ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 6

پھر انہوں نے کہا: اور میں نہیں جانتا کہ سیدنا عثمانؓ کے زمانے میں ابنِ سبا کی کوئی حیثیت (یا خطرہ) تھی بھی یا نہیں؟ لیکن میں اس بات پر قطعی یقین رکھتا ہوں کہ اس کی حیثیت اگر کوئی حیثیت تھی بھی تو وہ کوئی قابلِ ذکر نہ تھی اور سیدنا عثمانؓ کے دور کے مسلمان ایسے نہ تھے کہ اہل کتاب میں سے سیدنا عثمانؓ ہی کے زمانے میں بظاہر اسلام لانے والا کوئی نو وارد شخص ان کی عقلوں، ان کے نظریات اور ان کی سلطنت کے ساتھ کھلواڑ کر جاتا۔ یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں پس ہمیں اس سارے معاملے میں احتیاط، توقف اور چھان پھٹک کا موقف اختیار کرنا چاہیے اور ہمیں مسلمانوں کو اس سے کہیں بلند و برتر سمجھنا چاہیے کہ صنعاء سے آنے والا ایک ایسا شخص ان کے دین ان کی سیاست، ان کے نظریات اور ان کی حکومت کے ساتھ کھلواڑ کر جائے جس کا باپ یہودی اور ماں سیاہ فام تھی، اور وہ خود بھی یہودی تھا، پھر وہ نہ تو کسی شوق سے اور نہ ہی کسی خوف سے اسلام لایا، بلکہ محض مکر، سازش اور دھوکہ دہی کے لیے مسلمان ہوا، اور پھر اسے مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں وہ کامیابی بھی حاصل ہو گئی جو وہ چاہتا تھا، یہاں تک کہ اس نے مسلمانوں کو ان کے خلیفہ کے خلاف بھڑکایا اور انہوں نے خلیفہ کو شہید کر دیا! پھر وہ کہتے ہیں: یہ تمام ایسی باتیں ہیں جو عقل کے ترازو پر پوری نہیں اترتیں، نہ ہی نقد و جرحکے سامنے ٹھہر سکتی ہیں، اور نہ ہی ان پر تاریخ کے معاملات کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔(حسين طہٰ مرجع سابق 134) 

اس طرح ڈاکٹر طہٰ حسین یکمشت اپنا قطعی فیصلہ سنا دیتے ہیں، اور پھر وہ اسی ڈگر پر آگے بڑھتے ہوئے کہتے ہیں: یہاں اس خط (مکتوب)کا قصہ سامنے آتا ہے جس کے بارے میں راوی کہتے ہیں کہ اہلِ مصر نے اسے مصر واپس لوٹتے ہوئے پکڑا تھا، جس کے بعد وہ غصے میں دوبارہ واپس آ گئے۔ پس یہ قصہ میری نظر میں سرے سے ہی من گھڑت ہے۔ پھر انہوں نے اس خط کے پورے واقعے کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا اور کہا: یہ سب کچھ ایک لغو اور مضحکہ خیز ڈرامے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے بہ نسبت اس کے کہ یہ کوئی ایسا واقعہ ہو جو حقیقت میں پیش آیا تھا۔ حالانکہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ سادہ تھا (اصل بات یہ تھی کہ)مختلف شہروں کے لوگوں نے اپنے امام سیدنا عثمانؓ سے ایک وعدہ لیا تو وہ اس پر مطمئن ہو گئے، پھر بعد میں ان پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ خلیفہ نے اپنے وعدے کو سچا نہیں کیا! چنانچہ وہ بپھرے ہوئے باغیوں کی صورت میں آگے بڑھے، اور وہ اس معاملے سے جلد از جلد فارغ ہونا چاہتے تھے اور اس وقت تک واپس لوٹنے کے لیے تیار نہیں تھے جب تک اس کا فیصلہ نہ کر لیں۔پھر ڈاکٹر طہٰ حسین پر یہ واضح ہوا کہ اس خط کو سرے سے ہی خارج (اور کالعدم) قرار دے دینا جو مصر کے گورنر کی طرف بھیجا گیا تھا اور جس میں مصر سے آنے والے وفد کے سرغنوں کو قتل کرنے کا حکم تھا اس وفد کی مدینے کی طرف دوبارہ واپسی کے اشکال کو حل نہیں کرتا، جب وہ مدینہ سے جدا ہو کر مصر کے لیے روانہ ہو چکا تھا۔ اور ان پر یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ(ان کے اپنے خود ساختہ نظریے کے مطابق) شہروں کے لوگوں پر یہ بات کھلی تھی کہ خلیفہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا،یعنی(طہٰ حسین کے دعوے کے مطابق) خلیفہ نے ان سے صریح لفظوں میں جھوٹ بولا تھا۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتے کہ ان باغیوں پر یہ بات کیسے کھلی کہ خلیفہ نے ان سے جھوٹ بولا ہے؟ تو انہیں کوئی جواب نہ سوجھتا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اس مفروضے کو جوں کا توں پیش کر دیا اور اس پر یہ اضافہ بھی کر دیا کہ وہ بپھرے ہوئے باغیوں کی طرح آگے بڑھے، طہٰ حسین کہتا ہے: پھر جب وہ مدینہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ کے صحابہؓ ان سے قتال کے لیے تیار بیٹھے ہیں، چنانچہ انہوں نے اس لڑائی کو ناپسند کیا اور واپسی کے لیے روانہ ہو گئے یہاں تک کہ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان بزرگ صحابہؓ نے اپنے ہتھیار رکھ دیے ہیں اور اپنے گھروں میں پر امن ہو کر بیٹھ گئے ہیں، تو وہ دوبارہ پلٹ آئے اور بغیر کسی لڑائی کے مدینہ پر قبضہ کر لیا۔”لیکن ڈاکٹر طہٰ حسین نے خود محسوس کیا کہ ان کی یہ رائے سر تاپا ناقص اور کمزور ہے، کیونکہ اس کی تائید کسی دوسرے مفروضے سے نہیں ہو رہی تھی۔ چنانچہ انہوں نے غور و فکر کیا اور اندازے لگائے، پھر کہنے لگے: اور میں اس بات پر تقریباً قطعی یقین رکھتا ہوں کہ مدینہ کے لوگوں میں سے ہی کچھ ان کے مددگار موجود تھے جنہوں نے انہیں دوبارہ بلایا، ان کی حوصلہ افزائی کی، پھر انہیں نبہ کے اصحاب کے ارادوں سے باخبر کیا، اور پھر انہیں یہ اطلاع دی کہ مدینہ دوبارہ امن و سکون کی حالت پر لوٹ آیا ہے؛ اور پھر جب ان باغیوں نے سیدنا عثمانؓ کا محاصرہ کیا تو یہ لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔(حسين، طہٰ مرجع سابق صفحہ209)

اور یہ سب کچھ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں محض فرضی باتیں اور تخیلاتی باتیں(قیاس آرائیاں)ہیں، اور ساتھ ہی یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے جس کا انہوں نے عبداللہ بن سبا کے معاملے میں خود ہی انکار کیا تھا یعنی ایسے خفیہ گروہوں کی تنظیم جو پردہ راز میں رہ کر سازشیں کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ (طہٰ حسین) وہاں (ابنِ سبا کے معاملے میں)تو اس اصول کا انکار کرتے ہیں لیکن یہاں(مدینہ کے لوگوں کے معاملے میں)خود ہی اس کا اقرار کر رہے ہیں۔

صفحہ 2 از 6