چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات - ردِ رافضیت |…

چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

ڈاکٹر عبد العزیز الہلابی کی یہ رائے ہے کہ سبئیوں کو آگ میں جلائے جانے کی خبر محض ایک من گھڑت اور خود ساختہ دعویٰ ہے۔

(الہلابی مرجع سابق:  صفحہ22)

کیونکہ یہ سزا نہ تو رسول اللہﷺ کے عہدِ مبارک میں مروج تھی اور نہ ہی ان سے پہلے کے خلفائے راشدین کے دور میں۔ جبکہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نےـ جنہوں نے جلانے کی اس خبر کی نفی کی ہے یہ کہا ہے کہ یہ(واقعہ) تاریخ کی کسی مستند اور قابلِ اعتماد کتاب میں وارد ہی نہیں ہوا ہے۔

(الشبی، كامل مصطفىٰ:مرجع سابق: صفحہ91)

ڈاکٹر الہلابی کے اس اعتراض کارد اس روایت کے ذریعے ممکن ہے جسے امام بخاریؒ نے عکرمہ سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں:

سیدنا علیؓ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے تو انہوں نے انہیں آگ میں جلوا دیا۔ جب یہ خبر حضرت ابنِ عباسؓ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ رسولﷺ نے آگ کے عذاب سے منع فرمایا ہے بلکہ میں رسول اللہﷺ کے اس فرمان کے مطابق انہیں قتل کر دیتا کہ جو شخص اپنا دین بدل لے (مرتد ہو جائے)، اسے قتل کر دو۔

(ابنِ حجر العسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری بشرح صحيح البخاری تصحيح وتعليق الشیخ عبدالعزيز بن باز، نشر ادارة البحوث العلميۃ والدعوة والإرشاد، الرياض جلد 12 صفحہ226-227)

شارحینِ حدیث نے زندقہ کی مختلف تفاسیر کی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو کفر کو چھپائے اور اسلام کا اظہار کرے۔ اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا دعویٰ کرنا۔ جبکہ مسعودی کی یہ رائے ہے کہ فارسی وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے زندیق کی اصطلاح استعمال کی وہ لوگ ہر اس شخص پر(زندیق)کا اطلاق کرتے تھے جو تنزیل(وحی کے ظاہری الفاظ)کو چھوڑ کر تاویل کی طرف مائل ہو جائے، اور یہ نسبت(ان کی کتاب)زندیق کی طرف تھی جو کہ تاویل پر مبنی تھی، پھر عربوں نے اس لفظ کو معرب کر کے (عربی رنگ میں ڈھال کر) زندیق بنا دیا۔

(ابنِ كمال باشا، رسالۃ فی تحقیق لفظ زنديق، تحقیق حسين علی محفوظ، بغداد)

یہ تمام معانی ایسے ہیں جن کا قول سبئیت نے اختیار کیا تھا، اسی لیے امام ذہبیؒ نے فرمایا:

عبداللہ بن سبا غالی(انتہاء پسند)زندیقوں میں سے تھا، جو خود بھی گمراہ تھا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا تھا۔(الذہبی ميزان الاعتدال مرجع سابق : جلد 2 صفحہ462)

حافظ ابنِ حجرؒ نے فرمایا:

عبداللہ بن سبا غالی زندیقوں میں سے تھا، اور اس کے کچھ پیروکار ہیں جنہیں سبئیہ کہا جاتا ہے، وہ علی بن ابی طالب کے بارے میں الوہیت (خدا ہونے) کا عقیدہ رکھتے ہیں، اور حضرت علیؓ نے اپنی خلافت کے دوران انہیں آگ میں جلوا دیا تھا۔

حوالہ:  حجر العسقلاني، لسان الميزان، مرجع سابق، جلد 3 صفحہ289-290 وانظر كتاب الهدايۃ الكبرىٰ للخصيي من ائمۃ النصيريۃ صفحہ227، إذ قال بعد ذكر بعض معجزات علی (وفي ذكر اليوم كانت فتنۃ عبداللہ بن سبأ وأصحابه العشرة الذين كانوا معہ، وقالوا ما قالوا، وأحرقهم أمير المؤمنين بالنار، بعد أن استتابهم ثلاثة أيام، فأبوا ولم يرجعوا فأحرقهم في حفرة الأخدود، فكان هذا من دلائلہ والكتاب ملحق بكتاب : (العلويون بن الأسطورة والحقيقۃ) هاشم عثمان، ط مؤسسة الاعلمي، بيروت)

اس سلسلے میں نصيری فرقے کے ائمہ میں سے خصیی کی کتاب الہِدَایَۃُ الکُبرٰی(صفحہ227) دیکھیے، کیونکہ انہوں نے حضرت علیؓ کے کچھ معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا ہے: اور اسی دن کے ذکر میں عبداللہ بن سبا اور اس کے ان دس ساتھیوں کا فتنہ رونما ہوا جو اس کے ساتھ تھے، انہوں نے جو غلو کا قول کہنا تھا وہ کہا، اور امیرالمؤمنین نے انہیں تین دن تک توبہ کی مہلت دینے کے بعد آگ میں جلوا دیا۔ انہوں نے توبہ کرنے سے انکار کیا اور اپنے عقیدے سے رجوع نہ کیا، تو آپ نے انہیں خندق کے گڑھے میں جلوا دیا چنانچہ یہ واقعہ بھی آپؓ کے دلائلِ امامت و معجزات میں سے ایک دلیل تھا۔ اور یہ کتاب ایک دوسرے مصنف کی کتاب: العلویون بین الاسطورۃ والحقیقۃ (مصنف: ہاشم عثمان، مطبوعہ:مؤسسۃ الاعلمی، بیروت)کے ساتھ ضمیمے کے طور پر منسلک ہے۔

امام ابنِ تیمیہؒ نے فرمایا:بے شک رفض کی بنیاد زندیق عبداللہ بن سبا ہی کی طرف سے رکھی گئی تھی۔(ابن تیمیہ  مجموع الفتاویٰ ابو العباس احمد بن عبد الحليم، جمع وترتيب عبدالرحمٰن بن محمد بن قاسم الحنبلی، ط الرياض 1383ھ، جلد28 صفحہ483)

 پھر یہ کہ سیدنا علیؓ کا سبئ زندیقوں کے ایک گروہ کو آگ میں جلانے کا واقعہ، صحاح، سنن اور معاجم کی کتب میں موجود صحیح روایات کے ذریعے بالکل آشکار (ثابت) ہوتا ہے۔ چنانچہ جلانے کے اس واقعے کو امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں: کتاب الحدود ل، باب الحکم فی من ارتد (مرتد کے حکم کا بیان) کے تحت روایت کیا ہے۔(السجستانی ابو داؤد سليمان بن الاشعث، تحقیق احمد محمد شاكر وزميلہ، دارالمعرفۃ، بيروت، جلد 4 صفحہ126)

 امام نسائیؒ نے اپنی سنن میں: کتاب الحدود کے تحت اور امام حاکم نے المستدرک میں کتاب معرفۃ الصحابہ کے تحت اسےنقل کیا ہے۔

(النسائي: ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعيب، السنن المجتبىٰ، المكتبۃ التجاريہ الكبرى، مصر، جلد7 صفحہ 104)

(الحاكم النيسابوري، محمد بن عبداللہ ، المستدرك على الصحیحين، 1389ھ، دارالكتب العلميۃ، بيروت: جلد 3 صفحہ583)

امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں سوید بن غفلہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ سیدنا علیؓ کو یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں، تو انہوں نے ان کی طرف آدمی بھیجا اور انہیں کھانا کھلایا، پھر انہیں اسلام کی طرف دعوت دی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا، پھر انہیں لایا گیا تو انہوں نے ان کی گردنیں اڑائیں اور انہیں اس گڑھے میں ڈال دیا، پھر ان پر لکڑیاں ڈال کر انہیں آگ لگا دی، اور پھر فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔

( ابن حجر العسقلانیؒ فتح الباري مرجع سابق: جلد 12 صفحہ 170)

صفحہ 3 از 4