جس کے شرائط سخت دشوار اور موانع و عوائق کثیر و بسیار، حدیث میں ان سب کا اجتماع اور ان سب کا ارتفاع کم ہوتا ہے۔ پھر اس کمی کے ساتھ اس کے اثبات میں سخت دقتیں، اگر اس مبحث میں تفصیل کی جائے تو کلامِ طویل تحریر میں آئے۔ ان کے نزدیک جہاں ان باتوں میں کہیں بھی کمی ہوئی، فرما دیتے: یہ حدیث صحیح نہیں، یعنی اس درجہ عُلیا کو نہ پہنچی۔ اس سے دوسرے درجے کی حدیث کو حسن کہتے ہیں۔ یہ کہنا کہ صحیح نہیں، پھر بھی اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی، ورنہ حسن ہی کیوں کہلاتی؟ فقط اتنا ہوتا ہے کہ اس کا پایہ بعض اوصاف میں اس بلند مرتبے سے جھکا ہوتا ہے۔ اس قسم کی سینکڑوں حدیثیں صحیح مسلم وغیرہ کتبِ صحاح، بلکہ عند التحقیق بعض صحیح بخاری میں بھی ہیں۔ یہ قسم بھی استناد و احتجاج کی پوری لیاقت رکھتی ہے۔ وہی علماء جو اسے صحیح نہیں کہتے، برابر اس پر اعتماد فرماتے اور احکامِ حلال و حرام میں حجت بناتے ہیں۔
(منیر العین: صفحہ21 افادۂ اول)
چند صفحات کے بعد خاں صاحب بریلوی، پیر نصیر صاحب کے ہم خیال لوگوں پر یوں تبصرہ کرتے ہیں: بعض جاہل بول اٹھتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔ یہ ان کی نادانی ہے۔ علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں، یہ بے سمجھ خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ عزیزو! مسلّم کہ صحت نہیں تو پھر حسن کیا کم ہے؟ حسن بھی نہیں تو یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے۔
(منیر العین: صفحہ53 افادۂ شانزدھم)
خاں صاحب بریلوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
(لا يصح) لا ينفی وجود الحسن
(فتاویٰ رضویہ: جلد 1 صفحہ26 تحت باب الوضوء)
حدیثِ حسن کی حجیت پر کلام کرتے ہوئے حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ (متوفی 852ھ) لکھتے ہیں:
هذا القسم من الحسن مشارك لا صحيح فی الاحتجاج به، وإن كان دونه
(نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر: صفحہ، 33 بحث حدیث حسن لذاتہٖ)
حدیثِ حسن کی یہ قسم، یعنی حسن لذاتہٖ، اگرچہ صحیح سے درجے میں کم ہے مگر حجت ہونے میں صحیح کی شریک ہے۔
8: مصنف کے دوسرے ممدوح عالم جناب احمد یار خان نعیمی گجراتی (متوفی 1391ھ) لکھتے ہیں:
اور صحیح نہ ہونے سے ضعیف ہونا لازم نہیں، کیونکہ صحیح کے بعد درجۂ حسن باقی ہے، لہٰذا اگر حدیث حسن ہو تب بھی کافی ہے۔
(جاء الحق: صفحہ350 تحت انگوٹھے چومنے پر اعتراض)
ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر بعض حضرات کی طرف سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی فضیلت کے متعلق عدمِ صحت کا قول پایا گیا ہے تو وہ ہرگز مضر نہیں، کیونکہ عدمِ صحت سے مقبول روایت کی نفی نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ بات اس تقدیر پر ہے جبکہ امام اسحاق بن راہویہؒ کے قول کو پوری تفصیل کے ساتھ درست مانا جائے، جس پر حضراتِ محدثین نے ان کا تعقب فرمایا ہے۔
حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ (متوفی 571ھ) اور حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ (متوفی 774ھ) فرماتے ہیں:
كتب إلی أبو نصر القشيری، أنا أبوبكر البيهقی، أنا أبو عبد الله الحافظ، قال: سمعت أبا العباس الأصم قال: سمعت أبی يقول: سمعت إسحاق بن إبراهيم الحنظلی يقول: لا يصح عن النبیﷺ فی فضل معاوية بن أبی سفيان شیء، وأصح ما روی فی فضل معاوية حديث أبی حمزة عن ابن عباس: أنه كان كاتب النبیﷺ، فقد أخرجه مسلم فی صحيحه، و بعده حديث العرباض: اللهم علمه الكتاب، وبعده حديث ابن أبی عميرة: اللهم اجعله هادياً مهدياً
(تاریخ مدینہ دمشق: جلد21 صفحہ، 193 تحت ترجمہ معاویہ بن سفیانؓ، البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ38 سنہ 60 ہجری تحت ترجمہ معاویہؓ)
اسحاق بن ابراہیم حنظلیؒ کہتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں کوئی بھی صحیح روایت حضور اکرمﷺ سے مروی نہیں ہے، اور سب سے صحیح روایت حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ابو حمزہؓ کی روایت حضرت ابنِ عباسؓ سے ہے کہ وہ کاتبِ نبیﷺ تھے، اور اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، اور اس کے بعد حدیثِ سیدنا عرباضؓ ہے: اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب کا علم سکھا دے، اور اس کے بعد حضرت ابنِ ابی عمیرہؓ کی روایت ہے: اے اللہ! معاویہ کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا دے۔
حافظ جلال الدین السیوطی رحمۃ اللہ (متوفی 911ھ) نے بھی ایسا ہی قول نقل کیا ہے:
وقال السيوطی الشافعی: أصح ما ورد فی فضل معاوية حديث ابن عباس: أنه كاتب النبیﷺ، فقد أخرجه مسلم فی صحيحه، وبعده حديث العرباض: اللهم علمه الكتاب، وبعده حديث ابن أبی عميرة: اللهم اجعله هادياً مهدياً
(تنزیہ الشریعۃ: جلد2 صفحہ8 الفصل الاول تحت باب فی طائفۃ من الصحابہ رضی اللہ عنہم)
امام سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: صحیح تر روایت حضرت امیرِ معاویہؓ کی فضیلت میں حضرت ابنِ عباسؓ کی روایت ہے کہ بیشک وہ کاتبِ نبیﷺ تھے۔ اس کو مسلم نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے، اور اس کے بعد حدیثِ سیدنا عرباضؓ ہے: اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب کا علم سکھا دے، اور ان کے بعد ابنِ ابی عمیرہؓ کی روایت ہے: اے اللہ! اس کو ہادی اور مہدی بنا دے۔
حافظ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (متوفی 974ھ) فرماتے ہیں:
قيل: عبر البخاری بقوله: باب ذكر معاوية، ولم يقبل: فضائله ولا مناقبه، لأنه لم يصح فی فضائله شیء كما قاله ابن راهويه، و ذلک ان تقول إن كان المراد من هذه العبارة أنه لم يصح منها شیء على وفق شرط البخاری فأكثر الصحابة كذلك، إذا لم يصح شیء عنها، وإن لم يعتبر ذلك القيد فلا يضره ذلك، لما يأتی أن من فضائله ما حديثه حسن حتى عند الترمذی كما صرح به جامعه، وستعلمه مما يأتی والحديث الحسن لذاته كماهنا حجة اجماعا، بل الضعيف فی المناقب حجة أيضاً، وحينئذ فماج ذكره ابن راهويه بتقدير صحته لا يقدح فی فضائل معاوية
(تطہیر الجنان واللسان: صفحہ9، 10 الفصل الثانی، فی فضائلہ و مناقبہ و خصوصیاتہ و علومہ و اجتہادہ الخ)
بعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ بخاری نے جس باب میں حضرت امیرِ معاویہؓ کے حالات بیان کیے ہیں، اس باب کا عنوان باب ذکر معاویہؓ رکھا ہے، باب فضائل معاویہؓ نہیں رکھا، نہ یہ کہا کہ باب مناقب معاویہؓ، اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث وارد ہی نہیں ہوئی، جیسا کہ ابنِ راہویہ رحمۃ اللہ نے بیان کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ مراد ہے کہ بخاری کی شرط کے مطابق کوئی روایت صحیح نہیں، تو اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہی حالت ہے، اور اگر شرطِ بخاری کی قید نہ لگائی جائے تو یہ بات غلط ہو گی، کیونکہ ان کے فضائل میں بعض حدیثیں حسن ہیں، جیسا کہ امام ترمذیؒ نے جامع ترمذی میں بیان کیا، اور عنقریب تم کو معلوم ہو گا کہ حدیثِ حسن لذاتہٖ بالاجماع حجت ہے، بلکہ مناقب میں تو ضعیف حدیث بھی حجت ہوتی ہے۔ المختصر، ابنِ راہویہؒ نے جو کچھ بیان کیا، وہ فضائلِ معاویہؓ میں قادح نہیں ہو سکتا۔
مندرجہ بالا تصریحات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے کاتبِ نبویﷺ ہونے کی فضیلت کو جو امام مسلم رحمۃ اللہ نے ذکر کی ہے، علمائے کرام کے نزدیک اصح چیز ہے۔ معلوم ہوا کہ علماء کے نزدیک فضیلتِ کتابتِ نبویﷺ حضرت امیرِ معاویہؓ کے حق میں صحیح تر فضیلت ہے اور صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ لہٰذا ان کی فضیلت کے عدمِ صحت کا قول درست نہیں، اور جو روایات اس سے کم درجے کی ہیں، ان کے حق میں اکابر محدثین حسن ہونے کا حکم لگا رہے ہیں، جس سے شرعی مسائل اور فقہی احکام ثابت ہوتے ہیں۔
چنانچہ حضرت علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ (متوفی 1239ھ)، جنہیں مصنف نے اپنی اسی زیرِ بحث کتاب میں محقق و عالمِ دین حضرت علامہ عبد العزیز فرہارویؒ جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ (حاشیہ: صفحہ 504)فرماتے ہیں:
فإن أريد بعدم الصحة عدم الثبوت فهو مردود، لما مر بين المحدثين، فلا ضير، فإن فسحتھا ضيقة، و عامة الأحكام والفضائل إنما تثبت بالأحاديث الحسان لعزة الصحاح، ولا ينحط ما فی المسند والسنن عن درجة الحسن، وقد تقرر فی فن الحديث جواز العمل بالحديث الضعيف فی الفضائل فضلاً عن الحسن وقد رأيت فی بعض الكتب المعتبرة من كلام الإمام مجد الدين ابن الأثير صاحب میزان الجامع حديث مسند أحمد فی فضيلة معاوية صحيح، إلا أنی لا أستحضر الكتاب فی الوقت، ولم ينصف الشيخ عبد الحق الدهلوی فی شرح سفر السعادة، فإنه أقر كلام المصنف ولم يتعقبه كتعقبه على سائر تعصباته
(الناہیہ: صفحہ39 فصل فی الأجوبۃ عن مطاعنہ)
سو اگر عدمِ صحت سے مراد یہ ہے کہ فضائلِ سیدنا امیرِ معاویہؓ میں کوئی حدیث ثابت ہی نہیں تو یہ قول مردود ہے، اور اگر صحت سے صحتِ مصطلحہ عند المحدثین مراد ہے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس کا دائرہ تنگ ہے۔ احادیثِ صحیحہ کی قلت کے باعث بیشتر احکام و فضائل احادیثِ حسان ہی سے ثابت ہوتے ہیں، اور مسندِ احمد اور سنن کی حدیث درجۂ حسن سے کم تر نہیں۔ اور فنِ حدیث میں طے ہو چکا ہے کہ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر بھی عمل جائز ہے، حسن کی تو کیا بات ہے۔ اور میں نے کسی معتبر کتاب میں امام مجد الدین ابن الاثیر رحمۃ اللہ علیہ کا قول دیکھا تھا کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مسند احمد کی حدیث صحیح ہے، مگر اس وقت وہ کتاب ذہن میں نہیں رہی۔ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے شرح سفر السعادۃ میں انصاف نہیں کیا، کیونکہ انہوں نے مصنف کے اس فقرے پر تعقب نہیں کیا جیسا کہ اس کے دوسرے تعصبات پر تعقب کیا ہے۔