شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط سوم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط سوم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3
قال ما اصنع یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال صبرا صبرا یا عثمان حتیٰ تلقانی والرب عنک راضی
(مختصر تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 121)
اور یہ خاص عہد جس معاملے میں لیا گیا ہے اس کا بیان بھی حضورﷺ نے فرما دیا ہے 
یا عثمان ان ولاک اللہ ھذا الامر یوما فارادک المنافقون ان تخلع قمیصک الذی یقمصک اللّٰہ فلا تخلعہ۔
(ابن ماجہ: صفحہ، 11)
(مستدرک حاکم: جلد، 3 صفحہ، 107)
(الصواعق المحرقہ: صفحہ، 10) 
اے حضرت عثمانؓ اللہ اگر کسی دن تمہیں خلافت سے نوازے اور منافقین چاہیں کہ یہ قمیص جو اللہ نے تجھے پہنائی ہے تو اتار دے تو تم اسے ہرگز نہ اتارنا ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا
فو اللہ ان خلعته لا تری الجنۃ حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط
(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 309)
بخدا اگر تم نے اسے اتار دیا تو تم جنت کو نہ دیکھو گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے.
جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ اونٹ سوئی کی ناکے میں سے گزر جائے اسی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ تم اللہ کی پہنائی گئی قمیص کو اپنے اوپر سے نکال لو اور جنت کی ہوا پا لو، اس میں آپﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مؤقف کے حق ہونے کی شہادت دی اور انہیں استقامت کی تاکید فرمائی۔
حضرت عبد الرحمٰن بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے سیدنا عثمانؓ سے فرمایا:
ان اللہ کساک یوما سر بالا فان ادراک المنافقون علی خلعہ فلا تخلعہ لظالم۔
(طبقات: جلد، 3 صفحہ، 49)
حافظ ابنِ حجر مکیؒ لکھتے ہیں کہ 
یہ حدیثیں آپؓ کی ظاہری طور پر خلافت کی حقیقت پر واضح دلالت کرتی ہیں حدیث میں قمیص سے کنایہ خلافتِ الہیہ مراد لی گئی ہے
(الصواعق المحرقہ: صفحہ، 109)
حضورﷺ نے اس میں اشارہ فرما دیا کہ جب بھی وہ وقت آئے اور لوگ آپؓ سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کریں تو ان کی بات نہ ماننا، یہ خلافت اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس میں جان تو دی جا سکتی ہے مگر اللہ کی پہنائی خلعت پر کسی طور حرف نہ آنے دینا، آپﷺ نے ان لوگوں کو جو آپؓ سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے منافق اور ظالم قرار دیا ہے، چنانچہ سیدنا عثمانؓ کو اپنی جان سے زیادہ حضورﷺ کی بات کا احترام تھا، آپؓ نے جان تو دے دی مگر خلافت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ آپؓ کی مظلومانہ شہادت کی خبر حضورﷺ نے پہلے دے دی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک فتنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
یقتل ھذا فیھا مظلوما لعثمان
جامع ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 212)
( الصواعق المحرقہ: صفحہ، 110) 
️اس میں عثمانؓ مظلوم ہونے کی حالت میں مارا جائے گا۔
ان دنوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد حج کے لیے مکہ مکرمہ میں جا چکی تھی بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین غزوہ کے لیے گئے ہوئے تھے، ادھر مدینہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد کم تھی ان میں بہت سے حضرات اس خوش فہمی میں رہے کہ گفت و شنید کے بعد معاملہ رفع دفع ہو جائے گا اور بات دور تک نہ جائے گی چنانچہ باغیوں نے لوگوں کی کمی اور حج کی وجہ سے ان کی غیر حاضری کا فائدہ اٹھایا
وانتھزوا الفرصۃ بقلۃ الناس وغیبتھم فی الحج
 (البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 188)
ان میں سے بعض بزرگوں نے باغیوں کو سمجھانے کی کوششیں جاری رکھیں مگر وہ اس ایک مطالبہ کے سوا کوئی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے اور ادھر سیدنا عثمانؓ اس ایک بات کے سوا باقی باتوں کو تسلیم کر سکتے تھے معاملہ دن بدن بڑھتا رہا تقریباً چالیس روز تک سیدنا عثمانؓ کے گھر کا گھیراؤ جاری رہا اور اس دوران سیدنا عثمانؓ کے گھر کا پانی بند کر دیا گیا اور آپؓ تک پانی پہنچانے کی بھی اجازت نہ دی گئی۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے غلاموں کے ذریعہ آپؓ تک پانی پہنچانا چاہا مگر وہ بھی بڑی مشکل سے آپؓ تک پہنچایا گیا اس میں آپؓ کا غلام زخمی ہوا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا اے لوگو! جو کچھ تم کر رہے ہو یہ نہ تو مسلمانوں کا کام ہے اور نہ ہی کافروں کا، تم سیدنا عثمانؓ سے کھانے پینے کی چیزیں کیوں روک رہے ہو، روم اور فارس کے لوگ بھی اگر کسی کو قید کرتے ہیں تو وہ اسے کھلاتے پلاتے ہیں اور حضرت عثمانؓ نے تو تم لوگوں سے کوئی تعرض بھی نہیں کیا ہے تم کس بناء پر ان کا محاصرہ کر رہے اور ان کے قتل کو جائز سمجھتے ہو؟ 

صفحہ 3 از 3