امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ -…

امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اور ثابت کیا ہے کہ یہ روایت پانچ اسناد سے مروی ہے، ان میں تین متصل اور دو مرسل ہیں، لیکن کوئی بھی سند مختلف علتوں سے خالی نہیں، سب کی سب سخت ضعیف ہیں، ان تمام روایات میں ضعف کی جو بھی نوعیت ہے وہ تو ہے ہی، مگر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی سند سے مروی حدیث کے علاوہ کسی میں بھی اس من گھڑت وسیلہ کا ذکر نہیں ہے۔ پس اس سلسلہ کی روایات اس حدیث کو بھی معلول کی فہرست میں شامل کر دیتی ہیں، اس لیے کہ سب میں ضعف ہے اور ہر ایک کی علت ضعف دوسرے سے مربوط ہے، جس کی بنا پر حدیث کی عدم قبولیت اور ضعف میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔

جہاں تک اس حدیث کے متن کا تعلق ہے تو وہ بھی چند اعتبار سے غیرمعتبر ہے، تجہیز، تکفین اور تدفین سے متعلق عہد نبوی میں جو نظام عموماً جاری تھا، یہ حدیث اس میں مبالغہ آمیزی اور انتہا پسندی پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ عورت کو غسل دینے اور اس کی تکفین کے بارے میں رسول اللہﷺ کی جو سنت رہی ہے، کئی اعتبار سے یہاں اس کی مخالفت ہو رہی ہے، مثلاً:

کسی عورت کی میت کو آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے پانی ڈال کر غسل دیا ہو ایسا کوئی واقعہ آپ کی زندگی میں کہیں نہیں ملتا، آپ کی لخت جگر زینب کو غسل دلانے سے متعلق جو واقعہ حدیث میں ملتا ہے اس میں بھی آپﷺ نے خود نہیں غسل دیا تھا، بلکہ دیگر خواتین کو حکم دیا تھا کہ اسے ایسے ایسے غسل دیں۔

چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں محمد بن سیرین سے روایت ہے، انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ہم آپﷺ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپﷺ ہمارے پاس آئے اور کہا: بیری کے پتے ملے ہوئے پانی سے اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اور اگر اس سے زیادہ کی ضرورت محسوس کرو تو مزید غسل دو اور آخر میں کافور استعمال کر لو، جب غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب ہم غسل دے کر فارغ ہو گئیں تو آپﷺ نے ہماری طرف اپنا ازار بند بڑھایا اور کہا: اسے اس کو اوپر سے پہنا دو، آپﷺ نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا۔ (الدعاء و منزلتہ من العقیدۃ الإسلامیۃ: صفحہ 794-798)

نبی اکرمﷺ کا اپنے ہاتھ سے کوئی قبر کھودنا، پھر اس کی مٹی خود ہی باہر نکالنا اور پھر لحد میں لیٹ جانا، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا تذکرہ اس ضعیف حدیث کے علاوہ آپ کی زندگی میں کہیں نہیں ملتا، یہ سب عمل آپﷺ کے افعال و فرمودات کے خلاف ہیں اور مبالغہ و افراط پر مشتمل ہیں۔

 غائب کے صیغہ سے دعا کا آغاز کرنا، پھر مخاطب کا صیغہ بعد میں استعمال کرنا، یہ اسلوب دعا آپﷺ سے منقول شدہ ان ماثورہ دعاؤں کے خلاف ہے، جن کا آغاز صیغۂ مخاطب ’’اَللّٰہُمَّ اَنْتَ…‘‘ سے کہتے ہوئے ہوتا ہے۔ اس روایت میں مذکور دعا: ’’اَللّٰہُ الَّذِیْ…‘‘ کے علاوہ ہمیں کہیں ان صیغوں سے دعا کا آغاز نہیں ملتا ہے۔

 اس روایت کے ضعیف ہونے کی سب سے قوی دلیل راوی کا یہ اعتراف ہے کہ آپﷺ نے خلاف عادت یہ سب کام صرف ایک مرتبہ اسی مقام پر کیا تھا۔ شاید راوی یہ کہہ کر اس روایت کے لیے وجہ جواز پیش کرنا چاہتا تھا، لیکن حقیقت اور افسانے میں بڑا فرق ہے۔

(الدعاء و منزلتہ من العقیدۃ الإسلامیۃ: صفحہ 794-798)


صفحہ 2 از 2