ممنوعاتِ خیبر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ممنوعاتِ خیبر

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

بعد ازاں سیدنا عمرؓ کے زمانہ خلافت میں بعض لوگ ناواقفیت کی بنا پر جن پر متعہ کی خبر نہ پہنچی تھی اس فعل کا ارتکاب کر بیٹھے تو فاروقِ اعظمؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو سخت ناراض ہوئے اور منبر پر چڑھے اور خطبہ دیا اور متعہ کی حرمت کا اعلان فرمایا تاکہ اس کی حرمت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ اور یہ فرمایا کہ میرے اس اعلان کے بعد اب اگر کوئی متعہ کرے گا تو میں اس پر زنا کی حد جاری کروں گا۔ اس وقت سے متعہ بالکل موقوف ہوگیا اور اسی پر تمام صحابہؓ کا اجماع ہوگیا اور عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ جو لاعلمی کی بنا پر متعہ کی اباحت کے قائل تھے۔ جب ان کو متعہ کی حرمت اور ممانعت کا علم ہوا تو اپنے قول سے رجوع کیا۔ جیسا کہ ابوبکر جصاص نے احکام القرآن صفحہ 147 جلد 2 میں نہایت تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ حضرات اہل علم فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ کی تفسیر میں یہ تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

عبداللہ بن عباسؓ کی پیدائش ہجرت سے ایک یا دو سال پہلے ہوئی اور آٹھ یا نو برس کی عمر تک اپنے والدین کے ساتھ مکہ معظمہ میں رہے۔ فتح مکہ کے بعد 8ھ میں جب حضرت عباسؓ نے مع خاندان کے ہجرت فرمائی تو ابن عباس اپنے والد محترم کے ساتھ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور غزوہ خیبر (جس میں حرمت متعہ کا اعلان ہوا تھا) وہ ابن عباس کے مدینہ منورہ آنے سے قبل ہو چکا تھا اور اس عرصہ میں کوئی متعہ کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔ اس لیے حضرت عباسؓ کو بذات خود متعہ کے متعلق کوئی خبر نہیں ہوئی۔ صرف دوسرے صحابہؓ کی زبانی سنا اور اس بناء پر فتویٰ دیا کہ جس طرح مجبوری کی حالت میں مردار اور خنزیر مباح ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مجبوری کی حالت میں متعہ بھی جائز ہے۔ لیکن بعد میں جب حضرت علیؓ نے اور دیگر صحابہؓ کرام نے متعہ کے متعلق قیامت تک کی حرمت اور ممانعت کی روایتیں ابن عباس کو سنائیں تو ابن عباس نے اس سے رجوع فرمایا۔ حضرت علیؓ سے حرمت متعہ کی روایتیں پیش آئیں مگر حضرات شیعہ، متعہ کے اس درجہ شیدائی ہیں کہ سیدنا علیؓ کی بھی نہیں سنتے۔ 

قال الامام ابو جعفر الطحاوی کل ھؤلاء الذین رووا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اطلاقھا اخبروا انھا کانت

فے سفر وان النھی لحقہافے ذٰلک السفر بعد ذٰلک فمنع

منھا ولیس احد منھم یخبر انھا کانت فی حضرو

کذلک روی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ

(تفسیرقرطبی: صفحہ 131جلد 2)

امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ جتنے لوگوں نےبھی متعہ کی اباحت اور رخصت کو بیان کیا ہے سب نے بالاتفاق بھی بیان کیا ہے کہ یہ وقتی رخصت فقط حالتِ سفر میں پیش آئی ہے اور پھر یہ بھی بیان کیا کہ پھر اسی سفر میں اباحت کے بعد متصل فوراً ہی متعہ کی ممانعت کا اعلان ہوا اور ایک راوی بھی ایسا نہیں کہ جو یہ بیان کرتا ہو کہ متعہ کا واقعہ حضر میں پیش آیا ہو اور ایسا ہی عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے۔

اور اسی طرح امام حازّمیؒ فرماتے ہیں:

وانما کان ذلک فی اسفارھم ولم یبلغنا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اباحھم لھم وھم فی بیوتهم

(اکتاب الاعتبار:صفحہ 178)

متعہ کی اباحت کا جو واقعہ بھی ہوا وہ جزایں نیست کہ سفر میں ہوا اور ہم کو کسی ایک راوی سے آنحضرتﷺنے گھر اور وطن میں رہنے کی حالت میں

بھی ان کو متعہ کی اجازت دی ہو۔ یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وطن میں رہ کر کسی نے متعہ کیا ہو۔

ابتداء اسلام میں کس قسم کا متعہ مباح تھا

جاننا چاہیے کہ لفظ متعہ ”متاع“ سے مشتق ہے جس کے معنیٰ نفع قلیل کے ہیں کما قال تعالیٰ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ اور مطلقہ کو جو کپڑے وغیرہ کا جوڑا دیا جاتا ہے اس کو بھی متعہ اس لیے کہتے ہیں کہ بمقابلہ مہر نفع قلیل ہے۔ کما قال تعالیٰ فَمَتِّعُوۡهُنَّ وَلِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ، یہ متعہ کے اصل معنیٰ ہوئے اور متعہ کا اطلاق دو معنی پر آتا ہے۔ ایک یہ کہ متعہ سے” نکاح مؤقت“ مراد ہو یعنی ایک مدت معینہ کے لیے گواہوں کے سامنے کسی عورت سے ازدواجی تعلق قائم کیا جائے اور مدت معینہ گزرنے کے بعد بلا طلاق مفارقت واقع ہو جائے۔ لیکن مفارقت کے بعد استبراء رحم کے لیے ایک مرتبہ ایام ماہواری کا انتظار کرے۔ تاکہ دوسرے نطفے کے ساتھ اختلاط سے محفوظ رہے۔ یہ صورت ابتداء اسلام میں جائز تھی۔ بعد میں ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ یعنی متعہ یعنی نکاح موقت ابتداء اسلام میں جائز تھا اور بعد میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا۔

اور متعہ کے دوسرے معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی شخص کسی عورت سے یہ کہے کہ میں تجھ سے ایک روز کے لیے منتفع ہوں گا اور اس ایک روزہ یا دو روزہ انتفاع کی تجھ کو یہ اجرت دوں گا تو یہ صریح زنا ہے اور عین زنا ہے۔ متعہ کی یہ صورت کبھی بھی اسلام میں جائز اور مباح نہیں ہوئی تاکہ اس کو منسوخ کہا جائے۔ بلکہ متعہ کی صورت کسی دین میں بھی حلال نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ متعہ کی یہ صورت صریح زنا ہے اور زنا کسی دین میں کبھی بھی حلال نہیں ہوا۔ البتہ متعہ کی پہلی صورت یعنی ”نکاح مؤقت“ (یعنی مدت معینہ کے لیے گواہوں کی موجودگی میں ولی کی اجازت سے تعلق قائم کرنا اور مدت معینہ گزرنے کے بعد ایک حیض عدت گزارنا) یہ ایک برزخی مقام ہے۔ یعنی یہ نکاح مؤقت نکاح مطلق اور زنا محض کے درمیان ایک درمیانی درجہ ہے کہ جو نہ زنا محض ہے اور زنا نکاح مطلق ہے۔ کہ جس میں طلاق اور عدت اور میراث، ہو نکاح متعہ کی یہ صورت حقیقی نکاح نہیں بلکہ نکاح حقیقی کے ساتھ صرف ظاہری مشابہت ہے کہ متعہ کی اس صورت میں گواہ کی بھی اور ولی کی اجازت کی بھی ضرورت ہے۔ اور مرد سے علیحدہ ہونے کے بعد اگر دوسرے مرد سے متعہ کرنا چاہے تو جب تک ایک مرتبہ حیض نہ آ جائے اس وقت تک دوسرے مرد سے متعہ نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس صورت کو محض زنا بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ایسے نکاح مؤقت میں (کہ جس میں ابتداء گواہی اور اذن ولی ضروری ہو اور انتہاء استبراء رحم کے لیے حیض کا آنا ضروری ہو) اور ”نکاح صحیح و مؤبد“ میں صرف مؤقت اور موجود اور میراث کا فرق ہے۔ باقی شرائط میں دونوں متفق ہیں۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:

صفحہ 2 از 4