ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 6

مسلمانوں کو بلند و برتر دکھانا ایک اچھا مقصد اور ایک خوبصورت نیت ہے، لیکن حق اس سے کہیں زیادہ اچھا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ اور نہ تو ہمارے لیے یہ مناسب ہے اور نہ ہی ڈاکٹر طہٰ حسین کے لیے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کی خاطر حق کے معاملے میں مغالطہ آرائی سے کام لیں جسے وہ خود، یا ہم اچھا اور خوبصورت سمجھتے ہوں۔ اور تاریخ من مانی اور زبردستی(بالتحكم)سے نہیں لکھی جاتی، بلکہ تاریخ تو پہلے روایات سے، پھر استدلال سے لکھی جاتی ہے، اور پھر اس کے بعد مختلف کڑیوں کے درمیان پائے جانے والے خلا کو پُر کرنے میں علمی کوشش صرف کی جاتی ہے۔ اب میں ڈاکٹر طہٰ کے سامنے ایسے حقائق رکھوں گا جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور میرایہ گمان نہیں ہے کہ وہ ان حقائق سے جاہل ہیں یا ان سے غافل ہیں۔ آئیے ہم رسول اللہﷺ کے شہر مدینہ منورہ کی طرف لوٹتے ہیں اس پاکیزہ شہر میں قبیلۂ ازد بن غوث کے ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ کی اولاد آباد تھی ان دونوں قبیلوں کی ماں قیلہ اور باپ حارثہ بن ثعلبہ تھا، اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ اوس اور خزرج تھے۔ اور انہی کے درمیان یہودیوں کی وہ بڑی تعداد(الجليل من اليهود) بھی رہا کرتی تھی جو جزيرة العرب یا مدینہ میں مقیم تھی۔ تو اس کا نتیجہ ایک ایسے معاملے کی صورت میں نکلا جس کی مثال بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان بھی نہیں ملتی اور وہ تھی ان دو قبیلوں اوس و خزرج کے درمیان طویل عرصے تک چلنے والی جنگیں، حالانکہ انہیں ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ نے جنا تھا اور وہ دونوں ایک ہی شہر میں اکٹھے رہتے تھے۔ اور ان دونوں قبیلوں کے درمیان یہ لڑائی لگاتار آگ بھڑکاتی رہی یہاں تک کہ تاریخ کا مشہور یومِ بعاث آ گیا، اور وہ واقعہ ایسا ہے جیسا کہ ابنِ سعد نے بیان کیا ہے یہ ان جنگوں میں اوس اور خزرج کے درمیان ہونے والا آخری معرکہ تھا جو ان کے مابین لڑی گئی تھیں اور یہ معرکہ اس وقت پیش آیا تھا جب رسول اللہﷺ مکہ میں موجود تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے، پھر اس واقعے کے چھ سال بعد آپﷺ نےمدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔اور ان دو سگے بھائیوں، اوس اور خزرج کے درمیان اس عجیب و غریب دشمنی کا پروان چڑھنا، طویل زمانوں تک ان کا آپس میں یہ تلخ اور شدید ترین خوں ریز قتال کرنا، اور یہودیوں کا ان کی جنگوں میں اس طرح حلیف بن کر شامل ہونا کہ ان کا ایک گروہ اوس کے ساتھ اور دوسرا خزرج کے ساتھ مل جائے، جبکہ ان دو سگے بھائی قبیلوں کے مابین ہونے والی اس لڑائی کی آنچ سے خود یہودیوں کو بہت ہی کم نقصان پہنچتا تھا، اور جب بھی کوئی سخت معاملہ درپیش ہوتا تو ان کا یہودیت کے نام پر ایک دوسرے کو پکارنا جس کے نتیجے میں وہ ان عربوں کے خلاف یکجان اور ایک ہاتھ بن جاتے تھے اس سب کا اس کے سوا کوئی دوسرا مطلب نہیں ہے کہ یہ یہودی ہی تھے جنہوں نے ان دونوں کے درمیان جنگ اور دشمنی کی آگ بھڑکائے رکھی؛ تاکہ وہ اس سر زمین پر ایسے اموال، گڑھیاں (اطام) اور قلعے مستحکم کر لیں جو ان کے لیے سامانِ حرب اور قوت کا ذریعہ بنیں، اور وہ انہیں اس زمین کے اصل مالکین عربوں پر غالب کر دیں، اور عرب لوگوں کی توجہ کو کھیتی باڑی اور مال کی افزائش سے ہٹا دیں، تاکہ خود یہودی ہی زراعت، تجارت اور سود و حرام خوری کے ذریعے مال بڑھانے کے تنہا مالک بنے رہیں۔ اور یہودیوں کا یہی شیوہ ہر دور اور ہر زمانے میں رہا ہے، پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ رسول اللہﷺ مدینہ کی طرف ہجرت فرماتے ہیں، اس کے بعد کہ آپﷺ نے عقبہ کے مقام پر خزرج کے ایک گروہ سے ملاقات فرمائی تھی چنانچہ اوس اور خزرج کا کوئی بھی محلہ ایسا نہیں بچتا جس میں اسلام داخل نہ ہوا ہو اور اس کا غلبہ نہ ہوا ہو۔ پھر ایک دن بنو قینقاع کے یہودیوں میں سے ایک شخص شاس بن قیس کا گزر اوس اور خزرج کے چند لوگوں کے پاس سے ہوتا ہے، تو اسے ان کے مابین یہ الفت و محبت اور اسلام پر ان کی باہمی صلح دیکھ کر سخت غیظ و غضب اور حسد آتا ہے، اس شدید دشمنی کے بعد جو جاہلیت میں ان کے درمیان رہ چکی تھی۔ چنانچہ وہ کہتا ہے اس سر زمین پر بنو قیلہ یعنی اوس اور خزرج کے تمام اشراف اکٹھے ہو گئے ہیں! خدا کی قسم، اگر یہاں ان کے تمام اشراف یوں ہی متحد رہے، تو پھر اس شہر میں ہمارے رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا۔چنانچہ وہ یہودیوں کے ایک نوجوان کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان کے پاس جا کر بیٹھ جائے، اور ان کے سامنے یومِ بعاث اور اس سے پہلے کے واقعات کا تذکرہ چھیڑ دے، اور انہیں وہ اشعار سنائے جو وہ جنگوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف فخر و تعلی کے طور پر کہا کرتے تھے۔ وہ یہودی نوجوان ایسا ہی کرتا ہے، تو اچانک وہ جماعت جو اسلام پر متحد و متفق ہو چکی تھی، آپس میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر فخر جتانے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ اوس اور خزرج کے  کے دو ساتھی اچھل کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان میں سے ایک ساتھی اپنے ساتھی سے کہتا ہے اگر تم چاہو تو ہم اس جنگ کی آگ کو ابھی دوباره اسی شباب پر لوٹا دیتے ہیں جیسا وہ پہلے تھی۔ اس پر دونوں فریق سخت غصے میں آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم نے تمہارا یہ چیلنج قبول کیا تمہارا ہمارا مقابلہ ظاہرہ نامی مخصوص جگہ پر ہو گا اور وہ ہتھیار ہتھیار پکارنے لگتے ہیں۔

وہ سب اپنے متبادل مقام کی طرف نکل کھڑے ہوتے ہیں، تو رسول اللہﷺ تک یہ خبر پہنچ جاتی ہے۔ چنانچہ آپﷺ اپنے صحابہؓ میں سے مہاجرین کو ساتھ لے کر ان کی طرف نکلتے ہیں، یہاں تک کہ جب آپﷺ ان کے پاس پہنچتے ہیں تو فرماتے ہیں: اے مسلمانوں کی جماعت اللہ سے ڈرو! اللہ! اللہ! کیا تم میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی جاہلیت کی پکار پکار رہے ہو؟ اس کے بعد کہ اللہ نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی تمہیں اس کے ذریعے عزت بخشی تمہارے اندر سے جاہلیت کے معاملے کو کاٹ دیا، تمہیں اس کے ذریعے کفر سے نجات دی اور تمہارے دلوں میں باہمی الفت پیدا کر دی۔

(ابن ہشام، ابو محمد عبد الملك، السيرة النبوية، حققها مصطفٰى السقا وآخرون 1996م، ل، طا، بيروت: جلد 2 صفحہ 151-150

صفحہ 5 از 6