ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنی کتاب الفتنۃ الكبرىٰ میں اس فتنے کے معاملے پر تفصیلی بحث کی ہے جس کے شعلے سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت کے آخری حصے میں بھڑک اٹھے تھے، اور جس کا انجام رسول اللہﷺ کے خلیفہ کی شہادت پر ہوا، ایک ایسی شہادت کہ اس وقت تک کی تاریخِ اسلام نے اس سے زیادہ ہولناک اور وحشت ناک واقعہ نہیں دیکھا تھا۔ طہٰ حسین نے یہ بحث اس طریقے سے کی جس سے ان کا مقصد اپنے مخصوص منہج پر چلتے ہوئے شک و شبہات کے بیج بونا تھا، جس کے لیے انہوں نے مبہم مراجع اور ادھوری و کٹی پھٹی روایات پر بھروسا کیا، اور معتبر اسلامی مراجع و مصادر کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے فتنے کی روایات کو ان کے راویوں کے بیان کے مطابق بغیر کسی جانچ پڑتال کے جوں کا توں نقل کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا ایک واضح فکری جھکاؤ بھی تھا، جسے انہوں نے اپنی تحریر کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد ہی ظاہر کیا۔ اور طہٰ حسین کے اس طرزِ عمل کا دندان شکن جواب دینے کی زحمت سے ہمیں عربی زبان کے مایہ ناز مرحوم ادیب محمود محمد شاکر نے سبکدوش کر دیا، چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے:
چنانچہ فتنہ تو بس ایک خالص عربی فتنہ تھا، جو مالداروں کے آپس میں دولت اور اقتدار کے لیے باہمی کھینچا تانی اور عرب کے عام لوگوں(عوام) کے ان مالداروں سے حسد کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔اور آپ کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ اس صفت (یعنی عربی فتنہ اور عرب عوام)کے بار بار دہرائے جانے پر گہری نظر ڈالیں تاکہ آپ جان سکیں کہ وہ اس تکرار سے کیا چاہ رہے ہیں اور طہٰ حسین سیدنا عثمانؓ کے خونِ ناحق میں غیر عربوں میں سے کسی کی بھی شرکت کی کس طرح نفی کرنا چاہتے ہیں۔ ابھی چند صفحات بھی نہیں گزرتے کہ ہمارے سامنے ایک نیا باب آتا ہے جو یوں شروع ہوتا ہے: وہاں ایک ایسا قصہ بھی ہے جسے تاریخ لکھنے والے بڑے بڑے راویوں نے بہت اہمیت دی ہے، اور اس میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے یہاں تک کہ بہت سے قدیم اور جدید اہلِ علم نے اسے سیدنا عثمانؓ کے خلاف ہونے والے اختلافات کا بنیادی مأخذ قرار دے دیا اور اسی اختلاف کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ تفرقہ پیدا ہوا جس کے اثرات اب تک نہیں مٹ سکے۔ اور وہ عبداللہ بن سبا کا قصہ ہے جو ابن السوداء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ راویوں نے کہا ہے: عبد اللہ بن سبا صنعاء کا رہنے والا ایک یہودی تھا جس کی ماں حبشی تھی، پھر وہ سیدنا عثمانؓ کے دور میں بظاہر اسلام لے آیا، اور پھر وہ مختلف شہروں میں گھومنے پھرنے لگا تاکہ سیدنا عثمانؓ کے خلاف سازشیں کرے، لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکائے، ان پر ابھارے، اور عوام میں ایسے نو ایجاد باطل نظریات پھیلائے جنہوں نے دین اورسیاست دونوں کے بارے میں ان کی رائے کو بگاڑ کر رکھ دیا۔
(حسين طہٰ الفتنۃ الكبرىٰ دارالمعارف مصر :صفحہ109)
پھر طہٰ حسین کہتا ہے: اور بہت سے لوگ ابنِ السوداء ہی کی طرف ہر اس بگاڑ اور اختلاف کو منسوب کرتے ہیں جو سیدنا عثمانؓ کے زمانے میں اسلامی بلاد میں ظاہر ہوا تھا، اور ان میں سے کچھ تو اس طرف جاتے ہیں کہ اس نے اپنی سازش کو نہایت مضبوطی سے مستحکم کیا تھا، چنانچہ اس نے مختلف شہروں میں ایسے خفیہ گروہ منظم کیے جو پردہ راز میں رہ کر سازشیں کرتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو فتنے کی دعوت دیتے تھے، یہاں تک کہ جب حالات ان کے لیے سازگار ہو گئے، تو انہوں نے خلیفہ پر دھاوا بول دیا، اور پھر وہی کچھ ہوا جو خروج، محاصرے اور امام کی شہادت کی صورت میں سامنے آیا۔ہم اس عبارت سے دیکھ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس بات پر کیوں اصرار کیا تھا کہ وہ فتنے کو عربی قرار دیں اور یہ کہیں کہ جو عوام اس فتنے کے شر پسند تھے وہ عرب عوام تھے یعنی ان کے نزدیک اس فتنے میں عبد اللہ بن سباء کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اور نہ ہی اس کی آگ کو بھڑکانے میں یہودیوں کا کوئی کردار تھا۔ پھر ڈاکٹر اپنی بات کو آگے بڑھاتا ہوا اس کے فوراً بعد کہتا ہے: مجھے ایسا خیال ہوتا ہے کہ جو لوگ ابنِ سبا کے معاملے کو اس حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں وہ اپنے آپ پر اور تاریخ پر بہت سخت زیادتی اور مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔ اور سب سے پہلی چیز جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم ان اہم مراجع میں ابنِ سبا کا کوئی تذکرہ نہیں پاتے جنہوں نے سیدنا عثمانؓ کے خلاف ہونے والے اختلافات کا احوال بیان کیا ہے۔ چنانچہ بلاذری نے اپنی کتاب انساب الاشراف میں اس کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ میری نظر میں یہ کتاب اس قصے کے لیے سب سے اہم اور سب سے زیادہ مفصل مأخذ ہے۔ جبکہ طبری نے اس کا ذکر سیف بن عمر کی روایت سے کیا ہے، اور بظاہر اسی سے ان مؤرخین نے یہ بات اخذ کی ہے جو ان کے بعد آئے۔
(حسين طہٰ مرجع سابق 131)
پھر انہوں نے کہا: اور میں نہیں جانتا کہ سیدنا عثمانؓ کے زمانے میں ابنِ سبا کی کوئی حیثیت (یا خطرہ) تھی بھی یا نہیں؟ لیکن میں اس بات پر قطعی یقین رکھتا ہوں کہ اس کی حیثیت اگر کوئی حیثیت تھی بھی تو وہ کوئی قابلِ ذکر نہ تھی اور سیدنا عثمانؓ کے دور کے مسلمان ایسے نہ تھے کہ اہل کتاب میں سے سیدنا عثمانؓ ہی کے زمانے میں بظاہر اسلام لانے والا کوئی نو وارد شخص ان کی عقلوں، ان کے نظریات اور ان کی سلطنت کے ساتھ کھلواڑ کر جاتا۔ یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں پس ہمیں اس سارے معاملے میں احتیاط، توقف اور چھان پھٹک کا موقف اختیار کرنا چاہیے اور ہمیں مسلمانوں کو اس سے کہیں بلند و برتر سمجھنا چاہیے کہ صنعاء سے آنے والا ایک ایسا شخص ان کے دین ان کی سیاست، ان کے نظریات اور ان کی حکومت کے ساتھ کھلواڑ کر جائے جس کا باپ یہودی اور ماں سیاہ فام تھی، اور وہ خود بھی یہودی تھا، پھر وہ نہ تو کسی شوق سے اور نہ ہی کسی خوف سے اسلام لایا، بلکہ محض مکر، سازش اور دھوکہ دہی کے لیے مسلمان ہوا، اور پھر اسے مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں وہ کامیابی بھی حاصل ہو گئی جو وہ چاہتا تھا، یہاں تک کہ اس نے مسلمانوں کو ان کے خلیفہ کے خلاف بھڑکایا اور انہوں نے خلیفہ کو شہید کر دیا! پھر وہ کہتے ہیں: یہ تمام ایسی باتیں ہیں جو عقل کے ترازو پر پوری نہیں اترتیں، نہ ہی نقد و جرحکے سامنے ٹھہر سکتی ہیں، اور نہ ہی ان پر تاریخ کے معاملات کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔(حسين طہٰ مرجع سابق 134)
اس طرح ڈاکٹر طہٰ حسین یکمشت اپنا قطعی فیصلہ سنا دیتے ہیں، اور پھر وہ اسی ڈگر پر آگے بڑھتے ہوئے کہتے ہیں: یہاں اس خط (مکتوب)کا قصہ سامنے آتا ہے جس کے بارے میں راوی کہتے ہیں کہ اہلِ مصر نے اسے مصر واپس لوٹتے ہوئے پکڑا تھا، جس کے بعد وہ غصے میں دوبارہ واپس آ گئے۔ پس یہ قصہ میری نظر میں سرے سے ہی من گھڑت ہے۔ پھر انہوں نے اس خط کے پورے واقعے کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا اور کہا: یہ سب کچھ ایک لغو اور مضحکہ خیز ڈرامے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے بہ نسبت اس کے کہ یہ کوئی ایسا واقعہ ہو جو حقیقت میں پیش آیا تھا۔ حالانکہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ سادہ تھا (اصل بات یہ تھی کہ)مختلف شہروں کے لوگوں نے اپنے امام سیدنا عثمانؓ سے ایک وعدہ لیا تو وہ اس پر مطمئن ہو گئے، پھر بعد میں ان پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ خلیفہ نے اپنے وعدے کو سچا نہیں کیا! چنانچہ وہ بپھرے ہوئے باغیوں کی صورت میں آگے بڑھے، اور وہ اس معاملے سے جلد از جلد فارغ ہونا چاہتے تھے اور اس وقت تک واپس لوٹنے کے لیے تیار نہیں تھے جب تک اس کا فیصلہ نہ کر لیں۔پھر ڈاکٹر طہٰ حسین پر یہ واضح ہوا کہ اس خط کو سرے سے ہی خارج (اور کالعدم) قرار دے دینا جو مصر کے گورنر کی طرف بھیجا گیا تھا اور جس میں مصر سے آنے والے وفد کے سرغنوں کو قتل کرنے کا حکم تھا اس وفد کی مدینے کی طرف دوبارہ واپسی کے اشکال کو حل نہیں کرتا، جب وہ مدینہ سے جدا ہو کر مصر کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ اور ان پر یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ(ان کے اپنے خود ساختہ نظریے کے مطابق) شہروں کے لوگوں پر یہ بات کھلی تھی کہ خلیفہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا،یعنی(طہٰ حسین کے دعوے کے مطابق) خلیفہ نے ان سے صریح لفظوں میں جھوٹ بولا تھا۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتے کہ ان باغیوں پر یہ بات کیسے کھلی کہ خلیفہ نے ان سے جھوٹ بولا ہے؟ تو انہیں کوئی جواب نہ سوجھتا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اس مفروضے کو جوں کا توں پیش کر دیا اور اس پر یہ اضافہ بھی کر دیا کہ وہ بپھرے ہوئے باغیوں کی طرح آگے بڑھے، طہٰ حسین کہتا ہے: پھر جب وہ مدینہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ ان سے قتال کے لیے تیار بیٹھے ہیں، چنانچہ انہوں نے اس لڑائی کو ناپسند کیا اور واپسی کے لیے روانہ ہو گئے یہاں تک کہ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان بزرگ صحابہؓ نے اپنے ہتھیار رکھ دیے ہیں اور اپنے گھروں میں پر امن ہو کر بیٹھ گئے ہیں، تو وہ دوبارہ پلٹ آئے اور بغیر کسی لڑائی کے مدینہ پر قبضہ کر لیا۔”لیکن ڈاکٹر طہٰ حسین نے خود محسوس کیا کہ ان کی یہ رائے سر تاپا ناقص اور کمزور ہے، کیونکہ اس کی تائید کسی دوسرے مفروضے سے نہیں ہو رہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے غور و فکر کیا اور اندازے لگائے، پھر کہنے لگے: اور میں اس بات پر تقریباً قطعی یقین رکھتا ہوں کہ مدینہ کے لوگوں میں سے ہی کچھ ان کے مددگار موجود تھے جنہوں نے انہیں دوبارہ بلایا، ان کی حوصلہ افزائی کی، پھر انہیں نبہ کے اصحاب کے ارادوں سے باخبر کیا، اور پھر انہیں یہ اطلاع دی کہ مدینہ دوبارہ امن و سکون کی حالت پر لوٹ آیا ہے؛ اور پھر جب ان باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کا محاصرہ کیا تو یہ لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔(حسين، طہٰ مرجع سابق صفحہ209)
اور یہ سب کچھ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں محض فرضی باتیں اور تخیلاتی باتیں(قیاس آرائیاں)ہیں، اور ساتھ ہی یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے جس کا انہوں نے عبداللہ بن سبا کے معاملے میں خود ہی انکار کیا تھا یعنی ایسے خفیہ گروہوں کی تنظیم جو پردہ راز میں رہ کر سازشیں کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ (طہٰ حسین) وہاں (ابنِ سبا کے معاملے میں)تو اس اصول کا انکار کرتے ہیں لیکن یہاں(مدینہ کے لوگوں کے معاملے میں)خود ہی اس کا اقرار کر رہے ہیں۔
ہم ڈاکٹر طہٰ حسین کے کلام کی باریک بینی سے تفتیش کرنے میں طوالت کے خوف سے ان کے کلام میں سے صرف ان دو موضوعات کے جائزے پر ہی اکتفا کرتے ہیں ورنہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے ہر ہر حرف کے نیچے بہت سی ایسی علمی باتیں پوشیدہ ہیں جن کی گہری تفتیش، چھان پھٹک اور انہیں حق کے ان پہلوؤں کی طرف لوٹانا ناگزیر ہے جن سے ہٹ کر وہ دوسری طرف چلے گئے ہیں۔ اور میں ان کے کلام کو نقل کرنے میں طوالت اختیار کرنے پر بالکل مجبور ہوا ہوں، تاکہ ان کی گفتگو اور علم کے پردے میں چھپے مکر کا کوئی بھی حصہ ہم سے چھوٹ نہ جائے۔ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنی گفتگو کا آغاز اس یہودی یعنی ابنِ السوداء عبد اللہ بن سبا کے قصے کو ساقط اور خارج کرنے سے کیا چنانچہ انہوں نے ذکر کیا کہ بعد کے دور کے راویوں نے اس کے معاملے کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اس میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کی، اور یہ کہ یہ قصہ اہم مراجع میں وارد نہیں ہوا، اور ابنِ سعد نے اس کا ذکر نہیں کیا، اور بلاذری نے بھی انساب الاشراف میں اس کا تذکرہ نہیں کیا حالانکہ ڈاکٹر کی نظر میں یہ سب سے اہم مأخذ ہے اور یہ کہ جس نے اس کا ذکر کیا ہے وہ صرف طبری ہیں اور‘‘بظاہر ان کے بعد آنے والے مؤرخین نے یہ بات انہی سے اخذ کی ہے’’جیسا کہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، ڈاکٹر طہٰ حسین کا یہ کہنا کہ ‘‘بعد کے دور کے راوی(الرواة المتأخرين) اس میں ایک بہت بڑا اور بظاہر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ابہام (دھوکہ)موجود ہے کیونکہ طبری بعد کے دور کے راویوں میں سے ہرگز نہیں ہیں۔ وہ تو سن 225 ہجری میں پیدا ہوئے اور سن 310 ہجری میں وفات پائی، چنانچہ وہ بلاذری کے معاصر (ہم عصر) ہیں، اور الطبقات کے مصنف ابنِ سعد کے شاگردوں کے طبقے میں سے ہیں۔ اور سیف بن عمر، جن کی روایت سے طبری نے یہ خبر نقل کی ہے، وہ قدیم دور کے بڑے مؤرخین میں سے ہیں وہ تو طبری اور بلاذری کے شیوخ کے بھی شیوخ (استادوں کے استاد) ہیں اور ابنِ سعد کے شیوخ کے مرتبے میں آتے ہیں، کیونکہ ان کی وفات ہارون الرشید کے زمانے میں یعنی سن 190 ہجری سے پہلے ہوئی تھی۔ لہٰذا نہ توسیف بن عمر کے بارے میں اور نہ ہی طبری کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بعد کے دور کے راویوں میں سے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر طہٰ اپنے قاری کو دھوکے میں رکھنا چاہتے تھے۔
اور اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ اہم مراجع (المصادر المهمة) اس میں بھی ایک شدید قسم کا ابہام اور سراسر حد سے بڑھی ہوئی ناانصافی اور علمی بددیانتی پائی جاتی ہے کیونکہ اگر امام طبری کی کتاب (تاریخ الرسل والملوک)بھی اہم مراجع میں شمار نہیں ہوگی، تو کاش میں جان سکتا کہ پھر وہ کون سے اہم مراجع ہیں جو اس وقت ہمارے ہاتھوں میں موجود ہیں؟
پھر یہ کہ ڈاکٹر طہٰ حسین اچھی طرح جانتے ہیں کہ ابنِ سعدؒ کی کتاب الطبقات الکبریٰ جو اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے،وہ ایک ناقص (نا مکمل) کتاب ہے اور اسے مختلف نسخوں سے جوڑ کر تیار کیا گیا ہے جن میں سے کچھ نسخے مکمل ہیں، کچھ ناقص ہیں اور کچھ مختصر ہیں۔ اور اس بات کی دلیل جس معاملے پر ہم اس وقت بحث کر رہے ہیں یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کے سوانح (ترجمہ)تو 48 صفحات میں بیان کیے اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے سوانح 33 صفحات میں لکھے لیکن جب وہ سیدنا عثمانؓ کے تذکرے پر آئے حالانکہ ان کے دورِ خلافت کے واقعات وہ ہیں جنہیں ڈاکٹر طہٰ بھی جانتے ہیں اور عام لوگ بھی جانتے ہیں تو انہوں نے صرف 22 صفحات لکھے اور پھر جب انہوں نے سیدنا علیؓ کا ذکر کیا جبکہ ان کے زمانے کے معاملات تو اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین اور کٹھن تھے تو ان کے بارے میں صرف 16 صفحات لکھے۔
عبداللہ بن سباء کی خبر کی نفی کرنے میں ڈاکٹر طہٰ حسین کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ بلاذری نے اس کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ ان کی نظر میں یہ کتاب اس قصے کے لیے سب سے اہم اور سب سے زیادہ مفصل مأخذ ہے۔ لیکن پھر انہوں نے پلٹ کر اس خط (مکتوب)کی خبر کی بھی نفی کر دی جس میں مصر کے وفد کو قتل کرنے کا حکم تھا حالانکہ بلاذری نے اس خط کے واقعےکو تفصیلاً ذکر کیا ہے اور اس میں ایسی باتیں لائے ہیں جو کسی دوسری کتاب وغیرہ میں نہیں ملتیں۔ اور آپ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ طہٰ حسین کسی خبر کا بلاذری کی کتاب میں نہ ہونا تو اس کی نفی پر دلیل بنا لیں لیکن پھر دوسری طرف ایک ایسی خبر کی بھی نفی کر دیں جسے بلاذری نے خود ذکر کیا ہو اور اس میں تفصیل سے کام لیا ہو؟ ڈاکٹر طہٰ حسین یہ بھی جانتے ہیں کہ بلاذری کی کتاب (انساب الاشراف)کا جو حصہ دستیاب ہوا ہے وہ بہت ہی قلیل حصہ تھا جس کا ایک حصہ سن 1883ء میں جرمنی میں طبع ہوا، پھر اس کے دوسرے حصے کو سن 1938ءمیں بیت المقدس (یروشلم)میں یہودیوں کے سرغنوں میں سے ایک شخص نے چھاپنے کا ذمہ لیا۔ اور اس یہودی ناشر نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے کہ کچھ ایسے واقعات ہیں جو یزید بن معاویہؓ کے عہد میں پیش آئے جیسے واقعہ کربلا اور حضرت حسینؓ کی شہادت لیکن ان کا تذکرہ یزید کے سوانح میں نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں آلِ ابی طالب کے سوانح میں ذکر کیا گیا ہے، اور ایسا کتاب کے اس مروجہ نظام کے تحت ہوا ہے جو شجرہء نسب (انساب)کےتسلسل کے مطابق ہے۔ تو کیا پھر یہ جائز اور ممکن نہیں ہے کہ بلاذری نے عبداللہ بن سبا کے معاملے کو بھی کسی دوسرے مقام پر شامل کر دیا ہو، جیسا کہ انہوں نے اس واقعے میں کیا جس کا مشاہدہ اور تذکرہ کتاب کے یہودی ناشر نے کیا ہے؟ یہ سب کچھ ممکن ہے لیکن ڈاکٹر صاحب جب کسی چیز کی نفی کرنا چاہتے ہیں، تو وہ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے کہ وہ ان تمام حقائق کو پھلانگ جائیں اور ان سے آنکھیں موند لیں، تاکہ وہ اس معاملے میں وہی رائے قائم کر سکیں جس کی ان کو خواہش ہے اور جسے وہ پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور بغیر کسی توقف کے، ڈاکٹر طہٰ حسین دراصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ وہ فتنہ جس کا انجام سیدنا عثمانؓ کی شہادت پر ہوا، وہ صرف ایک عربی فتنہ تھا جو مالداروں کے آپس میں دولت اور اقتدار کے لیے باہمی کھینچا تانی، اور عرب کے عام لوگوں کے ان مالداروں سے حسد کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔ پس اپنے اس بڑے (اور مضحکہ خیز) دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے، انہوں نے فتوحات کے بعد کے ابتدائی اسلامی معاشرے کی زندگی کو ایک ایسی تصویر میں ڈھالنے کے لیے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کیا جو صرف اور صرف اسی ایک مقصد پر جا کر ختم ہو اور وہ مقصد دولت، مال، اور مال و دولت اور اقتدار کے لیے مالداروں کی باہمی کھینچا تانی، اور عرب عوام کا ان دولت، مال اور اقتدار والوں سے حسد کرنا تھا۔ جس طرح طہٰ حسین نے ایک اور ہدف کو اس وقت بے نقاب کیا جب انہوں نے یہودی عبداللہ بن سبا کی خبر، اور اس خط کی خبر کی نفی کی جس میں مصر کے وفد کے سرغنوں کو قتل کرنے کا حکم تھا۔ اور یہ ہدفیہ تھا کہ وہ سیدنا عثمانؓ کے خونِ ناحق میں اور امام کے خلاف قتل پر اکسانے میں یہودیوں کی شرکت کی نفی کر دیں۔ اس کے لیے انہوں نے ایک نہایت دشوار گزار اور پرپیچ راستہ اختیار کیا، جس میں انہوں نے روایات کی جرح و تعدیل چھان پھٹک میں علماء کے مسلمہ اسلوب کی صریح مخالفت کی چنانچہ انہوں نے بغیر کسی دلیل کے کسی معاملے میں راویوں کو جھٹلا دیا، اور بغیر کسی دلیل کے دوسرے معاملے میں انہی راویوں کو سچا مان لیا۔ حالانکہ وہ خود اپنی کتاب میں ان لوگوں پر ملامت کرتے ہیں‘‘جو ان روایات کو جھٹلاتے ہیں جو لوگوں کے درمیان ہونے والے فتنے اور اختلاف کے احوال ہم تک نقل کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے (خود ہی اپنے اس موقف کے خلاف) کہا تھا:چنانچہ اگر ہم نے ایسا کیا یعنی روایات کو جھٹلایا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ ہم بعثتِ نبی کریمﷺ سے لے کر اب تک کی پوری اسلامی تاریخ ہی کو جھٹلا دیں کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے فتوحات کی خبریں، غزوات کے احوال اور نبی کریمﷺ اور خلفاء کی سیرت کو روایت کیا ہے، تو پھر یہ کیسے مناسب ہو سکتا ہے کہ جب وہ ایسی باتیں روایت کریں جو ہمیں بھلی لگتی ہوں تو ہم ان کی تصدیق کر دیں، اور جب وہ ایسی باتیں روایت کریں جو ہمیں پسند نہ ہوں تو ہم انہیں جھٹلا دیں؟ اور ہمارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ ہم تاریخ کے کچھ حصے کو سچا مانیں اور کچھ دوسرے حصے کو جھٹلا دیں، صرف اس وجہ سے کہ اس کا کچھ حصہ ہمیں خوش کرتا ہے اور کچھ حصہ ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے لیکن خود ڈاکٹر طہٰ حسین جو اس کلام کے کہنے والے ہیں انہوں نے بعینہٖ یہی کام کر ڈالا! چنانچہ انہوں نے راویوں کو اس وقت جھٹلا دیا جب انہوں نے کوئی ایسی بات روایت کی جو انہیں پسند نہیں تھی اور جو انہیں تکلیف پہنچاتی تھی، اور انہوں نے ایسا ہی اس وقت بھی کیا جب انہوں نے ان راویوں کی تصدیق کر دی جب انہوں نے کوئی ایسی بات روایت کی جو انہیں بھلی لگی اور جس نے انہیں خوش کیا۔ کیونکہ جن لوگوں نے مال و دولت، ثروت اور اقتدار کی خبریں روایت کی ہیں،یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے یہودی عبداللہ بن سبا کی خبریں اور مصر کے وفد کو قتل کرنے کا حکم دینے والے خط کی خبریں بھی روایت کی ہیں۔ تو پھر انہوں نےکس بنیاد پر ایک چیز کو بغیر کسی دلیل کے لے لیا، اور دوسری چیز کی بغیر کسی دلیل کے نفی کر دی؟اصل اور واضح بات یہ ہے کہ ڈاکٹر نے جیسا کہ انہوں نے خود کہا یہ چاہا کہ وہ صدرِ اسلام کے مسلمانوں کو اس سے کہیں بلند و برتر دکھائیں کہ صنعاء سے آنے والا ایک ایسا شخص ان کے دین، ان کی سیاست، ان کی عقلوں اور ان کی حکومت کے ساتھ کھلواڑ کر جائے جس کا باپ یہودی تھا، ماں سیاہ فام تھی، اور وہ خود بھی یہودی تھا، پھر وہ نہ تو کسی شوق سے اور نہ ہی کسی خوف سے اسلام لایا، بلکہ محض مکر، سازش اور دھوکہ دہی کے لیے مسلمان ہوا تھا۔
مسلمانوں کو بلند و برتر دکھانا ایک اچھا مقصد اور ایک خوبصورت نیت ہے، لیکن حق اس سے کہیں زیادہ اچھا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ اور نہ تو ہمارے لیے یہ مناسب ہے اور نہ ہی ڈاکٹر طہٰ حسین کے لیے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کی خاطر حق کے معاملے میں مغالطہ آرائی سے کام لیں جسے وہ خود، یا ہم اچھا اور خوبصورت سمجھتے ہوں۔ اور تاریخ من مانی اور زبردستی(بالتحكم)سے نہیں لکھی جاتی، بلکہ تاریخ تو پہلے روایات سے، پھر استدلال سے لکھی جاتی ہے، اور پھر اس کے بعد مختلف کڑیوں کے درمیان پائے جانے والے خلا کو پُر کرنے میں علمی کوشش صرف کی جاتی ہے۔ اب میں ڈاکٹر طہٰ کے سامنے ایسے حقائق رکھوں گا جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور میرایہ گمان نہیں ہے کہ وہ ان حقائق سے جاہل ہیں یا ان سے غافل ہیں۔ آئیے ہم رسول اللہﷺ کے شہر مدینہ منورہ کی طرف لوٹتے ہیں اس پاکیزہ شہر میں قبیلۂ ازد بن غوث کے ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ کی اولاد آباد تھی ان دونوں قبیلوں کی ماں قیلہ اور باپ حارثہ بن ثعلبہ تھا، اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ اوس اور خزرج تھے۔ اور انہی کے درمیان یہودیوں کی وہ بڑی تعداد(الجليل من اليهود) بھی رہا کرتی تھی جو جزيرة العرب یا مدینہ میں مقیم تھی۔ تو اس کا نتیجہ ایک ایسے معاملے کی صورت میں نکلا جس کی مثال بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان بھی نہیں ملتی اور وہ تھی ان دو قبیلوں اوس و خزرج کے درمیان طویل عرصے تک چلنے والی جنگیں، حالانکہ انہیں ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ نے جنا تھا اور وہ دونوں ایک ہی شہر میں اکٹھے رہتے تھے۔ اور ان دونوں قبیلوں کے درمیان یہ لڑائی لگاتار آگ بھڑکاتی رہی یہاں تک کہ تاریخ کا مشہور یومِ بعاث آ گیا، اور وہ واقعہ ایسا ہے جیسا کہ ابنِ سعد نے بیان کیا ہے یہ ان جنگوں میں اوس اور خزرج کے درمیان ہونے والا آخری معرکہ تھا جو ان کے مابین لڑی گئی تھیں اور یہ معرکہ اس وقت پیش آیا تھا جب رسول اللہﷺ مکہ میں موجود تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے، پھر اس واقعے کے چھ سال بعد آپﷺ نےمدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔اور ان دو سگے بھائیوں، اوس اور خزرج کے درمیان اس عجیب و غریب دشمنی کا پروان چڑھنا، طویل زمانوں تک ان کا آپس میں یہ تلخ اور شدید ترین خوں ریز قتال کرنا، اور یہودیوں کا ان کی جنگوں میں اس طرح حلیف بن کر شامل ہونا کہ ان کا ایک گروہ اوس کے ساتھ اور دوسرا خزرج کے ساتھ مل جائے، جبکہ ان دو سگے بھائی قبیلوں کے مابین ہونے والی اس لڑائی کی آنچ سے خود یہودیوں کو بہت ہی کم نقصان پہنچتا تھا، اور جب بھی کوئی سخت معاملہ درپیش ہوتا تو ان کا یہودیت کے نام پر ایک دوسرے کو پکارنا جس کے نتیجے میں وہ ان عربوں کے خلاف یکجان اور ایک ہاتھ بن جاتے تھے اس سب کا اس کے سوا کوئی دوسرا مطلب نہیں ہے کہ یہ یہودی ہی تھے جنہوں نے ان دونوں کے درمیان جنگ اور دشمنی کی آگ بھڑکائے رکھی؛ تاکہ وہ اس سر زمین پر ایسے اموال، گڑھیاں (اطام) اور قلعے مستحکم کر لیں جو ان کے لیے سامانِ حرب اور قوت کا ذریعہ بنیں، اور وہ انہیں اس زمین کے اصل مالکین عربوں پر غالب کر دیں، اور عرب لوگوں کی توجہ کو کھیتی باڑی اور مال کی افزائش سے ہٹا دیں، تاکہ خود یہودی ہی زراعت، تجارت اور سود و حرام خوری کے ذریعے مال بڑھانے کے تنہا مالک بنے رہیں۔ اور یہودیوں کا یہی شیوہ ہر دور اور ہر زمانے میں رہا ہے، پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ رسول اللہﷺ مدینہ کی طرف ہجرت فرماتے ہیں، اس کے بعد کہ آپﷺ نے عقبہ کے مقام پر خزرج کے ایک گروہ سے ملاقات فرمائی تھی چنانچہ اوس اور خزرج کا کوئی بھی محلہ ایسا نہیں بچتا جس میں اسلام داخل نہ ہوا ہو اور اس کا غلبہ نہ ہوا ہو۔ پھر ایک دن بنو قینقاع کے یہودیوں میں سے ایک شخص شاس بن قیس کا گزر اوس اور خزرج کے چند لوگوں کے پاس سے ہوتا ہے، تو اسے ان کے مابین یہ الفت و محبت اور اسلام پر ان کی باہمی صلح دیکھ کر سخت غیظ و غضب اور حسد آتا ہے، اس شدید دشمنی کے بعد جو جاہلیت میں ان کے درمیان رہ چکی تھی۔ چنانچہ وہ کہتا ہے اس سر زمین پر بنو قیلہ یعنی اوس اور خزرج کے تمام اشراف اکٹھے ہو گئے ہیں! خدا کی قسم، اگر یہاں ان کے تمام اشراف یوں ہی متحد رہے، تو پھر اس شہر میں ہمارے رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا۔چنانچہ وہ یہودیوں کے ایک نوجوان کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان کے پاس جا کر بیٹھ جائے، اور ان کے سامنے یومِ بعاث اور اس سے پہلے کے واقعات کا تذکرہ چھیڑ دے، اور انہیں وہ اشعار سنائے جو وہ جنگوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف فخر و تعلی کے طور پر کہا کرتے تھے۔ وہ یہودی نوجوان ایسا ہی کرتا ہے، تو اچانک وہ جماعت جو اسلام پر متحد و متفق ہو چکی تھی، آپس میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر فخر جتانے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ اوس اور خزرج کے کے دو ساتھی اچھل کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان میں سے ایک ساتھی اپنے ساتھی سے کہتا ہے اگر تم چاہو تو ہم اس جنگ کی آگ کو ابھی دوباره اسی شباب پر لوٹا دیتے ہیں جیسا وہ پہلے تھی۔ اس پر دونوں فریق سخت غصے میں آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم نے تمہارا یہ چیلنج قبول کیا تمہارا ہمارا مقابلہ ظاہرہ نامی مخصوص جگہ پر ہو گا اور وہ ہتھیار ہتھیار پکارنے لگتے ہیں۔
وہ سب اپنے متبادل مقام کی طرف نکل کھڑے ہوتے ہیں، تو رسول اللہﷺ تک یہ خبر پہنچ جاتی ہے۔ چنانچہ آپﷺ اپنے صحابہؓ میں سے مہاجرین کو ساتھ لے کر ان کی طرف نکلتے ہیں، یہاں تک کہ جب آپﷺ ان کے پاس پہنچتے ہیں تو فرماتے ہیں: اے مسلمانوں کی جماعت اللہ سے ڈرو! اللہ! اللہ! کیا تم میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی جاہلیت کی پکار پکار رہے ہو؟ اس کے بعد کہ اللہ نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی تمہیں اس کے ذریعے عزت بخشی تمہارے اندر سے جاہلیت کے معاملے کو کاٹ دیا، تمہیں اس کے ذریعے کفر سے نجات دی اور تمہارے دلوں میں باہمی الفت پیدا کر دی۔
(ابن ہشام، ابو محمد عبد الملك، السيرة النبوية، حققها مصطفٰى السقا وآخرون 1996م، ل، طا، بيروت: جلد 2 صفحہ 151-150
چنانچہ انصار ان کے اوس اور خزرج دونوں جان جاتے ہیں کہ یہ شیطان کی طرف سے ایک ابھار تھا اور ان کے دشمن کی ایک چال تھی پس وہ رونے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے گلے مل جاتے ہیں، پھر وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سمع و طاعت فرمانبرداری اختیار کرتے ہوئے واپس لوٹ آتے ہیں، اور اللہ ان سے اللہ کے دشمن یعنی شاس بن قیس یہودی کی سازش کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ پھر اللہ جل شانہ اس فتنے کے معاملے میں آیات نازل فرماتا ہے اور ان مسلمانوں سے مخاطب ہوتا ہے جن کے درمیان رسول اللہﷺ خود موجود تھے اور ابھی آپ کی وفات نہیں ہوئی تھی: اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات مانو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد دوبارہ کافر بنا دیں گے۔ اور تم کیسے کفر کر سکتے ہو جبکہ تمہارے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اس کے رسول موجود ہیں؟ اور جو کوئی اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لے، تو یقیناً اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دی گئی۔
(سورة آل عمران الآيتان: 101-102)
اسی لیے، ہم رسول اللہﷺ کے صحابہ سورة آل عمران الآيتان: 101، 102 خواه وه اوس سے ہوں یا خزرج سے کو اس بات سے بالاتر یا بڑا نہیں سمجھ سکتے کہ انہوں نے یہودیوں کے ایک گروہ کی بات مان لی تھی، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ یہودی انہیں ان کے ایمان کے بعد دوبارہ کافر بنا دیتے۔ اور نہ ہی ہم انہیں اس خطا سے پاک و منزہ قرار دے سکتے ہیں، جبکہ حال یہ تھا کہ ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جا رہی تھیں اور ان کے درمیان خود اس کے رسول موجود تھے جیسا کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے سن 35 ہجری کے صدر اسلام کے لوگوں کو ہر قسم کی لغزش سے پاک و منزه قرار دینا چاہا ہے، جبکہ اللہ نے اپنے نبی کو اپنے پاس بلا لیا تھا اور اس واقعے کو بیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا، اور نوجوانوں کی ایک ایسی نئی نسل پروان چڑھ چکی تھا جس کے بارے میں کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ سب کے سب اپنے ایمان پر بزرگ صحابہؓ کی طرح شدید حریص تھے۔ پھر اس کے بعد، ادیب (مرحوم) محمود شاکر اپنی اس بحث کو ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں کیا عقلوں میں یہ بات آ سکتی ہے کہ یہودی اور ان کے منافق ساتھی پورے دس سال تک لگاتار دن بہ دن اسلام رسول اللہ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے خلاف سازشیں کرتے رہیں لیکن جیسے ہی رسول اللہﷺ سن || ہجری میں رفیق اعلیٰ سے جا ملے تو انہوں نے ہر قسم کی سازش سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے؟ اور وہ اس کے بعد اسلامی تاریخ میں پیش آنے والے ہر واقعے سے بالکل بری الذمہ ہو گئے؟ یعنی وہ سن || ہجری میں ہونے والے فتنہ ارتداد سے بھی بری ہو گئے، اور سن 23 ہجری میں سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت سے بھی بری ہو گئے، اور سن 35 ہجری میں سیدنا عثمانؓ کی شہادت سے بھی بری ہو گئے۔ بتصرف واختصار من بحث الأديب الراحل محمود محمد شاكر مجلة الرسالة المصرية: السنۃ السادسۃ: 765، 763، 761 عشر، الأعداد)
اس تمام گزشتہ بحث سے ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عبداللہ بن سبا کے وجود کا انکار کرنے سے طہٰ حسین کا اصل ہدف یہ تھا کہ وہ سیدنا عثمانؓ کے خون ناحق میں یہودیوں کی شرکت کی نفی کر دیں جس طرح انہوں نے فتنے کے پورے معاملے کو محض عصبیت قومی و قبیلاتی تعصب کی طرف لوٹانے کی کوشش کی ہے۔ مجلہ الرسالۃ: مرجع سابق: السنۃ 16 عدد 761، صفحہ 137)
ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اسلامی ریاست کی حدود کے اندر تضادات پیدا کرنے میں عصبیت کا اپنا ایک کردار تھا، اور اس کے نتیجے میں کچھ جزوی اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے جن کا ختم ہو جانا ممکن تھا، اور یہ بھی ممکن تھا کہ ریاست کا ماحول فتنوں سے آلودہ ہوئے بغیر ان اختلافات کے ساتھ زندگی کا سفر یونہی جاری رہتا اگر وہ مخفی انگلیاں خفیہ ہاتھ اپنا کام نہ کر رہی ہوتیں جنہوں نے ان تمام تضادات کو اکٹھا کرنے کا بیڑا اٹھایا تاکہ ایک ایسا واحد طوفان تیار کیا جائے جس نے اسلامی ریاست کے افق پر چل کر اسے فتنوں میں ڈبو دیا۔ مجموعی طور پر جليل القدر استاذ محمود شاكر (مرحوم) نے گزشتہ ابحاث میں اس کتاب کے علمی کھوکھلے پن کو اور اس کے مصنف کے نفس میں چھپی خواہشات اور رجحانات کے واضح پن کو بالکل آشکار کر دیا ہے۔ اور ان کی بحث اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ ابن سبا کی شخصیت اور اس کے پیدا کرده واقعات ایک ثابت شدہ حقیقت ہیں اور طہٰ حسین جب اس کی خبر کی نفی کرتے ہیں تو وہ دراصل حد سے تجاوز کرتے ہیں اور ایک ایسے راستے پر چل نکلتے ہیں جو ان جیسے شخص کے شایان شان نہیں ہے۔