شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط سوم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط سوم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3
سیدنا عثمانؓ نے قسم کھا کر اس خط سے براءت کا اظہار کیا حضرت علی المرتضیٰؓ اور دوسرے اکابرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کھل کر آپؓ کی تائید کی مگر ابنِ سباء یہودی کے کارندوں نے سیدنا عثمانؓ کی بات ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ پہلے سے ہی یہ طے کرکے آئے تھے کہ وہ ہر حال میں سیدنا عثمان غنیؓ کو خلافت سے دستبردار کر کے رہیں گے اور ہوا بھی یہی، وہ اپنی بات پر اڑے رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا یہ مطالبہ سختی سے مسترد کر دیا اور آپؓ بھی اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے رہے آپؓ نے ان سے کہا کہ جہاں تک میرے عمال کے بارے میں کوئی بات ہے تو میں وہ مطالبہ پورا کر دیتا ہوں لیکن تمہاری یہ بات کہ تم خلافت سے دستبردار ہوجاؤ یہ نہیں ہو سکتا، یہ قمیص اللہ نے مجھے پہنائی ہے اور حضورﷺ کی زبان سے میں نے یہ بات سنی کہ یہ قمیص اللہ نے مجھے پہنائی ہے میں اسے نہیں اتاروں گا۔ 
لا انزع سربالا سربلنیہ اللہ ولکن انزع عما تکرھون
(طبقات: جلد، 3 صفحہ، 49) 
چنانچہ انہوں نے آپؓ کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور آپؓ کو مسجد نبویﷺ میں نماز پڑھنے سے بھی روک دیا، معاملہ جب حد سے بڑھنے لگا تو سیدنا عثمانؓ نے سیدنا علیؓ اور سیدنا طلحہؓ کو بلایا وہ تشریف لے آئے تو آپؓ نے ان سب کے سامنے فرمایا کہ 
اے اہلِ مدینہ میں تمہیں خدا کے سپرد کرتا ہوں اور اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے بعد تم پر بہتر شخص خلافت کرے، میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے وفاتِ عمر پر دعا مانگی تھی کہ اللہ تمہیں تمہارے بہترین پر جمع کر دے اگر تم کہتے ہو کہ خدا نے تمہاری دعا قبول نہیں کی تم خدا کے نزدیک کم مرتبہ ہو تو کہو کہ اللہ کا دین اس کے ہاں اس قدر بے حقیقت ہے کہ وہ اس کا فیصلہ نہ کر پایا کہ اپنے دین کا والی کس کو بنا رہا ہے یا کہو کہ خلافتِ شوریٰ سے نہیں ہوئی تو پھر امت نے خدا کی نافرمانی کی یا کہو کہ اللہ نے میرا انجام نہیں جانا۔ میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا مجھے اسلام میں سبقت اور تقدم حاصل نہیں ہے اللہ نے ہر بعد والے پر مجھے مقدم کیا اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔ 
ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں کہ پھر آپؓ ایک جمعہ کو منبر پر کھڑے ہوئے اس وقت آپؓ کے ہاتھ میں وہی عصا تھا جس پر حضورﷺ دورانِ خطبہ ٹیک لگایا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے تو مجمع میں سے جحیاہ نامی شخص اٹھ کر آپؓ کو برا بھلا کہنے لگا اور آپؓ کے منبر سے اترنے کا مطالبہ کیا اور آپؓ کے ہاتھ سے عصا لیکر اسے اپنے دائیں گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا جس سے اس کا پیر زخمی بھی ہوا (اللہ نے اسے پھر یہ سزا دی کہ اس کا یہ پیر گل سڑ گیا تھا اور اس میں کیڑے پڑ گئے تھے) سیدنا عثمانؓ منبر سے نیچے اترے اور عصا کو دوبارہ جوڑنے کا حکم دیا۔
(البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 347) 
اسی طرح ایک اور موقع پر باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کے ساتھ گستاخی سے پیش آنے کی کوشش کی تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ نے انہیں باز آنے کے لیے کہا تو باغیوں کے ٹولے نے انہیں مارا اور جو لوگ سیدنا عثمانؓ کی حمایت میں کھڑے ہوئے ان پر بھی پتھر مارے حتیٰ کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی نہ چھوڑا، آپؓ اس حملہ میں منبر سے بیہوش ہو کر گر گئے تھے پھر لوگوں نے آپؓ کو اٹھا کر آپؓ کے گھر پہنچایا۔
سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اس دوران آپؓ کی عیادت کو آئے اور بتایا کہ مصریوں اور دیگر باغیوں نے دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے تو آپؓ کو اس کا افسوس ہوا۔ اس دوران صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت آپؓ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ آپؓ اجازت دیں تا کہ ہم ان کے خلاف قتال کرکے ان کی شرارتوں کو روک دیں آپؓ نے فرمایا کہ نہیں، اور انہیں قسم دی کہ وہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور پرسکون رہیں گے۔ 
باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کر کے آپؓ کا باہر نکلنا بند کر دیا۔ بہت سے لوگ معاملہ کی نزاکت کو سمجھ نہ پائے تھے جبکہ بہت سے اس امید پر تھے کہ یہ مسئلہ کسی نہ کسی مصالحت پر منتج ہو جائے گا، ان میں سے کسی کو بھی یہ امید نہ تھی کہ یہ لوگ اس حد تک بھی جائیں گے کہ سیدنا عثمانؓ کو شہید کر دیں گے۔ باغیوں کا اصرار تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلافت چھوڑ دیں جبکہ سیدنا عثمانؓ اس بات پر سختی سے قائم تھے کہ وہ خلافت نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ انہیں حضورﷺ نے سختی سے اس پر ڈٹے رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ جن دنوں بیمار تھے آپؓ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ کوئی آپؓ کے پاس ہوتا ہم نے کہا حضورﷺ فرما دیں تو سیدنا ابوبکرؓ کو بلا دیں، آپﷺ نے کوئی جواب نہ دیا ہم نے کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں، آپؓ پھر بھی خاموش رہے ہم نے کہا حضرت عثمانؓ کو بلالیں حضورﷺ نے فرمایا ہاں انہیں بلاؤ۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جب تشریف لائے تو حضورﷺ نے تنہائی میں ان سے کچھ گفتگو فرمائی حضورﷺ کی باتیں سن کر سیدنا عثمانؓ کا رنگ بار بار بدلتا تھا۔ حضورﷺ نے سیدنا عثمانؓ سے کیا فرمایا اسے خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سنیے۔ آپؓ نے یہ بات اس وقت فرمائی جب آپؓ اپنے گھر میں قید کر دیے گئے تھے آپؓ نے فرمایا۔
ان رسول اللہﷺ عھد الی امرا فانا صابر نفسی علیہ
(مستدرک حاکم: جلد، 3 صفحہ، 106) 
حضورﷺ نے مجھ سے ایک خاص عہد لیا تھا اور میں اس بارے میں صبر کرنے والا ہوں۔
قیس کہتے ہیں کہ لوگوں نے آپؓ کو اس دن بڑے صبر کے ساتھ وہ لمحات گزارتے دیکھا تھا۔
(مسند احمد: جلد، 3 صفحہ، 93)
پھر آپﷺ نے سیدنا عثمانؓ کے لیے یہ دعا بھی فرمائی تھی۔
اللہم صبر عثمان بن عفان۔
اے اللہ حضرت عثمانؓ کو صبر کی توفیق دینا۔
(ریاض: جلد، 3 صفحہ، 58) 
ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میرے بعد آپؓ کو ایک بڑے امتحان سے گزارا جائے گا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ جب ایسا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے آپﷺ نے فرمایا اے سیدنا عثمانؓ صبر کا دامن تھامے رکھنا یہاں تک کہ تو مجھ سے آ ملے اور تیرا رب تجھ سے خوش ہو۔ 
صفحہ 2 از 3