ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ثالثاً: ڈاکٹر طہٰ حسین کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 6

ڈاکٹر طہٰ حسین نے اپنی کتاب الفتنۃ الكبرىٰ میں اس فتنے کے معاملے پر تفصیلی بحث کی ہے جس کے شعلے سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت کے آخری حصے میں بھڑک اٹھے تھے، اور جس کا انجام رسول اللہﷺ کے خلیفہ کی شہادت پر ہوا، ایک ایسی شہادت کہ اس وقت تک کی تاریخِ اسلام نے اس سے زیادہ ہولناک اور وحشت ناک واقعہ نہیں دیکھا تھا۔ طہٰ حسین نے یہ بحث اس طریقے سے کی جس سے ان کا مقصد اپنے مخصوص منہج پر چلتے ہوئے شک و شبہات کے بیج بونا تھا، جس کے لیے انہوں نے مبہم مراجع اور ادھوری و کٹی پھٹی روایات پر بھروسا کیا، اور معتبر اسلامی مراجع و مصادر کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے فتنے کی روایات کو ان کے راویوں کے بیان کے مطابق بغیر کسی جانچ پڑتال کے جوں کا توں نقل کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا ایک واضح فکری جھکاؤ بھی تھا، جسے انہوں نے اپنی تحریر کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد ہی ظاہر کیا۔ اور طہٰ حسین کے اس طرزِ عمل کا دندان شکن جواب دینے کی زحمت سے ہمیں عربی زبان کے مایہ ناز مرحوم ادیب محمود محمد شاکر نے سبکدوش کر دیا، چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے:

چنانچہ فتنہ تو بس ایک خالص عربی فتنہ تھا، جو مالداروں کے آپس میں دولت اور اقتدار کے لیے باہمی کھینچا تانی اور عرب کے عام لوگوں(عوام) کے ان مالداروں سے حسد کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔اور آپ کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ آپ اس صفت (یعنی عربی فتنہ اور عرب عوام)کے بار بار دہرائے جانے پر گہری نظر ڈالیں تاکہ آپ جان سکیں کہ وہ اس تکرار سے کیا چاہ رہے ہیں اور طہٰ حسین سیدنا عثمانؓ کے خونِ ناحق میں غیر عربوں میں سے کسی کی بھی شرکت کی کس طرح نفی کرنا چاہتے ہیں۔ ابھی چند صفحات بھی نہیں گزرتے کہ ہمارے سامنے ایک نیا باب آتا ہے جو یوں شروع ہوتا ہے: وہاں ایک ایسا قصہ بھی ہے جسے تاریخ لکھنے والے بڑے بڑے راویوں نے بہت اہمیت دی ہے، اور اس میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے یہاں تک کہ بہت سے قدیم اور جدید اہلِ علم نے اسے سیدنا عثمانؓ کے خلاف ہونے والے اختلافات کا بنیادی مأخذ قرار دے دیا اور اسی اختلاف کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ تفرقہ پیدا ہوا جس کے اثرات اب تک نہیں مٹ سکے۔ اور وہ عبداللہ بن سبا کا قصہ ہے جو ابن السوداء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ راویوں نے کہا ہے: عبد اللہ بن سبا صنعاء کا رہنے والا ایک یہودی تھا جس کی ماں حبشی تھی، پھر وہ سیدنا عثمانؓ کے دور میں بظاہر اسلام لے آیا، اور پھر وہ مختلف شہروں میں گھومنے پھرنے لگا تاکہ سیدنا عثمانؓ کے خلاف سازشیں کرے، لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکائے، ان پر ابھارے، اور عوام میں ایسے نو ایجاد باطل نظریات پھیلائے جنہوں نے دین اورسیاست دونوں کے بارے میں ان کی رائے کو بگاڑ کر رکھ دیا۔

(حسين طہٰ الفتنۃ الكبرىٰ دارالمعارف مصر :صفحہ109)

پھر طہٰ حسین کہتا ہے: اور بہت سے لوگ ابنِ السوداء ہی کی طرف ہر اس بگاڑ اور اختلاف کو منسوب کرتے ہیں جو سیدنا عثمانؓ کے زمانے میں اسلامی بلاد میں ظاہر ہوا تھا، اور ان میں سے کچھ تو اس طرف جاتے ہیں کہ اس نے اپنی سازش کو نہایت مضبوطی سے مستحکم کیا تھا، چنانچہ اس نے مختلف شہروں میں ایسے خفیہ گروہ منظم کیے جو پردہ راز میں رہ کر سازشیں کرتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو فتنے کی دعوت دیتے تھے، یہاں تک کہ جب حالات ان کے لیے سازگار ہو گئے، تو انہوں نے خلیفہ پر دھاوا بول دیا، اور پھر وہی کچھ ہوا جو خروج، محاصرے اور امام کی شہادت کی صورت میں سامنے آیا۔ہم اس عبارت سے دیکھ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس بات پر کیوں اصرار کیا تھا کہ وہ فتنے کو عربی قرار دیں اور یہ کہیں کہ جو عوام اس فتنے کے شر پسند تھے وہ عرب عوام تھے یعنی ان کے نزدیک اس فتنے میں عبد اللہ بن سباء کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اور نہ ہی اس کی آگ کو بھڑکانے میں یہودیوں کا کوئی کردار تھا۔ پھر ڈاکٹر اپنی بات کو آگے بڑھاتا ہوا اس کے فوراً بعد کہتا ہے: مجھے ایسا خیال ہوتا ہے کہ جو لوگ ابنِ سبا کے معاملے کو اس حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں وہ اپنے آپ پر اور تاریخ پر بہت سخت زیادتی اور مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔ اور سب سے پہلی چیز جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم ان اہم مراجع میں ابنِ سبا کا کوئی تذکرہ نہیں پاتے جنہوں نے سیدنا عثمانؓ کے خلاف ہونے والے اختلافات کا احوال بیان کیا ہے۔ چنانچہ بلاذری نے اپنی کتاب انساب الاشراف میں اس کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ میری نظر میں یہ کتاب اس قصے کے لیے سب سے اہم اور سب سے زیادہ مفصل مأخذ ہے۔ جبکہ طبری نے اس کا ذکر سیف بن عمر کی روایت سے کیا ہے، اور بظاہر اسی سے ان مؤرخین نے یہ بات اخذ کی ہے جو ان کے بعد آئے۔

(حسين طہٰ مرجع سابق 131) 

صفحہ 1 از 6