چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات - ردِ رافضیت |…

چوتھی بات: ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

ڈاکٹر عبدالعزیز الہلابی نے ان نثری اور شعری نصوص کو ذکر کرنے کے بعد، جن میں سبئیت کا تذکرہ وارد ہوا ہے یہ کہا ہے اور اسی بنیاد پر، گزشتہ نصوص سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں ہے کہ سبئیت سے مراد کوئی ایسا گروہ ہے جس کی کوئی خاص سیاسی شناخت ہو یا کوئی ایسا مذہب ہو جس کے عقائد متعین ہوں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ جب بھی اس کا اطلاق کسی قوم پر ہوتا ہے تو اس سے مقصود محض مذمت اور عیب جوئی(طعنہ زنی) ہوتا ہے۔

(الهلابی مرجع سابق : صفحہ48)

ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں: ہم اس سے پہلے ڈاکٹر مصطفیٰ شیبی کے شبہات کو باطل کرنے کے ذیل میں اس قضیے پر تفصیلی بحث کر چکے ہیں، اور ہم یہاں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ محقق ڈاکٹر الہلابی کا یہ نتیجہ مغالطے اور حقیقت کو چھپانے سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ ایسی کثیر نصوص موجود ہیں جو واضح طور پر ابنِ سبا کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو اصل کے اعتبار سے یہودی اور پرورش کے لحاظ سے یمنی تھا اور ان نصوص کو تاریخ، حدیث، اسماء الرجال، انساب، ادب اور لغت کی کتب نے ذکر کیا ہے، اور فرقوں اور مذاہب و مقالات کے علماء نے اس بات پر حتمی جزم (یقین) ظاہر کیا ہے، جن میں سے چند مآخذ یہ ہیں:

الف:  قمی(المتوفى سن 301 ہجری/913ء)نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن سبا وہ پہلا شخص تھا جس نے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ ،سیدنا عثمانؓ اور دیگر صحابہؓ پر کھلم کھلا طعن و تشنیع کی اور ان سے بیزاری کا اظہار کیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ سیدنا علیؓ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔

(القمی مرجع سابق : صفحہ20)

ب:  نوبختی(المتوفى سن 310 ہجری/922ء)نے ابنِ سبا کی خبروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ جب مدائن میں سیدنا علیؓ کی شہادت کی خبر پہنچی، تو اس خبر کو نقل کرنے والے نے ابنِ سبا کا یہ قول بیان کیا: تو نے جھوٹ بولا ہے اگر تو ہمارے پاس ان کا دماغ ستر تھیلیوں میں بھی لے آئے، اور ان کے قتل پر ستر عادل گواہ بھی کھڑے کر دے، تب بھی ہم تیری تصدیق نہیں کریں گے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ نہ مرے ہیں اور نہ ہی قتل ہوئے ہیں، اور وہ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک کہ زمین کے مالک نہ بن جائیں۔

(النوبختی مرجع سابق: صفحہ27)

ج: ابنِ حبان (المتوفى سن 354 ہجری/965ء)کہتے ہیں اور (محمد بن السائب)کلبی جو کہ ایک اخباری (راوی) تھے عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے ایک سبئی تھا یہ ان لوگوں میں سے تھا جو کہتے ہیں: بے شک حضرت علیؓ فوت نہیں ہوئے، اور وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے دنیا میں دوبارہ واپس آئیں گے، اور جب بھی وہ کوئی بادل دیکھتے تو کہتے کہ امیر المؤمنین اس کے اندر تشریف فرما ہیں۔

(ابنِ حبان المجروحين، مرجع سابق :جلد 2 صفحہ253)

د: شیعہ کے بڑے محدث، ابنِ بابویہ القمی(المتوفى سن 381 ہجری/991ء) نے ابنِ سباء کا وہ موقف ذکر کیا ہے جس میں وہ سیدنا علیؓ پر دعا کے دوران آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانے پر اعتراض کر رہا تھا۔

( ابن بابوی القامی، ابو جعفر محمد بن علی، من لايحضره الفقيہ، تحقیق السيد حسن الموسوی نشر دارالكتب الإسلاميۃ، ط 5 طہران جلد1 صفحہ213)

ھ:  خوارزمی(المتوفى سن 387 ہجری/997ء)کی کتاب مفتاح العلوم میں وارد ہوا ہے کہ: سبئیت عبداللہ بن سبا کے ساتھی ہیں۔

(الخوارزمی، ابو عبداللہ محمد بن احمد بن يوسف 1342ھ، ادارة الطباعۃ المنيريۃ، مصر، صفحہ22)

و:  ابنِ ابی الحدید(المتوفى سن 655 ہجری/1257ء)نے شرح نہج البلاغہ میں ذکر کیا ہے، جس کی عبارت کے الفاظ یہ ہیں: چنانچہ جب امیرالمؤمنین شہید کر دیے گئے، تو ابنِ سبا نے اپنے نظریات کا کھلم کھلا اظہار کیا، اور اس کا ایک ایسا گروہ اور فرقہ بن گیا جو اسے (اپنے مقتدا کے طور پر) پہچانتا تھا اور اس کی پیروی کرتا تھا۔

(ابن ابی الحديد، ابو حامد عبد الحميد بن هبۃ اللہ، تحقیق حسن تميم، 1963م، نشر مكتبة الحياة بيروت جلد2 صفحہ99)

ز' سکسکی(المتوفى سن 683 ہجری/1339ء)نے ذکر کیا ہے کہ: بے شک ابنِ سبا اور اس کا گروہ وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے موت کے بعد دنیا میں دوبارہ واپس آنے(عقیدہ رجعت)کا قول اختیارکیا۔

(السكسكي، عباس بن منصور، البرهان فی معرفۃ عقائد اهل الاديان، تحقیق خليل احمد ابراهيم الحاج 1980م، ط1، دار التراث العربی صفحہ50)

اسی طرح ادب، مقالات اور فرق و مذاہب کی کتب نے باقاعدہ نام لے کر مخصوص اشخاص کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ سبئیہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا جس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ یہ لفظ محض ذم (مذمت) اور عیب جوئی کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسے گمراہ اور گمراہ کن فرقے کا نام ہےجس کے اپنے پیروکار اور مخصوص عقائد تھے۔ چنانچہ ابنِ قتیبہ نے ذکر کیا ہے کہ: مغیرہ بن سعد بجلی جو بنو بجیلہ کا آزاد کردہ غلام تھا وہ سبئی(ابنِ سبا کے عقائد پر)تھا۔

(ابنِ قتيبۃ عيون الاخبار، مرجع سابق:  جلد2 صفحہ149)

اسی طرح جابر بن یزید جعفی ہے، جسے ابنِ حبان نے سبئیوں کے شمار میں ذکر کیا ہے، چنانچہ انہوں نے کہا:جابر جعفی عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے ایک سبئ تھا اور وہ کہا کرتا تھا: بے شک حضرت علی دنیا میں دوبارہ واپس آئیں گے۔

(ابنِ حبان، المجروحين مرجع سابق: جلد1صفحہ 208)

 اور سفیان بن عیینہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ یعنی جابر کہا کرتا تھا: حضرت علی دابۃ الارض ہیں۔

(الذہبی ميزان الاعتدال مرجع سابق : جلد1 صفحہ348)

ان سبئیوں میں سے ابوالنصر محمد بن السائب کلبی کوفی بھی ہے، جس کے بارے میں ابنِ حبان نے کہا: کلبی، عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے ایک سبئی تھا۔

(ابنِ حبان المجروحين، مرجع سابق : جلد 4 صفحہ162)

 اور حافظ ابنِ زریع بصری اس(کلبی)کے بارے میں کہتے ہیں: میں نے کلبی کو دیکھا کہ وہ اپنے سینے پر ہاتھ مارتا تھا اور فخر سے کہتا تھا: میں سبئ ہوں، میں سبئ ہوں۔

(ابنِ حجر العسقلانی، احمد بن علی تہذيب التہذيب 1362ھ ط1 مطبعۃ دائرة المعارف النظاميۃ الهند جلد 9 صفحہ179)

پس سبئیت کا لفظ محض مذمت اور عیب جوئی طعنہ زنی کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ ڈاکٹر الہلابی نے دعویٰ کیا ہے، بلکہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جس کا ایک متعین عقیدہ اور اپنے پیروکار تھے۔

صفحہ 2 از 4