غیر نسبی روابط - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

غیر نسبی روابط

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 2 از 2

بنو امیہ میدانِ رزم کے مرد تھے، حضرت عثمانؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے دور کی فتوحات اس کی شاہد ہیں۔ بحرِ روم میں سب سے پہلے امویوں ہی نے بیڑے دوڑائے، افریقہ کو امویوں ہی نے فتح کیا، یورپ کا دروازہ امویوں ہی نے کھٹکھٹایا۔ اموی اس لیے نہیں بھرے گئے تھے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ہم خاندان تھے، بلکہ اس لیے بھرے گئے تھے کہ وہ تلوار کے دھنی اور میدانِ جنگ کے مرد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تنہا بنی امیہ کے دور میں جس قدر فتوحات ہوتی ہیں اس کی نظیر ما بعد کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔  

(سیر الصحابہ: جلد 6 صفحہ127 تحت حالات امیر معاویہ)

قارئینِ محترم! آپ نے دلائل کے ساتھ سرورِ دو عالمﷺ اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کی امیہ نوازی ملاحظہ فرمائی۔ بنو ہاشم کے ساتھ آپﷺ کا کیا معاملہ تھا، جناب حکیم محمود احمد ظفر صاحب کی زبانی سنیں:  

اس کے برعکس نبی اکرمﷺ نے اپنی حیات میں کسی ہاشمی کو نہ تو مستقل طور پر کسی صوبہ کی حکومت عطا فرمائی اور نہ ہی کسی بڑی فوج کا خود مختار سپہ سالار بنایا۔ اپنی اس دنیوی زندگی کے آخری ایام میں آپﷺ‏ نے سیدنا علیؓ کو چند روز کے لیے یمن کا کلکٹر مقرر فرمایا، لیکن اقتدارِ اعلیٰ اور افسری سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی۔  

(حلیۃ الاولیاء ابو نعیم اصفہانی: جلد 1 صفحہ 354 مدارج النبوۃ: صفحہ 502 زرقانی: جلد 3 صفحہ99 مسند احمد: جلد 5 صفحہ235)

چنانچہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ کی پوری تاریخِ اسلام کی ورق گردانی فرمائیے، آپ کو ایک گورنر بھی ایسا نہیں ملے گا جس کا تعلق نسبی بنی ہاشم سے ہو، بلکہ بنو ہاشم میں سے بعض لوگوں نے تقرر کی خواہش کا اظہار کیا لیکن آپﷺ نے منظور نہ فرمایا۔ یہی وجہ تھی کہ نبی اکرمﷺ کی اس حیاتِ دنیوی کے آخری ایام میں جب آپﷺ کی طبیعت میں قدرے افاقہ ہوا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے علی! خدا کی قسم، تین دن کے بعد تم پر کوئی اور حاکم ہو گا اور تم اس کے محکوم ہو گے۔ خدا کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ اس بیماری میں انتقال فرما جائیں گے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہم رسول اللہﷺ سے اس بارے میں دریافت کر لیں کہ آپﷺ‏ کے بعد کون خلیفہ ہو گا؟ اگر ہم میں سے ہو گا تو معلوم ہو جائے گا، ورنہ آپ اس کو ہمارے متعلق وصیت فرماویں گے۔ سیدنا علیؓ نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ ہمارے بارے میں انکار فرما دیں تو پھر ہمیشہ کے لیے اس سے محروم ہو جائیں گے۔ بخدا میں اس بارے میں آپ سے ایک حرف بھی نہ کہوں گا۔  

(بخاری، کتاب المغازی: مسند احمد: جلد 1 صفحہ263، 325 البدایہ والنہایہ: جلد5 صفحہ227، 251)

غرض کہ عہدِ رسالت میں اکثر و بیشتر بنو امیہ کو گورنری کے عہدوں پر فائز کیا گیا اور بنو ہاشم میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ تھا جس کو آپﷺ‏ نے کسی اور جگہ کا گورنر بنا کر بھیجا ہو، حالانکہ آپﷺ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور آپﷺ کے چچا کے بیٹے سیدنا عقیل اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اور دیگر تمام عصبات موجود تھے۔ سرکاری عہدہ تو ایک طرف رہا، آپﷺ نے غزوات کے سلسلہ میں 28 مرتبہ مدینہ پاک کو چھوڑا، لیکن ایک مرتبہ بھی انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے آپﷺ نے بنو ہاشم میں سے اپنے نائبین کا تقرر نہیں فرمایا، بلکہ کبھی کسی اموی کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور کبھی کسی انصاری کو، کبھی کسی مخزومی کو تو کبھی کسی کلبی اور غفاری کو۔ جنگِ تبوک کے موقع پر آپﷺ نے سیدنا علیؓ کو مدینہ میں چھوڑا، لیکن اپنا قائم مقام اور مدینہ کا والی مقرر کر کے نہیں، بلکہ صرف اہل و عیال کی حفاظت اور خبرگیری کے واسطے، اور اپنا قائم مقام اور مدینہ کا والی محمد بن مسلمہ انصاریؓ کو مقرر فرمایا۔  

(طبقات ابنِ سعد: جلد1 صفحہ119 سیدنا معاویہ: شخصیت و کردار: صفحہ104، 106 تحت سیاسی نظام میں بنو امیہ کا مقام)

اب جبکہ روایۃً اور درایتًا بنو امیہ کی حیثیت واضح ہو گئی ہے اور مصنف نام و نسب کی پیش کردہ روایت کا بھرم کھل گیا ہے، ہم محدثین کے چند اقوال نقل کرتے ہیں، جس میں انہوں نے اس قسم کی مرویات کا یکجا تجزیہ کیا ہے۔

حافظ ابنِ قیم رحمۃ اللہ (متوفی 751ھ) فرماتے ہیں:  

ومن ذلك الاحادیث فی ذم معاویہ وکل حدیث فی ذمہ فھو کذب وکل حدیث فی ذم بنی امیہ فہو کذب 

(المنار المنیف: صفحہ110 فصل 33)  

یعنی ان گھڑی ہوئی روایات میں سے وہ احادیث ہیں جو حضرت امیرِ معاویہؓ کی تنقیص میں منقول ہیں اور ہر وہ حدیث جو ان کی تنقیص میں ہے، جھوٹی ہے، اور ہر وہ حدیث جو بنو امیہ کی تنقیص میں ہے، جھوٹ ہے۔

حضرت ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ (متوفی 1014ھ) فرماتے ہیں:  

ومن ذلك الاحادیث فی ذم معاویہ وذم بنی امیہ  

(موضوعات الملا علی قاری: صفحہ106 فصل ومما وضعہ جہلۃ المنتسبین الی السنۃ)  

یعنی ان جعلی روایات میں سے وہ بھی ہیں جو سیدنا امیرِ معاویہؓ اور بنو امیہ کی مذمت میں ہیں۔


صفحہ 2 از 2