چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات - ردِ رافضیت |…

چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4

عبد اللہ بن زید عامری کے طریق سے ان کے والد سے روایت کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں سیدنا علیؓ سے کہا گیا کہ یہاں مسجد کے دروازے پر کچھ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آپ ان کے رب ہیں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا تمہاری خرابی ہو! تم کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا آپ ہی ہمارے رب، ہمارے خالق اور ہمیں رزق دینے والے ہیں۔(یہاں تک کہ روایت کے الفاظ یہ کہتے ہیں کہ)حضرت علیؓ نے فرمایا: گڑھا کھودو اور اسے زمین میں گہرا کرو، اور وہ لکڑیاں لے کر آئے اور انہیں اس خندق گڑھے میں آگ کے اندر ڈال دیا۔ اور فرمایا میں تمہیں اس میں پھینکنے والا ہوں یا پھر تم اپنے اس قول سے رجوع کر لو لیکن انہوں نے رجوع کرنے سے انکار کر دیا، تو انہوں نے انہیں اس میں ڈال دیا، یہاں تک کہ جب وہ جل گئے تو انہوں نے فرمایا:

جب میں نے اس معاملے کو انتہائی قبیح اور منکر دیکھا تو میں نے اپنی آگ کو خوب بھڑکایا اور قنبر کو پکارا!

حافظ ابنِ حجرؒ نے فرمایا ہے یہ سند حسن ہے۔

(ابنِ حجر العسقلانی فتح الباری مرجع سابق:  جلد 12 صفحہ 170)

ابوحفص بن شاہین (المتوفى سن 358 ہجری/995ء)نے اپنی سند سے امام شعبی (المتوفى سن 104 ہجری/722ء)سے روایت کیا ہے اور شعبی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں امام ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ وہ کوفی تھے اور شیعہ کے احوال سے سب سے زیادہ باخبر لوگوں میں سے تھے کہ بے شک سیدنا علیؓ نے غالی شیعوں کی ایک جماعت کو آگ میں جلوا دیا تھا اور ان میں سے بعض کو جلاوطن کر دیا تھا۔(ابنِ تیمیہ، منہاج السنۃ، مرجع سابق: جلد1 صفحہ17)

اسی طرح ابو عاصم خشیش بن اصرم (المتوفى سن 254 ہجری/868ء) نے اپنی کتاب الاستقامہ میں سیدنا علیؓ کے ہاتھوں ابنِ سبا کے ساتھیوں کی ایک جماعت کو جلائے جانے کی خبر روایت کی ہے۔

(ابن تیمیہ، منہاج السنہ: مرجع سابق: جلد 1 صفحہ 17)

 خشیش بن اصرم، امام ابو داؤد(المتوفى سن 275 ہجری /888ء) کے شیوخ میں سے ہیں اور روایتِ حدیث میں ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں چنانچہ جلانے کا یہ واقعہ کثیر مراجع و مآخذ میں ثابت ہے، اور خاص طور پر صحیح بخاری میں اس کی اصل موجود ہے۔


صفحہ 4 از 4