ثانیاً: ڈاکٹر کامل مصطفٰی الشیبی کے شبہات - ردِ رافضیت |…

ثانیاً: ڈاکٹر کامل مصطفٰی الشیبی کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

اس نام سبابیہ کا ورود دیگر کتابوں میں بھی کثرت سے ہوا ہے جیسے ابنِ قتیبہ کی کتاب عیون الاخبار چنانچہ انہوں نے کہا ہے قرآن کے مخلوق ہونے کا قول سب سے پہلے مغیرہ بن سعید عجلی نے اختیار کیا تھا اور وہ عبد اللہ بن سباء یہودی کے پیرو کاروں میں سے تھا اور انہوں نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: بے شک مغیرہ ایک سبابی تھا۔(ابن قتيبۃ الدينوری، ابو محمد عبداللہ ابن مسلم عيون الاخبار 1963م طبع المؤسسۃ المصريۃ العامۃ للتأليف والترجمۃ والطباعۃ والنشر، جلد1صفحہ148-149)

 پس یہ تمام نام دراصل ایک ہی مسمّٰی(شخصیت)کے لیے ہیں اور وہ عبد اللہ بن سبا ہے اور انہیں یہ نام سبابیہ اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ رسولﷺ کے صحابہ کرامؓ کی تنقیص کرتے تھے اور ان کو برا بھلا کہنے سبّ و شتم کرنے اور ان پر طعن و تشنیع کرنے میں اپنی زبانیں دراز کرتے تھے۔ اور عبد اللہ بن سبا کا لقب ”ابن السوداء“ کے نام سے مشہور ہونا نہ تو اسے پسند تھا اور نہ ہی اس کے پیرو کاروں کو یہ بھاتا تھا، کیونکہ یہ لفظ ہمیشہ تحقیر اور ذلت و رسوائی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ اسی لفظ کے ذریعے ایک مرتبہ مقداد بن اسود کو عار دلائی گئی اور انہیں کہا گیا:”اے سیاہ فام خاتون کے بیٹے!“ اور خود ابو ذر غفاریؓ نے یہ بات بلال حبشیؓ سے کہی تھی جس پر نبی کریمﷺ نے ناراضی فرمائی تھی۔ پس یہ ممکن ہے کہ عمار بن یاسرؓ اور ان کے علاوہ دیگر افراد کو (ان کی ماؤں کے رنگ کی وجہ سے)”ابن السوداء“کا کنایہ دیا گیا ہو، جس طرح کہ ابنِ سبا کو یہ کنایہ دیا گیا تھا مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ دونوں ایک ہی شخصیت ہیں اور جدید دور کے شیعی محققین نے عبد اللہ بن سباء کے وجود کو محض اس دعوے کے ساتھ مسترد کیا ہے کہ وہ (کوئی الگ مٹی کا انسان نہیں بلکہ)عمار بن یاسر ہی ہیں یہ کہ ان کے بقول نواصب نے یہ تمام افکار اور نظریات جو اسلامی معاشرے میں غیر مسلم اقلیتوں کے درمیان پھیلے ہوئے تھے عمارؓ کے سر مڑھ دیے تاکہ وہ تشیع کی ابتداء اور غلو کا سارا الزام عبد اللہ بن سبا پر ڈال سکیں۔ حالانکہ فرق و مذاہب کے مؤرخین اور مصنفین نے، خواہ وہ اہل سنت ہوں یا شیعہ، ابنِ سبا کو غالی تشیع کے بانی اور رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔ چنانچہ جدید دور کے شیعی محققین کا ردِ عمل یہ رہا کہ انہوں نے عبد اللہ بن سبا کو ایک فرضی نام قرار دے دیا جسے امویوں نے اپنے مخالف سیدنا عمار بن یاسرؓ کے لیے گھڑا تھا۔ اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ کو ان کے معروف علمی و ایمانی مقام کے ساتھ اپنے مذہب کا اولین بانی اور رہنما ثابت کر سکیں۔ پھر یہ کہ یہ رائے جسے ڈاکٹر علی الوردی اور ڈاکٹر کامل مصطفیٰ الشیبی وغیرہ نے اختیار کیا ہے اس کی تردید جرح و تعدیل کی تمام کتابیں اور خود شیعہ ہی کے ہاں معتبر کتبِ رجال کرتی ہیں کیونکہ وہ کتابیں سیدنا عمار بن یاسرؓ کا ذکر سیدنا علی بن ابی طالبؓ کے اصحاب اور ان سے روایت کرنے والے راویوں کے ضمن میں کرتی ہیں، اور پھر کسی دوسرے مقام پر عبداللہ بن سبا کا مستقل تذکرہ اس کی مذمت، سب و شتم اور لعن طعن کے سیاق میں کرتی ہیں۔ تو کیا(ایسی واضح تفریق کے بعد بھی)ان دونوں افراد کو ایک ہی شخصیت تسلیم کرنا ممکن ہے؟

اگر ڈاکٹر علی الوردی اور ان کے متبعین یہ رائے رکھتے ہیں کہ(ان دونوں کے ایک ہونے کا) ایک سبب یہ بھی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کے زمانے میں یہ دونوں ہی مصر گئے تھے، تو تاریخی نصوص کا گہرا مطالعہ (استقراء) اور ان کی تاریخ کی معرفت ایک بالکل مختلف مفہوم سامنے لاتی ہے جو ڈاکٹر الوردی کے فہم کےبرعکس ہے اور نتیجتاً یہ بات ان دونوں شخصیتوں کے الگ الگ اور آزاد ہونے پر ایک واضح دلیل بن جاتی ہے۔ کیونکہ سیدنا عمارؓ کو تو سیدنا عثمانؓ نے سن 35 ہجری میں مصر بھیجا تھا، اور مصر میں جن لوگوں نے سیدنا عمار بن یاسرؓ کو اپنے زیرِ اثر لانے کی کوشش کی تھی، ان میں عبد اللہ بن سبا، خالد بن ملجم، سودان بن حمران اور کنانہ بن بشر جیسے لوگ شامل تھے۔ اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خلیفہ سیدنا عثمانؓ نے اپنے مقربین سے اس وقت خصوصی مشورہ طلب کیا جب ان کے کانوں تک مختلف شہروں (امصار) میں رعایا کی ناراضی اور بے چینی کی خبریں پہنچیں۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا عثمانؓ سے کہا: ہم آپ کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ ان شہروں کی طرف ایسے مردوں کو تحقیقات کے لیے بھیجیں جن پر آپ کو پورا بھروسہ ہو، تاکہ وہ وہاں کے احوال کی خبریں لے کر آپ کے پاس لوٹیں چنانچہ انہوں نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور انہیں کوفہ روانہ کیا، اسامہ بن زید کو بصرہ بھیجا، عمار بن یاسر کو مصر روانہ کیا، اور عبد اللہ بن عمر کو شام بھیجا، اور ان کے علاوہ بھی کئی مردوں کو مختلف جگہوں پر روانہ کیا۔(الطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 4 صفحہ348)

پس اس ٹھوس تاریخی حقیقت سے معلوم ہوا کہ وہ دو الگ الگ اشخاص ہیں نہ کہ ایک ہی شخص۔ اسی طرح تاریخی اور نفسیاتی حالات بھی ہمیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان دونوں کو ایک ہی شخصیت قرار دیں کیونکہ اگر ایسا مانا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ ہی وہ شخص تھے جنہوں نے سیدنا علیؓ کے لیے وصیتِ خلافت رجعت (دوبارہ دنیا میں لوٹنے) مہدویت اور زندقہ (الحاد)کے نظریات پھیلائے تھے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی نسبت کوئی بھی شخص جلیل القدر صحابی عمار بن یاسرؓ کی طرف کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ بلکہ ان دونوں شخصیتوں کو ایک اور متحد ماننے سے سیدنا عمارؓ کی طرف یہودی ہونے کی نسبت بھی لازم آئے گی، جبکہ عبد اللہ بن سباء کے یہودی ہونے کو خود اہلِ سنت اور شیعہ دونوں ہی کے مؤرخین نے ثابت کیا ہے۔ رہا ان دونوں کا ایک ہی کنایہ یا لقب ابن السوداء پر متفق ہونا، تو یہ اس بات کی قطعی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ ایک ہی شخص ہے 

صفحہ 3 از 4