ہاں، ہم یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ مطلق تشیع ردِ روایت کے لیے کافی نہیں ہے، کیونکہ متأخرین اور متقدمین کی اصطلاح میں تشیع کا مطلب جدا جدا ہے۔
(تہذیب التہذیب: جلد 1 صفحہ 118، 119 حروف الالف، ترجمہ ابان بن تغلب الربعی)
لہٰذا متقدمین کے تشیع کو آج کے تشیع پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت امام حاکم شیعہ تھے، لیکن ان کے عہد سے لے کر آج تک کے محدثین ان کی احادیث کا اعتبار کرتے رہے ہیں۔ البتہ مستدرکِ حاکم کی تمام روایات ایک مرتبہ کی نہیں ہیں، بلکہ اس میں ہر قسم کی روایات موجود ہیں۔ لہٰذا محدثین کے نزدیک مستدرکِ حاکم کی وہی روایات قابلِ اعتبار ہیں جن کی تصحیح پر امام حاکم کے ساتھ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ (متوفیٰ 748ھ) تلخیص المستدرک میں متفق ہوں، کما قال الشاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ (متوفیٰ 1239 ہجری):
ولہٰذا علمای حدیث قرار دادہ اند کہ بر مستدرکِ حاکم اعتماد نباید کرد مگر بعد از دیدنِ تلخیصِ ذہبی
(بستان المحدثین: صفحہ، 113 تحت مستدرک حاکم)
اسی وجہ سے علمائے حدیث نے بیان کر دیا ہے کہ حاکم کی مستدرک پر تلخیصِ ذہبی کے دیکھے بغیر اعتماد نہ کرنا چاہیے۔
یہ وضاحت ہم نے مصنف نام و نسب کے اس بیان کی قلعی کھولنے کے لیے کی ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یاد رہے، ان کے ناقل شیعہ نہیں، خالص سنی ہیں۔
امام حاکم کو خالص سنی کہنا مولانا نصیر الدین کے نوادرات میں سے ہے۔
اب سندِ مصنف کی پیش کردہ روایت کا حال ملاحظہ ہو:
اس روایت کی سند جو مستدرکِ حاکم میں ہے، وہ یوں ہے:
أخبرنی محمد بن المؤمل بن الحسن، حدثنا الفضل، حدثنا نعیم بن حماد، ثنا الولید بن مسلم، عن أبی رافع إسماعیل بن رافع، عن أبی نضرة، قال: قال أبو سعید الخدری: قال رسول اللہﷺ: إن اہل بیتی سیَلقون الخ۔ ھذا حدیث صحیح الإسناد ولم یخرجاه
(مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 487 کتاب الفتن والملاحم)
جبکہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
لا و اللہ، لیس بصحیح، کیف و اسماعیل متروک، ثم لم یصح السند الیه
(ایضاً)
اللہ کی قسم، یہ روایت صحیح نہیں۔ یہ کس طرح صحیح ہو سکتی ہے کہ اس میں اسماعیل متروک ہے اور پھر سند بھی اسماعیل تک صحیح نہیں۔
ہم اوپر حضرت شاہ عبد العزیز صاحب رحمۃ اللہ کے حوالہ سے لکھ آئے ہیں کہ مستدرک کی صرف وہی حدیث قابلِ اعتماد ہو گی جس پر امام ذہبی رحمۃ اللہ، امام حاکم کے ساتھ متفق ہوں، اور یہاں حال یہ ہے کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ (متوفی 748ھ) اللہ کی قسم کھا کر اس روایت کے غیرِ صحیح ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔
اب ذرا دیگر راویوں کے حالات ملاحظہ ہوں:
1: اس روایت کی سند میں الفضل بن محمد الشعرانی ہے۔ محدث القتبانی کہتے ہیں کہ یہ کذاب ہے۔ میزان الاعتدال میں ہے کہ یہ غالی شیعہ ہے۔
(میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 358 ترجمہ الفضل محمد البیہقی الشعرانی)
سو غالی شیعہ کی روایت مذمّتِ بنو امیہ میں کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟ اور مصنف نام و نسب نے جو دعویٰ کیا تھا کہ ان کے راوی خالص سنی ہیں، کیا اس وقت محترم پیر صاحب غنودگی کے عالم میں تھے؟
2: اس روایت کی سند میں نعیم بن حماد ہے۔ اس کی توثیق و تضعیف میں محدثین کا اختلاف ہے۔ امام ابنِ معین فرماتے ہیں کہ حدیث میں وہ محض ہیچ ہے۔ امام ابو داؤدؒ فرماتے ہیں کہ اس نے آنحضرتﷺ سے بیس احادیث ایسی بھی روایت کی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ (ممکن ہے یہ حدیث بھی انہی میں سے ہو۔ ناقل) امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔ نعیم بن حماد تقویتِ سنت کے لیے جعلی حدیثیں بنایا کرتا تھا اور حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی توہین میں جھوٹی حکایات گھڑا کرتا تھا، جو سب کی سب جھوٹی ہیں۔
(تہذیب التہذیب: جلد8 صفحہ526، 530 ترجمہ نعیم بن حماد بن معاویہ بن الحارث)
امام صاحب رحمۃ اللہ کے دشمن کی روایت نصیر الدین صاحب ہی کے لیے حجت ہو سکتی ہے، اہلِ سنت اسے کسی طرح سے قبول نہ کر سکیں گے۔
(مشہور غیر مقلد عالم جناب ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب، نعیم بن حماد پر میزان الاعتدال، تہذیب التہذیب اور نہایۃ السئول کے حوالہ سے کڑی جرح نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
خلاصۃ الکلام یہ کہ نعیم کی شخصیت ایسی نہیں کہ اس کی روایت کی بناء پر حضرت امام ابو حنیفہؒ جیسے بزرگ امام کے حق میں بدگوئی کی جائے، جن کو حافظ شمس الدین ذہبیؒ جیسے ناقدر الرجال امامِ اعظم کے معزز لقب سے یاد کرتے ہیں۔ (تاریخِ اہلحدیث، صفحہ45)
مصنف نام و نسب کو اس اقتباس کو پڑھ کر ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ ایک غیر مقلد حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ کے خلاف نعیم بن حماد کی روایت کو قبول نہیں کرتا، اور مصنفِ نام و نسب اس کی روایت کی بنیاد پر پورے قبیلہ بنو امیہ، جس میں حضرت عثمانؓ اور سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ جیسے حضرات شامل ہیں، کو مبغوض ٹھہرا رہے ہیں۔)
3: اس روایت کی سند میں ولید بن مسلم بھی ہے، جو کہ مدلس ہے۔ ابو مسہرؒ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹے راویوں سے بھی تدلیس کر لیا کرتا تھا۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ (متوفی 748ھ) فرماتے ہیں کہ جب یہ عن سے روایت کرے تو اس کی حدیث قابلِ اعتبار نہیں۔
(میزان الاعتدال: جلد4 صفحہ 347 ترجمہ الولید بن مسلم، تہذیب التہذیب: جلد11 صفحہ169 حرف الواو، تحت الولید بن مسلم القرشی)
اتنی خرابیوں کے باوجود بھی اگر پیر نصیر الدین صاحب کی پیش کردہ روایت صحیح ہے، تو دنیا میں ضعیف و موضوع روایت کون سی ہو گی؟
اسی طرح امام حاکمؒ نے مستدرک میں سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ: کان أبغض الأحیاء إلی رسول اللہﷺ بنو أمیة، بنو حنیفة و ثقیف
(المستدرک للحاکم: جلد2 صفحہ 481)
جبکہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی تمام مرویات اپنی مسند میں نقل کی ہیں، مگر زیرِ بحث روایت میں بنو امیہ کا ذکر نہیں ہے، صرف بنو حنیفہ اور ثقیف کا ذکر ہے۔
(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 428 تحت مسندات ابو برزہ اسلمی)
اس روایت میں بھی بنو امیہ کا اضافہ کس کا کمال ہے؟
علی سبیلِ التنزل اگر ان روایات کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے، تو پھر بھی ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان قبائل کا ہر شخص اور ہر فرد ناپسندیدہ اور مبغوض ہے۔ اسی طرح کسی قبیلے، جگہ یا شہر کو پسند کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہو سکتا کہ اس قبیلے اور شہر کا ہر شخص محبوب اور پسندیدہ ہے۔ قبیلہ قریش آپﷺ کا محبوب قبیلہ اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ آپﷺ کے پسندیدہ شہر ہیں۔ مگر ابو لہب، ابو جہل و امثالِہم جو قریشی و مکی تھے اور یہود و منافقین جو مدینہ منورہ کے باشندے تھے، آپﷺ کو سخت ناپسند ہیں۔
امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ (متوفی 974 ہجری) نے بالکل صحیح کہا ہے:
أن هذا الاستنتاج أعنی قول المعترض: فهو الخ دليل على جهل مستنتجه، وأنه لا دراية له بمبادئ العلوم، فضلاً عن غوامضها، لأنه يلزم على هذه النتيجة لو سُلّمت أن عثمان و عمر بن عبد العزيز كليهما لا أهلية فيهما للخلافة، وأنهما من الأشرار، و ذلك خرق لإجماع المسلمين، وإلحاد فی الدين فبطلت تلك النتيجة، و بان أن قائلها جاهل أو معاند، فلا يرفع إليه رأس، ولا يقال له وزن، ولا يعبأ بما يلقيه، ولا يعتد بما يبديه، لقصور فهمه، وتحقق كذبه ووهمه
(تطہیر الجنان: صفحہ 30، 31 الفصل الثالث: فی الجواب عن امور طعن علیه بعضھم بھا)
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث سے حضرت امیرِ معاویہؓ کے متعلق کوئی نتیجہ اخذ کرنا، اس نتیجہ اخذ کرنے والے کی جہالت پر اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اسے مبادی علوم کی بھی درایت نہیں، چہ جائیکہ غوامضِ علوم، کیونکہ اس نتیجہ سے لازم آتا ہے کہ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ بھی اہلِ خلافت نہ ہوں اور معاذ اللہ اشرار میں شامل ہو جائیں، اور یہ بات اجماعِ مسلمین کے خلاف اور صریح الحاد ہے۔ پس یہ نتیجہ باطل ہوا اور اس کا قائل جاہل یا معاند ہے، جس کا کلام قابلِ التفات ہی نہیں، کیونکہ اس کا فہم ناقص اور کذب و وہم ثابت ہے۔