ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 6

عبداللہ بن سباء کی خبر کی نفی کرنے میں ڈاکٹر طہٰ حسین کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ بلاذری نے اس کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ ان کی نظر میں یہ کتاب اس قصے کے لیے سب سے اہم اور سب سے زیادہ مفصل مأخذ ہے۔ لیکن پھر انہوں نے پلٹ کر اس خط (مکتوب)کی خبر کی بھی نفی کر دی جس میں مصر کے وفد کو قتل کرنے کا حکم تھا حالانکہ بلاذری نے اس خط کے واقعےکو تفصیلاً ذکر کیا ہے اور اس میں ایسی باتیں لائے ہیں جو کسی دوسری کتاب وغیرہ میں نہیں ملتیں۔ اور آپ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ طہٰ حسین کسی خبر کا بلاذری کی کتاب میں نہ ہونا تو اس کی نفی پر دلیل بنا لیں لیکن پھر دوسری طرف ایک ایسی خبر کی بھی نفی کر دیں جسے بلاذری نے خود ذکر کیا ہو اور اس میں تفصیل سے کام لیا ہو؟ ڈاکٹر طہٰ حسین یہ بھی جانتے ہیں کہ بلاذری کی کتاب (انساب الاشراف)کا جو حصہ دستیاب ہوا ہے وہ بہت ہی قلیل حصہ تھا جس کا ایک حصہ سن 1883ء میں جرمنی میں طبع ہوا، پھر اس کے دوسرے حصے کو سن 1938ءمیں بیت المقدس (یروشلم)میں یہودیوں کے سرغنوں میں سے ایک شخص نے چھاپنے کا ذمہ لیا۔ اور اس یہودی ناشر نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے کہ کچھ ایسے واقعات ہیں جو یزید بن معاویہؓ کے عہد میں پیش آئے جیسے واقعہ کربلا اور حضرت حسینؓ کی شہادت لیکن ان کا تذکرہ یزید کے سوانح میں نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں آلِ ابی طالب کے سوانح میں ذکر کیا گیا ہے، اور ایسا کتاب کے اس مروجہ نظام کے تحت ہوا ہے جو شجرہء نسب (انساب)کےتسلسل کے مطابق ہے۔ تو کیا پھر یہ جائز اور ممکن نہیں ہے کہ بلاذری نے عبداللہ بن سبا کے معاملے کو بھی کسی دوسرے مقام پر شامل کر دیا ہو، جیسا کہ انہوں نے اس واقعے میں کیا جس کا مشاہدہ اور تذکرہ کتاب کے یہودی ناشر نے کیا ہے؟ یہ سب کچھ ممکن ہے لیکن ڈاکٹر صاحب جب کسی چیز کی نفی کرنا چاہتے ہیں، تو وہ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے کہ وہ ان تمام حقائق کو پھلانگ جائیں اور ان سے آنکھیں موند لیں، تاکہ وہ اس معاملے میں وہی رائے قائم کر سکیں جس کی ان کو خواہش ہے اور جسے وہ پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور بغیر کسی توقف کے، ڈاکٹر طہٰ حسین دراصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ وہ فتنہ جس کا انجام سیدنا عثمانؓ کی شہادت پر ہوا، وہ صرف ایک عربی فتنہ تھا جو مالداروں کے آپس میں دولت اور اقتدار کے لیے باہمی کھینچا تانی، اور عرب کے عام لوگوں کے ان مالداروں سے حسد کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔ پس اپنے اس بڑے (اور مضحکہ خیز) دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے، انہوں نے فتوحات کے بعد کے ابتدائی اسلامی معاشرے کی زندگی کو ایک ایسی تصویر میں ڈھالنے کے لیے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کیا جو صرف اور صرف اسی ایک مقصد پر جا کر ختم ہو اور وہ مقصد دولت، مال، اور مال و دولت اور اقتدار کے لیے مالداروں کی باہمی کھینچا تانی، اور عرب عوام کا ان دولت، مال اور اقتدار والوں سے حسد کرنا تھا۔ جس طرح طہٰ حسین نے ایک اور ہدف کو اس وقت بے نقاب کیا جب انہوں نے یہودی عبداللہ بن سبا کی خبر، اور اس خط کی خبر کی نفی کی جس میں مصر کے وفد کے سرغنوں کو قتل کرنے کا حکم تھا۔ اور یہ ہدفیہ تھا کہ وہ سیدنا عثمانؓ کے خونِ ناحق میں اور امام کے خلاف قتل پر اکسانے میں یہودیوں کی شرکت کی نفی کر دیں۔ اس کے لیے انہوں نے ایک نہایت دشوار گزار اور پرپیچ راستہ اختیار کیا، جس میں انہوں نے روایات کی جرح و تعدیل چھان پھٹک میں علماء کے مسلمہ اسلوب کی صریح مخالفت کی چنانچہ انہوں نے بغیر کسی دلیل کے کسی معاملے میں راویوں کو جھٹلا دیا، اور بغیر کسی دلیل کے دوسرے معاملے میں انہی راویوں کو سچا مان لیا۔ حالانکہ وہ خود اپنی کتاب میں ان لوگوں پر ملامت کرتے ہیں‘‘جو ان روایات کو جھٹلاتے ہیں جو لوگوں کے درمیان ہونے والے فتنے اور اختلاف کے احوال ہم تک نقل کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے (خود ہی اپنے اس موقف کے خلاف) کہا تھا:چنانچہ اگر ہم نے ایسا کیا یعنی روایات کو جھٹلایا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ ہم بعثتِ نبی کریمﷺ سے لے کر اب تک کی پوری اسلامی تاریخ ہی کو جھٹلا دیں کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے فتوحات کی خبریں، غزوات کے احوال اور نبی کریمﷺ اور خلفاء کی سیرت کو روایت کیا ہے، تو پھر یہ کیسے مناسب ہو سکتا ہے کہ جب وہ ایسی باتیں روایت کریں جو ہمیں بھلی لگتی ہوں تو ہم ان کی تصدیق کر دیں، اور جب وہ ایسی باتیں روایت کریں جو ہمیں پسند نہ ہوں تو ہم انہیں جھٹلا دیں؟ اور ہمارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ ہم تاریخ کے کچھ حصے کو سچا مانیں اور کچھ دوسرے حصے کو جھٹلا دیں، صرف اس وجہ سے کہ اس کا کچھ حصہ ہمیں خوش کرتا ہے اور کچھ حصہ ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے لیکن خود ڈاکٹر طہٰ حسین جو اس کلام کے کہنے والے ہیں انہوں نے بعینہٖ یہی کام کر ڈالا! چنانچہ انہوں نے راویوں کو اس وقت جھٹلا دیا جب انہوں نے کوئی ایسی بات روایت کی جو انہیں پسند نہیں تھی اور جو انہیں تکلیف پہنچاتی تھی، اور انہوں نے ایسا ہی اس وقت بھی کیا جب انہوں نے ان راویوں کی تصدیق کر دی جب انہوں نے کوئی ایسی بات روایت کی جو انہیں بھلی لگی اور جس نے انہیں خوش کیا۔ کیونکہ جن لوگوں نے مال و دولت، ثروت اور اقتدار کی خبریں روایت کی ہیں،یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے یہودی عبداللہ بن سبا کی خبریں اور مصر کے وفد کو قتل کرنے کا حکم دینے والے خط کی خبریں بھی روایت کی ہیں۔ تو پھر انہوں نےکس بنیاد پر ایک چیز کو بغیر کسی دلیل کے لے لیا، اور دوسری چیز کی بغیر کسی دلیل کے نفی کر دی؟اصل اور واضح بات یہ ہے کہ ڈاکٹر نے جیسا کہ انہوں نے خود کہا یہ چاہا کہ وہ صدرِ اسلام کے مسلمانوں کو اس سے کہیں بلند و برتر دکھائیں کہ صنعاء سے آنے والا ایک ایسا شخص ان کے دین، ان کی سیاست، ان کی عقلوں اور ان کی حکومت کے ساتھ کھلواڑ کر جائے جس کا باپ یہودی تھا، ماں سیاہ فام تھی، اور وہ خود بھی یہودی تھا، پھر وہ نہ تو کسی شوق سے اور نہ ہی کسی خوف سے اسلام لایا، بلکہ محض مکر، سازش اور دھوکہ دہی کے لیے مسلمان ہوا تھا۔

صفحہ 4 از 6