ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 6

چنانچہ انصار ان کے اوس اور خزرج دونوں جان جاتے ہیں کہ یہ شیطان کی طرف سے ایک ابھار تھا اور ان کے دشمن کی ایک چال تھی پس وہ رونے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے گلے مل جاتے ہیں، پھر وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سمع و طاعت فرمانبرداری اختیار کرتے ہوئے واپس لوٹ آتے ہیں، اور اللہ ان سے اللہ کے دشمن یعنی شاس بن قیس یہودی کی سازش کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ پھر اللہ جل شانہ اس فتنے کے معاملے میں آیات نازل فرماتا ہے اور ان مسلمانوں سے مخاطب ہوتا ہے جن کے درمیان رسول اللہﷺ خود موجود تھے اور ابھی آپ کی وفات نہیں ہوئی تھی: اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات مانو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دیں گے۔ اور تم کیسے کفر کر سکتے ہو جبکہ تمہارے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اس کے رسول موجود ہیں؟ اور جو کوئی اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لے، تو یقیناً اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دی گئی۔

(سورة آل عمران الآيتان: 101-102)

 اسی لیے، ہم رسول اللہﷺ کے صحابہ سورة آل عمران الآيتان: 101، 102 خواه وه اوس سے ہوں یا خزرج سے کو اس بات سے بالاتر یا بڑا نہیں سمجھ سکتے کہ انہوں نے یہودیوں کے ایک گروہ کی بات مان لی تھی، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ یہودی انہیں ان کے ایمان کے بعد دوبارہ کافر بنا دیتے۔ اور نہ ہی ہم انہیں اس خطا سے پاک و منزہ قرار دے سکتے ہیں، جبکہ حال یہ تھا کہ ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جا رہی تھیں اور ان کے درمیان خود اس کے رسول موجود تھے جیسا کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے سن 35 ہجری کے صدر اسلام کے لوگوں کو ہر قسم کی لغزش سے پاک و منزه قرار دینا چاہا ہے، جبکہ اللہ نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلا لیا تھا اور اس واقعے کو بیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا، اور نوجوانوں کی ایک ایسی نئی نسل پروان چڑھ چکی تھا جس کے بارے میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ سب کے سب اپنے ایمان پر بزرگ صحابہؓ کی طرح شدید حریص تھے۔ پھر اس کے بعد، ادیب (مرحوم) محمود شاکر اپنی اس بحث کو ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں کیا عقلوں میں یہ بات آ سکتی ہے کہ یہودی اور ان کے منافق ساتھی پورے دس سال تک لگاتار دن بہ دن اسلام رسول اللہ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے خلاف سازشیں کرتے رہیں لیکن جیسے ہی رسول اللہﷺ سن || ہجری میں رفیق اعلیٰ سے جا ملے تو انہوں نے ہر قسم کی سازش سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے؟ اور وہ اس کے بعد اسلامی تاریخ میں پیش آنے والے ہر واقعے سے بالکل بری الذمہ ہو گئے؟ یعنی وہ سن || ہجری میں ہونے والے فتنہ ارتداد سے بھی بری ہو گئے، اور سن 23 ہجری میں سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت سے بھی بری ہو گئے، اور سن 35 ہجری میں سیدنا عثمانؓ کی شہادت سے بھی بری ہو گئے۔ بتصرف واختصار من بحث الأديب الراحل محمود محمد شاكر مجلة الرسالة المصرية: السنۃ السادسۃ: 765،    763، 761 عشر، الأعداد)

اس تمام گزشتہ بحث سے ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عبداللہ بن سبا کے وجود کا انکار کرنے سے طہٰ حسین کا اصل ہدف یہ تھا کہ وہ سیدنا عثمانؓ کے خون ناحق میں یہودیوں کی شرکت کی نفی کر دیں جس طرح انہوں نے فتنے کے پورے معاملے کو محض عصبیت قومی و قبیلاتی تعصب کی طرف لوٹانے کی کوشش کی ہے۔ مجلہ الرسالۃ: مرجع سابق: السنۃ 16 عدد 761، صفحہ 137)

ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اسلامی ریاست کی حدود کے اندر تضادات پیدا کرنے میں عصبیت کا اپنا ایک کردار تھا، اور اس کے نتیجے میں کچھ جزوی اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے جن کا ختم ہو جانا ممکن تھا، اور یہ بھی ممکن تھا کہ ریاست کا ماحول فتنوں سے آلودہ ہوئے بغیر ان اختلافات کے ساتھ زندگی کا سفر یونہی جاری رہتا اگر وہ مخفی انگلیاں خفیہ ہاتھ اپنا کام نہ کر رہی ہوتیں جنہوں نے ان تمام تضادات کو اکٹھا کرنے کا بیڑا اٹھایا تاکہ ایک ایسا واحد طوفان تیار کیا جائے جس نے اسلامی ریاست کے افق پر چل کر اسے فتنوں میں ڈبو دیا۔ مجموعی طور پر جليل القدر استاذ محمود شاكر (مرحوم) نے گزشتہ ابحاث میں اس کتاب کے علمی کھوکھلے پن کو اور اس کے مصنف کے نفس میں چھپی خواہشات اور رجحانات کے واضح پن کو بالکل آشکار کر دیا ہے۔ اور ان کی بحث اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ ابن سبا کی شخصیت اور اس کے پیدا کرده واقعات ایک ثابت شدہ حقیقت ہیں اور طہٰ حسین جب اس کی خبر کی نفی کرتے ہیں تو وہ دراصل حد سے تجاوز کرتے ہیں اور ایک ایسے راستے پر چل نکلتے ہیں جو ان جیسے شخص کے شایان شان نہیں ہے۔


صفحہ 6 از 6