ممنوعاتِ خیبر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ممنوعاتِ خیبر

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

روی اللیث بن سعد عن بکیر بن الاشج عن عمار مولى الشريد قال سألت ابن عباس من المتعة اسفاح هي ام نکاح قال لا سفاح ولا نکاح قلت فما هي قال المتعة کما قال تعالیٰ۔ قلت هل علیها عدة قال نعم حیضة قلت یتوارثان قال لا۔(تفسیر قرطبی :صفحہ 132 جلد 5)

ام لیث بن سعد بن بکیر بن اشج سے روای ہیں کہ عمار مولائے شرید سے کہا کہ میں نے ابن عباسؓ سے متعہ کے متعلق یہ سوال کیا کہ متعہ زنا ہے یا نکاح۔ فرمایا متعہ نہ زنا ہے نہ نکاح ہے۔ میں نے پھر سوال کیا کہ آخر وہ کیا ہے؟ فرمایا کہ وہ متعہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر لفظ متعہ کا اطلاق کیا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ متعہ والی عورت پر عدت ہے؟ فرمایا کہ ہاں متعہ کی مدت گزرنے کے بعد اس پر ایک حیض کا انتظار کرنا واجب ہے۔ میں نے سوال کیا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے؟ فرمایا نہیں۔

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ نکاح متعہ یعنی مؤقت ایک برزخی مقام ہے یعنی نکاح مطلق اور زنا محض کے درمیان ایک درمیانی درجہ ہے۔ ابتداء اسلام میں صرف یہ صورت بھی ایسی مجبوری کی حالت میں جائز تھی جیسا کہ مجبوری کی حالت میں مردار اور خنزیر حلال ہو جاتا ہے۔ 

اس کے بعد امام قرطبیؒ فرماتے ہیں۔

قال ابو عمر لم یختلف العلماء من السلف والخلف ان المتعة نکاح الی اجل لا میراث فیه والفرقة تقع عند انقضاء الاجل من غیر طلاق وقال ابن عطیة وکانت المتعة ان یتزوج الرجل بشاھدین واذن الولی الی اجل مسمى وَعَلیٰ ان لا میراث بینھما ویعطیھا ما اتفقا علیه فاذا انقضت المدة فلیس لہ علیھا سبیل ویستبرئ رحمھا لان الولد لا حق فیه بلا شک فان لم تحمل حلت لغیره وفى کتاب النحاس فى ھذا خطاء وان الولد لا یلحق فی نکاح المتعة (قلت) ھذا ھو المفهوم من عبارة النحاس فانه قال انما المتعة ان یقول لھا اتزوجک یوما او ما اشبہ ذلک علی انہ لا عدة علیک ولا میراث بیننا ولا طلاق ولا شاھد یشھد علی ذلک وھذا ھو الزنا بعینہ ولم یبح قط فی الاسلام ولذا قال عمر لا اوتی برجل تزوج متعة الا غیبتہ تحت الحجارہ۔

(تفسیر قرطبی: جلد 5 صفحہ 132)

خلاصہ کلام:

یہ کہ احادیث نبویہ میں جس نکاح متعہ کی اباحت اور پھر اس کی حرمت اور ممانعت کا ذکر ہے اس سے یہ عرفی متعہ ہرگز مراد نہیں جس کے حضرات شیعہ قائل ہیں۔ بلکہ اس سے وہ نکاح مؤقت مراد ہے کہ جو نکاح ایک مدت معین کے لیے گواہوں کی موجودگی میں ولی کی اجازت سے منعقد ہو اور پھر مدت معینہ گزر جانے کے بعد بلا طلاق کے مفارقت واقع ہو جائے اور پھر اس کے بعد وہ عورت بغیر ایک حیض آئے دوسرے مرد سے متعہ نہ کر سکے۔  

یہ صورت ابتداء اسلام میں بایں معنیٰ جائز اور مباح تھی کہ شریعت میں اس خاص صورت کی ممانعت اور حرمت کا ابھی تک کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ شراب اور سود کے ابتداء اسلام میں مباح اور حلال ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء اسلام میں حق تعالیٰ کی طرف سے شراب اور سود کی ممانعت اور حرمت کا ابھی تک کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اور جن لوگوں نے ممانعت سے پہلے شراب پی یا سود لیا، شریعت کی طرف سے ان پر کوئی حد جاری نہیں کی گئی اور نہ ان کو کوئی سزا دی گئی۔ یہاں تک کہ شراب اور سود کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔

ابتداء اسلام میں شراب اور سود کے حلال ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذاللہ شریعت کی طرف سے اجازت تھی کہ جس کا جی چاہے شراب پیئے اور جس کا جی چاہے سود لے۔ اسی طرح متعہ یعنی نکاح موقت کے ابتداء اسلام میں جائز اور مباح ہونے کے یہ معنیٰ ہیں کہ ابتداء اسلام میں نکاح متعہ، یعنی نکاح مؤقت کی ممانعت تھی، معاذاللہ یہ معنیٰ نہیں کہ نبی اکرمﷺ نے قولاً نکاح متعہ کی اجازت دی تھی۔ نکاح متعہ کی حرمت کا پہلا اعلان غزوہ خیبر میں ہوا اور پھر غزوہ اوطاس میں اور پھر غزوہ تبوک میں اور پھر حجۃ الوداع میں تاکہ عوام وخواص کو اس کی حرمت کا خوب علم ہو جائے اور نبی اکرمﷺ کا حرمت متعہ کے متعلق یہ بار بار اعلان اسی پہلے اعلانِ حرمت کی تاکید کے لئے تھا کہ جو آپﷺ غزوہ خیبر میں فرما چکے تھے، کوئی جدید حکم نہ تھا۔  

باقی شیعوں والا متعہ کہ مرد عورت سے ایک دن یا دو دن ایک گھنٹے یا دو گھنٹے کے لیے معاوضہ لے کر کے استفادہ کرے تو یہ صریح زنا اور صریح بدکاری ہے۔ یہ صورت کبھی بھی اسلام میں جائز نہیں ہوئی۔ چہ جائیکہ منسوخ ہوئی جیسے زنانہ بھی مباح ہوا اور نہ منسوخ ہوا۔

بلکہ

ابتداء آفرنیش عالم سے لے کر اب تک سوائے مذہب شیعہ کے کسی دین اور مذہب میں متعہ جائز نہیں ہوا، معاذاللہ اگر شیعوں والا متعہ جائز ہو جائے تو پھر نسب میں بھی خلل واقع ہوگا اور اولاد بھی ضائع ہوگی اور وراثت اور مورث کی تمیز نہ ہوگی اور نہ یہ معلوم ہوگا کہ کون بیٹا ہے اور کون بھائی۔ نیز میراث اور طلاق اور عدت کے جو احکام شریعت میں آئے ہیں وہ سب معطل ہو جائیں گے۔ نیز شریعت نے نکاح میں جو چار عورتوں کی حد مقرر کی ہے وہ بھی معطل ہو جائے گی۔ اس لیے کہ متعہ میں نہ چار کی قید ہے نہ عدت ہے اور نہ طلاق ہے اور نہ میراث ہے، ایک متعہ کے قائل ہونے سے قرآن و حدیث کے یہ تمام احکام یکلخت معطل ہوئے جاتے ہیں۔ بلکہ نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی۔ مرد اپنی حاجت متعہ سے پوری کر لیں گے اور عورتیں اپنے نان نفقہ اور دکھ اور درد کے مستقل کفیل اور ذمہ داری سے محروم ہو جائیں گی اور چلتے پھرتے اوباشوں پر ان کی نظر ہوگی اور پھر وہ شباب گزرنے کے بعد کون ان کا کفیل اور ذمہ دار ہوگا۔

حضرات شیعہ غور کریں کہ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ذلت اور مصیبت کا منظر ہو سکتا ہے، شیعوں کو چاہیے کہ دل و جان سے سیدنا عمر فاروقؓ کے شکر گزار ہوں کہ جس نے اپنے دورِ خلافت میں اس بے حیائی کا نام و نشان بھی مٹا دیا۔ 

حرمتِ متعہ کی ایک وجدانی دلیل:

ہر شریف الطبع اور باعزت انسان اپنے اور اپنی بیٹی اور بہن کے نکاح کے اعلان کو فخر سمجھتا ہے اور غایتِ مسرت اور انبساط کے ساتھ وہ نکاح پر اقارب اور احباب کو مدعو کرتا ہے۔ 

صفحہ 3 از 4