ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 6

ہم ڈاکٹر طہٰ حسین کے کلام کی باریک بینی سے تفتیش کرنے میں طوالت کے خوف سے ان کے کلام میں سے صرف ان دو موضوعات کے جائزے پر ہی اکتفا کرتے ہیں ورنہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کے ہر ہر حرف کے نیچے بہت سی ایسی علمی باتیں پوشیدہ ہیں جن کی گہری تفتیش، چھان پھٹک اور انہیں حق کے ان پہلوؤں کی طرف لوٹانا ناگزیر ہے جن سے ہٹ کر وہ دوسری طرف چلے گئے ہیں۔ اور میں ان کے کلام کو نقل کرنے میں طوالت اختیار کرنے پر بالکل مجبور ہوا ہوں، تاکہ ان کی گفتگو اور علم کے پردے میں چھپے مکر کا کوئی بھی حصہ ہم سے چھوٹ نہ جائے۔ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنی گفتگو کا آغاز اس یہودی یعنی ابنِ السوداء عبد اللہ بن سبا کے قصے کو ساقط اور خارج کرنے سے کیا چنانچہ انہوں نے ذکر کیا کہ بعد کے دور کے راویوں نے اس کے معاملے کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اس میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کی، اور یہ کہ یہ قصہ اہم مراجع میں وارد نہیں ہوا، اور ابنِ سعد نے اس کا ذکر نہیں کیا، اور بلاذری نے بھی انساب الاشراف میں اس کا تذکرہ نہیں کیا حالانکہ ڈاکٹر کی نظر میں یہ سب سے اہم مأخذ ہے اور یہ کہ جس نے اس کا ذکر کیا ہے وہ صرف طبری ہیں اور‘‘بظاہر ان کے بعد آنے والے مؤرخین نے یہ بات انہی سے اخذ کی ہے’’جیسا کہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، ڈاکٹر طہٰ حسین کا یہ کہنا کہ ‘‘بعد کے دور کے راوی(الرواة المتأخرين) اس میں ایک بہت بڑا اور بظاہر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ابہام (دھوکہ)موجود ہے کیونکہ طبری بعد کے دور کے راویوں میں سے ہرگز نہیں ہیں۔ وہ تو سن 225 ہجری میں پیدا ہوئے اور سن 310 ہجری میں وفات پائی، چنانچہ وہ بلاذری کے معاصر (ہم عصر) ہیں، اور الطبقات کے مصنف ابنِ سعد کے شاگردوں کے طبقے میں سے ہیں۔ اور سیف بن عمر، جن کی روایت سے طبری نے یہ خبر نقل کی ہے، وہ قدیم دور کے بڑے مؤرخین میں سے ہیں وہ تو طبری اور بلاذری کے شیوخ کے بھی شیوخ (استادوں کے استاد) ہیں اور ابنِ سعد کے شیوخ کے مرتبے میں آتے ہیں، کیونکہ ان کی وفات ہارون الرشید کے زمانے میں یعنی سن 190 ہجری سے پہلے ہوئی تھی۔ لہٰذا نہ توسیف بن عمر کے بارے میں اور نہ ہی طبری کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بعد کے دور کے راویوں میں سے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر طہٰ اپنے قاری کو دھوکے میں رکھنا چاہتے تھے۔

اور اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ اہم مراجع (المصادر المهمة) اس میں بھی ایک شدید قسم کا ابہام اور سراسر حد سے بڑھی ہوئی ناانصافی اور علمی بددیانتی پائی جاتی ہے کیونکہ اگر امام طبری کی کتاب (تاریخ الرسل والملوک)بھی اہم مراجع میں شمار نہیں ہوگی، تو کاش میں جان سکتا کہ پھر وہ کون سے اہم مراجع ہیں جو اس وقت ہمارے ہاتھوں میں موجود ہیں؟

پھر یہ کہ ڈاکٹر طہٰ حسین اچھی طرح جانتے ہیں کہ ابنِ سعدؒ کی کتاب الطبقات الکبریٰ جو اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے،وہ ایک ناقص (نا مکمل) کتاب ہے اور اسے مختلف نسخوں سے جوڑ کر تیار کیا گیا ہے جن میں سے کچھ نسخے مکمل ہیں، کچھ ناقص ہیں اور کچھ مختصر ہیں۔ اور اس بات کی دلیل جس معاملے پر ہم اس وقت بحث کر رہے ہیں یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کے سوانح (ترجمہ)تو 48 صفحات میں بیان کیے اور سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے سوانح 33 صفحات میں لکھے لیکن جب وہ سیدنا عثمانؓ کے تذکرے پر آئے حالانکہ ان کے دورِ خلافت کے واقعات وہ ہیں جنہیں ڈاکٹر طہٰ بھی جانتے ہیں اور عام لوگ بھی جانتے ہیں تو انہوں نے صرف 22 صفحات لکھے اور پھر جب انہوں نے سیدنا علیؓ کا ذکر کیا جبکہ ان کے زمانے کے معاملات تو اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین اور کٹھن تھے تو ان کے بارے میں صرف 16 صفحات لکھے۔

صفحہ 3 از 6