کیا عدمِ صحت کا قول صحتِ عدم کو مستلزم ہے؟ - ردِ رافضیت |…

کیا عدمِ صحت کا قول صحتِ عدم کو مستلزم ہے؟

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 3

پھر یہ بات خود قابلِ غور ہے کہ کیا کسی حدیث کے بارے میں عدمِ صحت کا قول اس حدیث کے موضوع ہونے پر دلالت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جو یہ بات کہتے ہیں وہ مصطلحاتِ محدثین ہی سے ناواقف ہیں۔

چند اکابر کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

1: حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں:  

لا يلزم من كون الحديث لم يصح أن يكون موضوعاً 

(القول المسدد: صفحہ 45 الحدیث السابع)  

کسی حدیث کے صحیح نہ ہونے سے اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔

2: علامہ عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ (متوفی 1122ھ) فرماتے ہیں:  

نفيه الصحة لا ينافی أنه حسن كما علم 

(شرح الزرقانی علی المواهب: جلد 5 صفحہ 55 تحت ذکر نعلہﷺ)  

حدیث کا صحیح نہ ہونا حسن کے نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا، جیسا کہ معلوم ہے۔

3: حافظ ابن الہمام رحمۃ اللہ (متوفی 861 ہجری) سے منقول ہے:  

وقول من يقول فی حديث إنه لم يصح، إن سُلّم لم يقدح، لأن الحجة لا تتوقف على الصحة بل الحسن كاف

(مرقاۃ المفاتیح: جلد2 صفحہ88 کتاب الصلوٰۃ:الفصل الثانی: باب ما لا یجوز من العمل فی الصلوۃ) 

ترجمہ: کسی حدیث کی نسبت کہنے والے کا یہ کہنا کہ وہ صحیح نہیں، اگر مان لیا جائے تو بھی یہ بات موجبِ قدح نہیں، کیونکہ حجیت صرف صحت پر موقوف نہیں بلکہ حسن بھی کافی ہے۔  

4: علامہ نور الدین السمھودی رحمۃ اللہ (متوفی 911 ہجری) جواهر العقدين فی فضل الشرفين میں فرماتے ہیں:  

قد يكون غير صحيح وهو صالح للاحتجاج به إذ الحسن رتبته بين الصحيح والضعيف 

(الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل: صفحہ 195 ایقاظ 6 فی أن نفی الصحة والثبوت لا یلزم منہ الخ)   

اور کبھی کبھی غیرِ صحیح حدیث قابلِ استدلال ہوتی ہے، کیونکہ حسن کا مرتبہ صحیح اور ضعیف کے درمیان ہے۔

5: حافظ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ (متوفی 974ھ) امام احمد رحمۃ اللہ (متوفی 241ھ) کے قول پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

قول أحمد: إنه لا يصح، أی لذاته، فلا ينفی كونه حسناً لغيره، والحسن لغيره يحتج به كما بين فی علم الحديث 

(الصواعق المحرقہ: صفحہ185 الفصل الاول: فی الآیات الواردة فیہم، المقصد الخامس)   

امام احمدؒ کا یہ فرمانا کہ یہ حدیث صحیح نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح لذاتہ نہیں، تو یہ حسن لغیرہ کی نفی نہ کرے گا، اور حسن لغیرہ بھی حجت ہے، جیسا کہ علمِ حدیث میں بیان ہو چکا ہے۔  

6: حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمۃ اللہ (متوفی 1304ھ) لکھتے ہیں:  

كثيراً ما يقولون: لا يصح، ولا يثبت هذا الحديث، ويظن منه من لا علم له أنه موضوع أو ضعيف، وهو مبنی على جهله بمصطلحاتهم وعدم وقوفه على مصرّحاتهم 

(الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل: صفحہ 191 ایقاظ 9 فی أن نفی الصحة والثبوت الخ) 

ترجمہ: اکثر لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں اور یہ حدیث ثابت نہیں، بے علم لوگ ان جملوں سے یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع یا ضعیف ہے، حالانکہ یہ بات ان (بے علم) لوگوں کی مصطلحاتِ حدیث سے جہالت اور اس کی تصریحات سے عدمِ واقفیت پر مبنی ہے۔  

7: مصنف نام و نسب کے ممدوح جناب احمد رضا خاں صاحب بریلوی (متوفی 1341ھ) لکھتے ہیں:  

محدثین کرام کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیں، اس کے یہ معنیٰ نہیں ہوتے کہ غلط و باطل ہے، بلکہ صحیح ان کی اصطلاح میں ایک اعلیٰ درجے کی حدیث ہے جس کے شرائط سخت دشوار اور موانع و عوائق کثیر و بسیار، حدیث میں ان سب کا اجتماع اور ان سب کا ارتفاع کم ہوتا ہے۔ پھر اس کمی کے ساتھ اس کے اثبات میں سخت دقتیں، اگر اس مبحث میں تفصیل کی جائے تو کلامِ طویل تحریر میں آئے۔ ان کے نزدیک جہاں ان باتوں میں کہیں بھی کمی ہوئی، فرما دیتے: یہ حدیث صحیح نہیں، یعنی اس درجہ عُلیا کو نہ پہنچی۔ اس سے دوسرے درجے کی حدیث کو حسن کہتے ہیں۔ یہ کہنا کہ صحیح نہیں، پھر بھی اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی، ورنہ حسن ہی کیوں کہلاتی؟ فقط اتنا ہوتا ہے کہ اس کا پایہ بعض اوصاف میں اس بلند مرتبے سے جھکا ہوتا ہے۔ اس قسم کی سینکڑوں حدیثیں صحیح مسلم وغیرہ کتبِ صحاح، بلکہ عند التحقیق بعض صحیح بخاری میں بھی ہیں۔ یہ قسم بھی استناد و احتجاج کی پوری لیاقت رکھتی ہے۔ وہی علماء جو اسے صحیح نہیں کہتے، برابر اس پر اعتماد فرماتے اور احکامِ حلال و حرام میں حجت بناتے ہیں۔ 

(منیر العین: صفحہ21 افادۂ اول)  

چند صفحات کے بعد خاں صاحب بریلوی، پیر نصیر صاحب کے ہم خیال لوگوں پر یوں تبصرہ کرتے ہیں: بعض جاہل بول اٹھتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔ یہ ان کی نادانی ہے۔ علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں، یہ بے سمجھ خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ عزیزو! مسلّم کہ صحت نہیں تو پھر حسن کیا کم ہے؟ حسن بھی نہیں تو یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے۔ 

(منیر العین: صفحہ53 افادۂ شانزدھم)  

خاں صاحب بریلوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:  

(لا يصح) لا ينفی وجود الحسن 

(فتاویٰ رضویہ: جلد 1 صفحہ26 تحت باب الوضوء) 

حدیثِ حسن کی حجیت پر کلام کرتے ہوئے حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ (متوفی 852ھ) لکھتے ہیں:  

هذا القسم من الحسن مشارك لا صحيح فی الاحتجاج به، وإن كان دونه 

(نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر: صفحہ، 33 بحث حدیث حسن لذاتہٖ)  

حدیثِ حسن کی یہ قسم، یعنی حسن لذاتہٖ، اگرچہ صحیح سے درجے میں کم ہے مگر حجت ہونے میں صحیح کی شریک ہے۔

8: مصنف کے دوسرے ممدوح عالم جناب احمد یار خان نعیمی گجراتی (متوفی 1391ھ) لکھتے ہیں:  

اور صحیح نہ ہونے سے ضعیف ہونا لازم نہیں، کیونکہ صحیح کے بعد درجۂ حسن باقی ہے، لہٰذا اگر حدیث حسن ہو تب بھی کافی ہے۔ 

(جاء الحق: صفحہ350 تحت انگوٹھے چومنے پر اعتراض)

ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر بعض حضرات کی طرف سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی فضیلت کے متعلق عدمِ صحت کا قول پایا گیا ہے تو وہ ہرگز مضر نہیں، کیونکہ عدمِ صحت سے مقبول روایت کی نفی نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ بات اس تقدیر پر ہے جبکہ امام اسحاق بن راہویہؒ کے قول کو پوری تفصیل کے ساتھ درست مانا جائے، جس پر حضراتِ محدثین نے ان کا تعقب فرمایا ہے۔

حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ (متوفی 571ھ) اور حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ (متوفی 774ھ) فرماتے ہیں:  

صفحہ 1 از 3