ڈاکٹر کامل مصطفیٰ الشیبی نے اپنی کتاب الصلۃ بين التصوف والتشيع(تصوف اور تشیع کا باہمی تعلق)میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ ابن سبا کوئی اور نہیں، بلکہ درحقیقت جلیل القدر صحابی عمار بن یاسرؓ ہی ہیں۔ (عمار بن ياسر بن عامر بن مالك، كان حليفاُ لبني مخزوم وكان والده من السابقين فی الاسلام ابن حجر، الإصابة مرجع سابق: جلد 2 صفحہ 505)
حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ بات کہنے والے (ہدایت الوحکیم الہلی)ہیں جو برطانوی یونیورسٹیوں میں سےایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے، اورڈاکٹر علی الوردی نےاپنی کتاب وعاظ السلاطين(سلاطین کے واعظین) میں اسی بات کی تکرار کی ہے اور ڈاکٹر کامل الشیی نے اس مؤقف کی پرزور تائید کرتے ہوئے کہا ہے:
اور یہ دلائل مقنع (اطمینان بخش)اور منطقی ہیں، لیکن انہیں ایسے مراجع و نصوص کی ضرورت ہے جو عمار بن یاسرؓ کوابن السوداءاور ابن سباکا نام دیے جانے کی تائید کرتے ہوں۔ پھر ڈاکٹر الشیبی کچھ ایسے دلائل و براہین پیش کرنے لگے جن کے بارے میں انہیں یہ وہم ہوا کہ وہ ان کے اس دعوے کی تائید کرتے ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ: ابن سبا ابن السوداءکے نام سے جانا جاتا تھا، اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ عمارکی کنیت بھی کس طرح ابن السوداء کہی جاتی تھی، عمارؓ ایک یمنی باپ کی اولاد تھے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابنائے سبا (سبا کے بیٹوں) میں سے تھے کیونکہ ہر یمنی کے بارے میں یہ کہنا درست ہے کہ وہ ابنِ سبا(سبا کا بیٹا)ہے، اور تمام اہلِ یمن اپنا نسب سباء بن يشجب بن قحطان سے جوڑتے ہیں۔ اور قرآنِ کریم میں ہے: ہدہد نے سلیمان علیہ السلام سے کہا تھا کہ وہ ان کے پاس ”سبا“ سے آیا ہے، اور اس سے اس کی مراد یمن ہی تھا۔ مزید برآں، عمارؓ و علیؓ سے شدید محبت رکھتے تھے، ان کے لیے لوگوں کو دعوت دیتے تھے، اور ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو ان کی بیعت پر ابھارتے تھے۔ اور عمار، سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں مصر بھی گئے تھے اور وہاں لوگوں کو سیدنا عثمانؓ کے خلاف اکسانے لگے، جس پر وہاں کا گورنر ان سے نالاں ہو گیا اور ان پر سخت گرفت کرنے کا ارادہ کیا۔ اور یہ واقعہ بعینہِ اس خبر سے مشابہت رکھتا ہے جو ابنِ سبا کی طرف منسوب ہے کہ وہ مصر میں مقیم ہو گیا تھا، اور اس نے ”فسطاط“کو اپنی دعوت کا مرکز بنا لیا تھا اور وہاں سے اپنے حامیوں کو خطوط لکھنا شروع کیے تھے۔اسی طرح ابنِ سباء کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ: عثمان نے خلافت ناحق لی ہے، اور اس کے حقیقی حق دار علی بن ابی طالب ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود سیدنا عمار بن یاسرؓ کا اپنا کلام ہے چنانچہ ایک دن سیدنا عثمانؓ کی بیعت کے فوراً بعد انہیں مسجد میں بلند آواز سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا: اے گروہِ قریش! یاد رکھو، اگر تم نے اس امرِ خلافت کو اپنے نبی کے اہلِ بیت سے ایک بار یہاں اور ایک بار وہاں پھیر دیا، تو میں تمہارے بارے میں اس بات سے مامون نہیں ہوں کہ اللہ اسے تم سے چھین کر دوسروں میں بانٹ دے، جس طرح تم نے اسے اس کے اصل حق داروں سے چھین کرنا اہلوں کے سپرد کر دیا ہے۔ اور ابنِ سباء کی طرف یہ بات بھی منسوب کی جاتی ہے کہ وہی وہ شخص تھا جس نے معرکۂ بصرہ (جنگِ جمل) کے دوران سیدنا علیؓ اور سیدہ عائشہؓ کے مابین صلح کی کوششوں کو سبوتاژ کیا تھا، اوراگر وہ نہ ہوتا تو ان دونوں کے درمیان صلح مکمل ہو جاتی، جیسا کہ راوی بیان کرتے ہیں۔جو شخص معرکۂ بصرہ (جنگِ جمل) کے تفصیلی احوال کا مطالعہ کرتا ہے، وہ سیدنا عمارؓ کو اس میں ایک سرگرم اور متحرک کردار ادا کرتے ہوئے پاتا ہے چنانچہ وہی تھے جو سیدنا حسنؓ اور مالک اشتر کے ہمراہ کوفہ گئے تاکہ لوگوں کو علیؓ کے لشکر میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔ اور جنگ کے دوران سیدنا علیؓ کے پہلو بہ پہلو سیدنا عمارؓ کا کھڑا ہونا ہی ان اسباب میں سے تھا جو سیدنا زبیرؓ کی ندامت اور جنگ سے دستبرداری کا باعث بنا۔ اور مؤرخین نے ابنِ سبا کے بارے میں کہا ہے کہ اسی نے ابو ذر غفاریؓ کو ان کی(نام نہاد) اشتراکی دعوت پر ابھارا تھا حالانکہ اگر ہم سیدنا عمارؓ کا ابو ذرؓ کے ساتھ تعلق کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کا باہمی ربط انتہائی گہرا اور مضبوط تھا، کیونکہ وہ دونوں ایک ہی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ہے علیؓ کا مکتبِ فکر۔ اور یہ تینوں حضرات باہم اکٹھے ہوتے، آپس میں مشورے کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون فرماتے تھے۔ ڈاکٹر کامل الشیبی کہتا ہے کہ:
ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ابنِ سبا کوئی اور نہیں بلکہ خود عمار بن یاسرؓ ہی تھے کیونکہ قریش عمار کو عثمانؓ کے خلاف اٹھنے والی تحریک کا سرغنہ سمجھتے تھے، لیکن وہ شروع شروع میں ان کے نام کی صراحت نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے کنایۃً انہیں ابنِ سبا یا ابنِ السوداء(سیاہ فام خاتون کا بیٹا) کا علامتی نام دے دیا۔راویوں نے پردے کے پیچھے چھپے حقائق سے بے خبر رہتے ہوئے اس معاملے کو اسی طرح آگے نقل کر دیا۔ پھر ڈاکٹر کامل مصطفیٰ الشیبی نے کچھ ایسی دلیلیں اور نصوص پیش کرنا شروع کیں جن کے بارے میں ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ عمار بن یاسرؓ کو ابن السوداءاور ابنِ سبا کا نام دیے جانے کی تائید کرتی ہیں۔
حوالہ جات:
( الوردی علی 1956م مقال من طلاب الشهرهۃ،مجلۃ الثقافة الإسلامية السنة الأولى بغداد العدد11)
(الوردي علي 1954م وعاظ السلاطين بغداد صفحہ 272-274، والشيبي، كامل مصطفى، والصلۃ بين التصوف والتشيع ط2 دار المعارف مصر : صفحہ41 وما بعدها)
(الوردي وعاظ السلاطين مرجع سابق : صفحہ 272، 274 ، وانظر الشيبي ، مرجع سابق : صفحہ41 وما بعدها۔)
ہم (اس کے جواب میں)یہ کہتے ہیں: جو شخص بھی ان منقولہ روایات میں غور و فکر کرے گا جنہیں ہم نے اوپر بیان کیا ہے، وہ یہ پائے گا کہ عبداللہ بن سبا کی شخصیت ایک حقیقی شخصیت تھی جسے لوگ اچھی طرح جانتے تھے، اور وہ اس کی لچکدار طبیعت اور اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے بھی واقف تھے کیونکہ یہ روایات بغیر کسی ابہام کے اس کے وجود کی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔ بلکہ عبداللہ بن سباء کا تذکرہ کرنے والے راویوں کے درمیان تو اس بات پر گویا اجماع پایا جاتا ہے کہ وہ ایک یہودی تھا، اور خود علمائے شیعہ(مثلاً النوبختی وغیرہ)نے بھی اس بات کی تائید کی ہے۔(النوبختی: مرجع سابق صفحہ27)
رہا یہ سوال کہ عبداللہ بن سبا کو ”ابن السوداء“کیوں کہا گیا؟ تو امام طبری اور دیگر مؤرخین کے کلام سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ عبداللہ بن السوداء دراصل خود عبداللہ بن سبا ہی ہے اور اسے یہ نام محض اس کی تذلیل و تحقیر کے لیے دیا گیا کیونکہ اس کی ماں سیاہ فام تھی، اور شاید اس لیے بھی کہ اس کی ماں حبشی تھی جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اور علامہ مقریزی نے اپنی کتاب الخطط میں،اور ابنِ کثیرؒ نے البدايہ والنہايہ میں اس تطابق (کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں)کی توثیق کی ہے۔
(المقريزي ابوالعباس احمد بن علي المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار دار الطباعة المصريۃ بولاق جلد 2 صفحہ 334)
(ابنِ كثيرؒ ابوالفداء إسماعيل بن عمر، تحقيق ومراجعۃ محمد عبد العزيز النجار، مؤسسۃ دار العربي للنشر والتوزيع، مطبعۃ السعادة، جلد 2 صفحہ356)
چنانچہ امام طبری نے فرمایا: عبداللہ بن سبا صنعاء کا رہنے والا ایک یہودی تھا، اور اس کی ماں سیاہ فام (لونڈی) تھی۔(الطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ98)
جاحظ کی کتاب البيان والتبيين میں ایک روایت آئی ہے جس کے بعض فقروں میں یہ درج ہے: چنانچہ مجھے ابن السوداء ملا اور وہ ابنِ حرب ہے۔ ڈاکٹر جواد علی نے اسی روایت کے ذریعے عبداللہ بن سبا کے وجود پر شک کے بادل مڈلانے کی کوشش کی ہے، چنانچہ انہوں نے کہا:‘‘اس روایت میں اہم بات یہ ہے کہ اس نے ابن السوداء کے باپ کے نام کی صراحت کر دی ہے اور اسےحرب پکارا ہے!لیکن یہ کون سا حرب ہے؟ تاریخ میں تو سینکڑوں اشخاص ایسے ہیں جو حرب کے نام سے جانے جاتے ہیں، پھر اس حرب کا باپ کون تھا..؟ اور وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔(الجاحظ، ابو عثمان عمرو بن بحر، تحقیق عبد السلام هارون جلد 3 صفحہ46 كتاب العصر)
(علی ، جواد ، مجلۃ الرسالۃ عدد 775 صفحہ532)
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کتاب البیان والتبیین کی یہ عبارت تحریف شدہ ہے، اور میرا یہ گمان ہے کہ اس روایت کی اصل یوں تھی: فلقینی ابن السوداء هو وابن حرب(یعنی مجھے ابن السوداء ملا، وہ اور ابنِ حرب)،جس میں لفظ هوکو واؤپر مقدم کر دیا گیا ہے اور اس طرح کرنے سے عبارت کا معنی بالکل درست ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ابنِ حرب جو ہے، یہی غالی سبئی گروہ کی ایک ذیلی شاخ "الفرقہ الحربيہ"(حربیہ فرقے)کا بانی ہے۔(الشہرستانی، محمد بن عبد الكريم الملل والنحل تحقيق محمد سيد الكيلانی دارالمعرفہ بيروت جلد1صفحہ 290-291 وانظر القمی مرجع سابق صفحہ27-28 والنوبختی مرجع سابق صفحہ27)
ابنِ حرب ابنِ سبا کے پیرو کاروں میں سے تھا اور وہ انہی نظریات و مقالات کا قائل تھا جن کی دعوت عبد اللہ بن سبا نے دی تھی، پھر وہ اپنے غلو میں اس سے بھی آگے نکل گیا۔ بہرحال اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر جواد علی نے جاحظ کی مذکورہ بالا روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے خود یہ کہا ہے: اور مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جاحظ ابن السوداء سے مراد اسی عبداللہ بن سبا کو لے رہا ہے جس کا تذکرہ فرق و مذاہب کی کتابوں کے مصنفین نے کیا ہے۔
(مجلۃ الرسالۃ، مرجع سابق عدد 775)
عبدالقاہر بغدادی مصنفِ کتاب الفرق بين الفرق نے اکیلے یہ رائے قائم کی ہے کہ ابن السوداء، ابن سبا کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ہے حالانکہ وہ افکار اور نظریات جو انہوں نے دوسرے یعنی ابن سباء کی طرف منسوب کیے ہیں، وہ اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں، جس سے مشرق (عجم) اور منحرف ادیان و مذاہب سے درآمد شدہ نظریات مروی ہوئے ہیں۔ مصنفِ الفرق نے امام شعبی کی اس روایت پر اعتماد کیا ہے جو دو اشخاص کے بارے میں بات کرتی ہے جن میں سے
پہلا: عبد اللہ بن سبا ہے، جو اصل میں یمن کا ایک یہودی تھا،
دوسرا:عبد اللہ بن السوداء ہے، جو حیرہ کا ایک یہودی تھا۔ (البغدادی مرجع سابق صفحہ227)
جبکہ ہم اس سے پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ ابن سبا اصل میں یمن ہی سے تھا، اور وہ بعد میں حیرہ میں آکر مقیم ہوا تھا، اور وہیں اس نے ان اکثر مقالات اور باطل عقائد کو ترتیب دیا جن کی اس نے دعوت دی تھی۔ اور ان دونوں کے درمیان یہ تفریق راویوں پر معاملہ خلط ملط ہو جانے کی وجہ سے ہی ہوئی ہے، جیسا کہ امام شعبی ہی کی ایک دوسری روایت میں ان کے ساتھ ہوا جسے العقد الفريد کے مصنف نے نقل کیا ہے، جس میں یہ عبارت آئی ہے: اور علی بن ابی طالبؓ نے انہیں آگ سے جلا دیا تھا اور انہیں مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا تھا،ان میں سے ایک عبد اللہ بن سبا تھا جسے آپ نے ساباط کی طرف جلاوطن کیا، اور دوسرا عبد اللہ بن سباب تھا۔(مجلۃ الرسالۃ: مرجع سابق عدد 775)
چنانچہ امام شعبی نے اپنی اس روایت میں دو اشخاص کے نام ذکر کیے ہیں: ایک عبد اللہ بن سبا، اور دوسرا عبد اللہ بن سباب اور جو شخص اس مقام کا مطالعہ کرتا ہے، وہ یہ تصور کر بیٹھتا ہے کہ یہ دوسرا شخص علی بن ابی طالبؓ کی محبت میں غلو کرنے والے سرغنوں میں سے تھا، اور وہ ابنِ سبا کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا، اور اس کے باپ کا نام سباب تھا مگر جب ہم فرق و مذاہب کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو ہم یہ پاتے ہیں کہ وہ کتابیں عبد اللہ بن سبا اور اس کے پیرو کاروں کو سبئیہ بھی کہتی ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ انہیں سبابیہ کے نام سے بھی موسوم کرتی ہیں۔ جیسا کہ کتاب الفرق بين الفرق میں آیا ہے اس باب کی فصلوں میں سے پہلی فصل: سبابیہ کے قول کے ذکر میں جو کہ عبد اللہ بن سبا کے پیروکار ہیں۔(البغدادی مرجع سابق صفحہ227)
اس نام سبابیہ کا ورود دیگر کتابوں میں بھی کثرت سے ہوا ہے جیسے ابنِ قتیبہ کی کتاب عیون الاخبار چنانچہ انہوں نے کہا ہے قرآن کے مخلوق ہونے کا قول سب سے پہلے مغیرہ بن سعید عجلی نے اختیار کیا تھا اور وہ عبد اللہ بن سباء یہودی کے پیرو کاروں میں سے تھا اور انہوں نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: بے شک مغیرہ ایک سبابی تھا۔(ابن قتيبۃ الدينوری، ابو محمد عبداللہ ابن مسلم عيون الاخبار 1963م طبع المؤسسۃ المصريۃ العامۃ للتأليف والترجمۃ والطباعۃ والنشر، جلد1صفحہ148-149)
پس یہ تمام نام دراصل ایک ہی مسمّٰی(شخصیت)کے لیے ہیں اور وہ عبد اللہ بن سبا ہے اور انہیں یہ نام سبابیہ اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ رسولﷺ کے صحابہ کرامؓ کی تنقیص کرتے تھے اور ان کو برا بھلا کہنے سبّ و شتم کرنے اور ان پر طعن و تشنیع کرنے میں اپنی زبانیں دراز کرتے تھے۔ اور عبد اللہ بن سبا کا لقب ”ابن السوداء“ کے نام سے مشہور ہونا نہ تو اسے پسند تھا اور نہ ہی اس کے پیرو کاروں کو یہ بھاتا تھا، کیونکہ یہ لفظ ہمیشہ تحقیر اور ذلت و رسوائی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ اسی لفظ کے ذریعے ایک مرتبہ مقداد بن اسود کو عار دلائی گئی اور انہیں کہا گیا:”اے سیاہ فام خاتون کے بیٹے!“ اور خود ابو ذر غفاریؓ نے یہ بات بلال حبشیؓ سے کہی تھی جس پر نبی کریمﷺ نے ناراضی فرمائی تھی۔ پس یہ ممکن ہے کہ عمار بن یاسرؓ اور ان کے علاوہ دیگر افراد کو (ان کی ماؤں کے رنگ کی وجہ سے)”ابن السوداء“کا کنایہ دیا گیا ہو، جس طرح کہ ابنِ سبا کو یہ کنایہ دیا گیا تھا مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ دونوں ایک ہی شخصیت ہیں اور جدید دور کے شیعی محققین نے عبد اللہ بن سباء کے وجود کو محض اس دعوے کے ساتھ مسترد کیا ہے کہ وہ (کوئی الگ مٹی کا انسان نہیں بلکہ)عمار بن یاسر ہی ہیں یہ کہ ان کے بقول نواصب نے یہ تمام افکار اور نظریات جو اسلامی معاشرے میں غیر مسلم اقلیتوں کے درمیان پھیلے ہوئے تھے عمارؓ کے سر مڑھ دیے تاکہ وہ تشیع کی ابتداء اور غلو کا سارا الزام عبد اللہ بن سبا پر ڈال سکیں۔ حالانکہ فرق و مذاہب کے مؤرخین اور مصنفین نے، خواہ وہ اہل سنت ہوں یا شیعہ، ابنِ سبا کو غالی تشیع کے بانی اور رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔ چنانچہ جدید دور کے شیعی محققین کا ردِ عمل یہ رہا کہ انہوں نے عبد اللہ بن سبا کو ایک فرضی نام قرار دے دیا جسے امویوں نے اپنے مخالف سیدنا عمار بن یاسرؓ کے لیے گھڑا تھا۔ اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ کو ان کے معروف علمی و ایمانی مقام کے ساتھ اپنے مذہب کا اولین بانی اور رہنما ثابت کر سکیں۔ پھر یہ کہ یہ رائے جسے ڈاکٹر علی الوردی اور ڈاکٹر کامل مصطفیٰ الشیبی وغیرہ نے اختیار کیا ہے اس کی تردید جرح و تعدیل کی تمام کتابیں اور خود شیعہ ہی کے ہاں معتبر کتبِ رجال کرتی ہیں کیونکہ وہ کتابیں سیدنا عمار بن یاسرؓ کا ذکر سیدنا علی بن ابی طالبؓ کے اصحاب اور ان سے روایت کرنے والے راویوں کے ضمن میں کرتی ہیں، اور پھر کسی دوسرے مقام پر عبداللہ بن سبا کا مستقل تذکرہ اس کی مذمت، سب و شتم اور لعن طعن کے سیاق میں کرتی ہیں۔ تو کیا(ایسی واضح تفریق کے بعد بھی)ان دونوں افراد کو ایک ہی شخصیت تسلیم کرنا ممکن ہے؟
اگر ڈاکٹر علی الوردی اور ان کے متبعین یہ رائے رکھتے ہیں کہ(ان دونوں کے ایک ہونے کا) ایک سبب یہ بھی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کے زمانے میں یہ دونوں ہی مصر گئے تھے، تو تاریخی نصوص کا گہرا مطالعہ (استقراء) اور ان کی تاریخ کی معرفت ایک بالکل مختلف مفہوم سامنے لاتی ہے جو ڈاکٹر الوردی کے فہم کےبرعکس ہے اور نتیجتاً یہ بات ان دونوں شخصیتوں کے الگ الگ اور آزاد ہونے پر ایک واضح دلیل بن جاتی ہے۔ کیونکہ سیدنا عمارؓ کو تو سیدنا عثمانؓ نے سن 35 ہجری میں مصر بھیجا تھا، اور مصر میں جن لوگوں نے سیدنا عمار بن یاسرؓ کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی تھی، ان میں عبد اللہ بن سبا، خالد بن ملجم، سودان بن حمران اور کنانہ بن بشر جیسے لوگ شامل تھے۔ اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خلیفہ سیدنا عثمانؓ نے اپنے مقربین سے اس وقت خصوصی مشورہ طلب کیا جب ان کے کانوں تک مختلف شہروں (امصار) میں رعایا کی ناراضی اور بے چینی کی خبریں پہنچیں۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا عثمانؓ سے کہا: ہم آپ کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ ان شہروں کی طرف ایسے مردوں کو تحقیقات کے لیے بھیجیں جن پر آپ کو پورا بھروسہ ہو، تاکہ وہ وہاں کے احوال کی خبریں لے کر آپ کے پاس لوٹیں چنانچہ انہوں نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور انہیں کوفہ روانہ کیا، اسامہ بن زید کو بصرہ بھیجا، عمار بن یاسر کو مصر روانہ کیا، اور عبد اللہ بن عمر کو شام بھیجا، اور ان کے علاوہ بھی کئی مردوں کو مختلف جگہوں پر روانہ کیا۔(الطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 4 صفحہ348)
پس اس ٹھوس تاریخی حقیقت سے معلوم ہوا کہ وہ دو الگ الگ اشخاص ہیں نہ کہ ایک ہی شخص۔ اسی طرح تاریخی اور نفسیاتی حالات بھی ہمیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان دونوں کو ایک ہی شخصیت قرار دیں کیونکہ اگر ایسا مانا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ ہی وہ شخص تھے جنہوں نے سیدنا علیؓ کے لیے وصیتِ خلافت رجعت (دوبارہ دنیا میں لوٹنے) مہدویت اور زندقہ (الحاد)کے نظریات پھیلائے تھے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی نسبت کوئی بھی شخص جلیل القدر صحابی عمار بن یاسرؓ کی طرف کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ بلکہ ان دونوں شخصیتوں کو ایک اور متحد ماننے سے سیدنا عمارؓ کی طرف یہودی ہونے کی نسبت بھی لازم آئے گی، جبکہ عبد اللہ بن سباء کے یہودی ہونے کو خود اہلِ سنت اور شیعہ دونوں ہی کے مؤرخین نے ثابت کیا ہے۔ رہا ان دونوں کا ایک ہی کنایہ یا لقب ابن السوداء پر متفق ہونا، تو یہ اس بات کی قطعی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ ایک ہی شخص ہے
کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ کی بہت سی نامور شخصیات (اعلام) کنایات اور القابات میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں، اور اسی وجہ سے تو مؤرخین نے ناموں، کنایات اور القابات کی اس باہمی مشابہت پر مستقل کتابیں(کتبِ متشابہ الاسماء والکنی)تصنیف کی ہیں تاکہ ان کے درمیان فرق کو واضح کیا جا سکے۔
ان تمام باتوں سے جو اوپر بیان ہو چکی ہیں، ہمارے سامنے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر علی الوردی اور جس کسی نے بھی اس نظریے میں ان کی پیروی کی ہے، وہ حق اور درستی سے دور نکل گئے ہیں اور ہم نے ان کے رد میں جو کچھ بھی دلائل پیش کیے ہیں، وہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی اور وافی ہیں۔