1: حضرت عثمان اموی رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے۔
2: سیدنا عثمان اموی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے۔
3: حضرت عثمان اموی رضی اللہ عنہ کی بدولت چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ کی رضا کی سند ملی۔
4: حضرت عثمان اموی رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ کی علالت کے باعث غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے، مگر آپﷺ نے ان کو بدریوں میں شمار فرمایا اور غنائم میں سے حصہ عطا کیا۔
(بخاری: جلد1 صفحہ522 مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، الاستیعاب: جلد 3 صفحہ156 حرف العین تحت ذکر عثمان بن عفانؓ، اسد الغابہ: جلد 3 صفحہ 207 تحت عثمان بن عفانؓ)
5: غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جیشِ عسرہ کی تیاری کے لیے سرکارِ دو عالمﷺ کی خدمت میں زرِ کثیر پیش کیا تو آپﷺ نے فرمایا:
ما ضر عثمان ما عمل بعد ھذا الیوم
(مستدرک حاکم: جلد3 صفحہ102 کتاب معرفۃ الصحابہؓ)
آج کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی کام نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
6: حدیبیہ کے موقع پر سرورِ دو عالمﷺ نے حضرت عثمانؓ کو اپنا سفیر بنا کر مکہ روانہ فرمایا۔
(بخاری: جلد 1 صفحہ523 باب مناقب عثمان بن عفانؓ، مشکوٰۃ: صفحہ542 کتاب الفتن تحت مناقب عثمان بن عفانؓ)
7: اسی موقع پر آپﷺ نے اپنے دائیں دستِ مبارک کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا۔ (ایضاً)
8: فتح مکہ کے موقع پر آنحضرتﷺ نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کو دار الامن قرار دیا۔
(مسلم: جلد 2 صفحہ102 باب فتح مکہ)
9: غزوۂ حنین میں جب کفار کے قیدیوں کو زیرِ حراست رکھنے کی ضرورت پیش آئی تو آنحضرتﷺ نے اس کا نگران حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بنایا۔
(المصنف لعبد الرزاق: جلد5 صفحہ 381 تحت وقعۃ حنین)
10: علاقہ نجران جب فتح ہوا تو آنحضرتﷺ نے اس کے صدقات پر حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو عامل اور امیر مقرر فرمایا۔
(سنن الدار قطنی: جلد2 صفحہ14 روایت نمبر 46، تحت کتاب الطلاق)
11: قبیلہ بنی ثقیف کے اسلام لانے پر ان کے بت کو پاش پاش کرنے کے لیے آپﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہما کا انتخاب فرمایا۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 5 صفحہ30، 33 تحت قدوم وفد ثقیف علی رسول اللہﷺ)
12: سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کاتبِ وحی ہیں۔
(جوامع السیرۃ: صفحہ26 تحت کتابہ)
13: آنحضرتﷺ نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو علاقہ تیماء کا امیر مقرر فرمایا۔
(المحبر: صفحہ 126 تحت امراء رسول اللہﷺ)
14: آنحضرتﷺ نے سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو قبیلہ بنی فراس کے صدقات پر عامل مقرر فرمایا۔
(الاصابہ: جلد6 صفحہ 516 تحت یزید بن ابی سفیانؓ)
15: آنحضرتﷺ کے ملاقاتی اور مہمان سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے گھر ٹھہرتے تھے۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد7 صفحہ 149 تحت بانی الہمدانی)
16: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے۔
(جوامع السیرۃ: صفحہ 27 تحت کتابہ)
17: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو آنحضرتﷺ نے قطعہ اراضی کی تعیین پر روانہ فرمایا۔
(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد2 صفحہ 75 قسم الثانی، تحت باب وائل بن حجر)
18: آنحضرتﷺ کے قص شعر یعنی بال مبارک تراشنے کی سعادت حضرت امیرِ معاویہؓ کو حاصل ہوئی۔
19: آنحضرتﷺ نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ پر حاکم بنایا۔
20: حضرت خالد بن سعید اموی رضی اللہ عنہ کو عہدِ نبویﷺ میں بنی مذحج کے صدقات پر اور صنعاء و یمن پر حاکم و عامل بنایا۔
21: حضرت ابان بن سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ کو آنحضرتﷺ نے پہلے سرایا پر عامل بنایا، پھر بحرین کا۔
(منہاج السنہ: جلد3 صفحہ175، 176 فصل قال الرافضی: و اما عثمان فانہ ولی امور المسلمین من لا یصلح الولایہ)
22: عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو طائف اور اس کے ملحقات کا عامل بنایا۔
(تہذیب التہذیب: جلد5 صفحہ 491 تحت عثمان بن ابی العاص الثقفی)
سرِ دست ان بائیس حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہوں اور مصنف نام و نسب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جو قبیلہ مکروہ و مبغوض اور قابلِ نفرت تھا اس کو یہ مناصب کیوں عطا کیے گئے؟ ہم نے تطویل کے خوف سے دورِ صدیقی اور دورِ فاروقی کے مناصب کو چھوڑ دیا ہے۔ حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
وکان بنو امیہ اکثر القبائل عمالاً للنبیﷺ
(منہاج السنہ: جلد2 صفحہ145 فصل قال الرافضی: الوجہ الخامس فی بیان وجوب اتباع مذہب الامامیہ)
نبیﷺ کے مقرر کردہ عاملین میں دوسرے خاندانوں کی نسبت بنو امیہ کے لوگوں کی کثرت تھی۔
قاضی ابو بکر بن العربی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:
وعجباً لاستکبار الناس ولایۃ بنی امیہ، و اول من عقدهم الولایۃ رسول اللہﷺ
(العواصم من القواصم: صفحہ 234 تحت النبیﷺ اول من عقد الولایۃ بنی امیہ)
تعجب ہے کہ لوگ بنو امیہ کی حکومت و اقتدار سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں، حالانکہ جس ذاتِ گرامی قدر نے انہیں سب سے اول حکومت پر متعین فرمایا وہ رسول اللہﷺ کی ذات ہے۔
حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ ایک مقام پر مزید لکھتے ہیں:
ان بنی امیہ کان رسول اللہﷺ یستعملھم فی حیاتہ، واستعملھم من بعدہ من لا یتھم بقرابۃ فیہم ابوبکر الصدیق و عمر
(منہاج السنہ: جلد3 صفحہ175 فصل قال الرافضی: و اما عثمان فانہ ولی امور المسلمین من لا تصلح الولایہ)
آنحضرتﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں بنو امیہ کو عامل بنایا، پھر آپﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بنو امیہ کو اعلیٰ مناصب پر فائز فرمایا اور یہ حضرات بنو امیہ کی قرابت سے متہم نہ تھے۔
معروف ندوی مؤرخ حضرت مولانا شاہ معین الدین صاحب ندوی مرحوم بنو امیہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
بنو امیہ میدانِ رزم کے مرد تھے، حضرت عثمانؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے دور کی فتوحات اس کی شاہد ہیں۔ بحرِ روم میں سب سے پہلے امویوں ہی نے بیڑے دوڑائے، افریقہ کو امویوں ہی نے فتح کیا، یورپ کا دروازہ امویوں ہی نے کھٹکھٹایا۔ اموی اس لیے نہیں بھرے گئے تھے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ہم خاندان تھے، بلکہ اس لیے بھرے گئے تھے کہ وہ تلوار کے دھنی اور میدانِ جنگ کے مرد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تنہا بنی امیہ کے دور میں جس قدر فتوحات ہوتی ہیں اس کی نظیر ما بعد کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔
(سیر الصحابہ: جلد 6 صفحہ127 تحت حالات امیر معاویہ)
قارئینِ محترم! آپ نے دلائل کے ساتھ سرورِ دو عالمﷺ اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کی امیہ نوازی ملاحظہ فرمائی۔ بنو ہاشم کے ساتھ آپﷺ کا کیا معاملہ تھا، جناب حکیم محمود احمد ظفر صاحب کی زبانی سنیں:
اس کے برعکس نبی اکرمﷺ نے اپنی حیات میں کسی ہاشمی کو نہ تو مستقل طور پر کسی صوبہ کی حکومت عطا فرمائی اور نہ ہی کسی بڑی فوج کا خود مختار سپہ سالار بنایا۔ اپنی اس دنیوی زندگی کے آخری ایام میں آپﷺ نے سیدنا علیؓ کو چند روز کے لیے یمن کا کلکٹر مقرر فرمایا، لیکن اقتدارِ اعلیٰ اور افسری سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی۔
(حلیۃ الاولیاء ابو نعیم اصفہانی: جلد 1 صفحہ 354 مدارج النبوۃ: صفحہ 502 زرقانی: جلد 3 صفحہ99 مسند احمد: جلد 5 صفحہ235)
چنانچہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ کی پوری تاریخِ اسلام کی ورق گردانی فرمائیے، آپ کو ایک گورنر بھی ایسا نہیں ملے گا جس کا تعلق نسبی بنی ہاشم سے ہو، بلکہ بنو ہاشم میں سے بعض لوگوں نے تقرر کی خواہش کا اظہار کیا لیکن آپﷺ نے منظور نہ فرمایا۔ یہی وجہ تھی کہ نبی اکرمﷺ کی اس حیاتِ دنیوی کے آخری ایام میں جب آپﷺ کی طبیعت میں قدرے افاقہ ہوا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے علی! خدا کی قسم، تین دن کے بعد تم پر کوئی اور حاکم ہو گا اور تم اس کے محکوم ہو گے۔ خدا کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ اس بیماری میں انتقال فرما جائیں گے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہم رسول اللہﷺ سے اس بارے میں دریافت کر لیں کہ آپﷺ کے بعد کون خلیفہ ہو گا؟ اگر ہم میں سے ہو گا تو معلوم ہو جائے گا، ورنہ آپ اس کو ہمارے متعلق وصیت فرماویں گے۔ سیدنا علیؓ نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کہ رسول اللہﷺ ہمارے بارے میں انکار فرما دیں تو پھر ہمیشہ کے لیے اس سے محروم ہو جائیں گے۔ بخدا میں اس بارے میں آپ سے ایک حرف بھی نہ کہوں گا۔
(بخاری، کتاب المغازی: مسند احمد: جلد 1 صفحہ263، 325 البدایہ والنہایہ: جلد5 صفحہ227، 251)
غرض کہ عہدِ رسالت میں اکثر و بیشتر بنو امیہ کو گورنری کے عہدوں پر فائز کیا گیا اور بنو ہاشم میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ تھا جس کو آپﷺ نے کسی اور جگہ کا گورنر بنا کر بھیجا ہو، حالانکہ آپﷺ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور آپﷺ کے چچا کے بیٹے سیدنا عقیل اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اور دیگر تمام عصبات موجود تھے۔ سرکاری عہدہ تو ایک طرف رہا، آپﷺ نے غزوات کے سلسلہ میں 28 مرتبہ مدینہ پاک کو چھوڑا، لیکن ایک مرتبہ بھی انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے آپﷺ نے بنو ہاشم میں سے اپنے نائبین کا تقرر نہیں فرمایا، بلکہ کبھی کسی اموی کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور کبھی کسی انصاری کو، کبھی کسی مخزومی کو تو کبھی کسی کلبی اور غفاری کو۔ جنگِ تبوک کے موقع پر آپﷺ نے سیدنا علیؓ کو مدینہ میں چھوڑا، لیکن اپنا قائم مقام اور مدینہ کا والی مقرر کر کے نہیں، بلکہ صرف اہل و عیال کی حفاظت اور خبرگیری کے واسطے، اور اپنا قائم مقام اور مدینہ کا والی محمد بن مسلمہ انصاریؓ کو مقرر فرمایا۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد1 صفحہ119 سیدنا معاویہ: شخصیت و کردار: صفحہ104، 106 تحت سیاسی نظام میں بنو امیہ کا مقام)
اب جبکہ روایۃً اور درایتًا بنو امیہ کی حیثیت واضح ہو گئی ہے اور مصنف نام و نسب کی پیش کردہ روایت کا بھرم کھل گیا ہے، ہم محدثین کے چند اقوال نقل کرتے ہیں، جس میں انہوں نے اس قسم کی مرویات کا یکجا تجزیہ کیا ہے۔
حافظ ابنِ قیم رحمۃ اللہ (متوفی 751ھ) فرماتے ہیں:
ومن ذلك الاحادیث فی ذم معاویہ وکل حدیث فی ذمہ فھو کذب وکل حدیث فی ذم بنی امیہ فہو کذب
(المنار المنیف: صفحہ110 فصل 33)
یعنی ان گھڑی ہوئی روایات میں سے وہ احادیث ہیں جو حضرت امیرِ معاویہؓ کی تنقیص میں منقول ہیں اور ہر وہ حدیث جو ان کی تنقیص میں ہے، جھوٹی ہے، اور ہر وہ حدیث جو بنو امیہ کی تنقیص میں ہے، جھوٹ ہے۔
حضرت ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ (متوفی 1014ھ) فرماتے ہیں:
ومن ذلك الاحادیث فی ذم معاویہ وذم بنی امیہ
(موضوعات الملا علی قاری: صفحہ106 فصل ومما وضعہ جہلۃ المنتسبین الی السنۃ)
یعنی ان جعلی روایات میں سے وہ بھی ہیں جو سیدنا امیرِ معاویہؓ اور بنو امیہ کی مذمت میں ہیں۔