ثانیاً: ڈاکٹر کامل مصطفٰی الشیبی کے شبہات - ردِ رافضیت |…

ثانیاً: ڈاکٹر کامل مصطفٰی الشیبی کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

ہم (اس کے جواب میں)یہ کہتے ہیں: جو شخص بھی ان منقولہ روایات میں غور و فکر کرے گا جنہیں ہم نے اوپر بیان کیا ہے، وہ یہ پائے گا کہ عبداللہ بن سبا کی شخصیت ایک حقیقی شخصیت تھی جسے لوگ اچھی طرح جانتے تھے، اور وہ اس کی لچکدار طبیعت اور اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے بھی واقف تھے کیونکہ یہ روایات بغیر کسی ابہام کے اس کے وجود کی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔ بلکہ عبداللہ بن سباء کا تذکرہ کرنے والے راویوں کے درمیان تو اس بات پر گویا اجماع پایا جاتا ہے کہ وہ ایک یہودی تھا، اور خود علمائے شیعہ(مثلاً النوبختی وغیرہ)نے بھی اس بات کی تائید کی ہے۔(النوبختی:  مرجع سابق صفحہ27)

 رہا یہ سوال کہ عبداللہ بن سبا کو ”ابن السوداء“کیوں کہا گیا؟ تو امام طبری اور دیگر مؤرخین کے کلام سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ عبداللہ بن السوداء دراصل خود عبداللہ بن سبا ہی ہے اور اسے یہ نام محض اس کی تذلیل و تحقیر کے لیے دیا گیا کیونکہ اس کی ماں سیاہ فام تھی، اور شاید اس لیے بھی کہ اس کی ماں حبشی تھی جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اور علامہ مقریزی نے اپنی کتاب الخطط میں،اور ابنِ کثیرؒ نے البدايہ والنہايہ میں اس تطابق (کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں)کی توثیق کی ہے۔

(المقريزي ابوالعباس احمد بن علي المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار دار الطباعة المصريۃ بولاق جلد 2 صفحہ 334)

 (ابنِ كثيرؒ ابوالفداء إسماعيل بن عمر، تحقيق ومراجعۃ محمد عبد العزيز النجار، مؤسسۃ دار العربي للنشر والتوزيع، مطبعۃ السعادة، جلد  2 صفحہ356)

چنانچہ امام طبری نے فرمایا: عبداللہ بن سبا صنعاء کا رہنے والا ایک یہودی تھا، اور اس کی ماں سیاہ فام (لونڈی) تھی۔(الطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ98)


جاحظ کی کتاب البيان والتبيين میں ایک روایت آئی ہے جس کے بعض فقروں میں یہ درج ہے: چنانچہ مجھے ابن السوداء ملا اور وہ ابنِ حرب ہے۔ ڈاکٹر جواد علی نے اسی روایت کے ذریعے عبداللہ بن سبا کے وجود پر شک کے بادل مڈلانے کی کوشش کی ہے، چنانچہ انہوں نے کہا:‘‘اس روایت میں اہم بات یہ ہے کہ اس نے ابن السوداء کے باپ کے نام کی صراحت کر دی ہے اور اسےحرب پکارا ہے!لیکن یہ کون سا حرب ہے؟ تاریخ میں تو سینکڑوں اشخاص ایسے ہیں جو حرب کے نام سے جانے جاتے ہیں، پھر اس حرب کا باپ کون تھا..؟ اور وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔(الجاحظ، ابو عثمان عمرو بن بحر، تحقیق عبد السلام هارون جلد 3 صفحہ46 كتاب العصر)

(علی ، جواد ، مجلۃ الرسالۃ عدد 775 صفحہ532)

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کتاب البیان والتبیین کی یہ عبارت تحریف شدہ ہے، اور میرا یہ گمان ہے کہ اس روایت کی اصل یوں تھی: فلقینی ابن السوداء هو وابن حرب(یعنی مجھے ابن السوداء ملا، وہ اور ابنِ حرب)،جس میں لفظ هوکو واؤپر مقدم کر دیا گیا ہے اور اس طرح کرنے سے عبارت کا معنی بالکل درست ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ابنِ حرب جو ہے، یہی غالی سبئی گروہ کی ایک ذیلی شاخ "الفرقہ الحربيہ"(حربیہ فرقے)کا بانی ہے۔(الشہرستانی، محمد بن عبد الكريم الملل والنحل تحقيق محمد سيد الكيلانی دارالمعرفہ بيروت جلد1صفحہ 290-291 وانظر القمی مرجع سابق صفحہ27-28 والنوبختی مرجع سابق صفحہ27)

ابنِ حرب ابنِ سبا کے پیرو کاروں میں سے تھا اور وہ انہی نظریات و مقالات کا قائل تھا جن کی دعوت عبد اللہ بن سبا نے دی تھی، پھر وہ اپنے غلو میں اس سے بھی آگے نکل گیا۔ بہرحال اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر جواد علی نے جاحظ کی مذکورہ بالا روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے خود یہ کہا ہے: اور مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جاحظ ابن السوداء سے مراد اسی عبداللہ بن سبا کو لے رہا ہے جس کا تذکرہ فرق و مذاہب کی کتابوں کے مصنفین نے کیا ہے۔

(مجلۃ الرسالۃ، مرجع سابق عدد 775)

عبدالقاہر بغدادی مصنفِ کتاب الفرق بين الفرق نے اکیلے یہ رائے قائم کی ہے کہ ابن السوداء، ابن سبا کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ہے حالانکہ وہ افکار اور نظریات جو انہوں نے دوسرے یعنی ابن سباء کی طرف منسوب کیے ہیں، وہ اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں، جس سے مشرق (عجم) اور منحرف ادیان و مذاہب سے درآمد شدہ نظریات مروی ہوئے ہیں۔ مصنفِ الفرق نے امام شعبی کی اس روایت پر اعتماد کیا ہے جو دو اشخاص کے بارے میں بات کرتی ہے جن میں سے

 پہلا: عبد اللہ بن سبا ہے، جو اصل میں یمن کا ایک یہودی تھا،

دوسرا:عبد اللہ بن السوداء ہے، جو حیرہ کا ایک یہودی تھا۔ (البغدادی مرجع سابق صفحہ227)

جبکہ ہم اس سے پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ ابن سبا اصل میں یمن ہی سے تھا، اور وہ بعد میں حیرہ میں آکر مقیم ہوا تھا، اور وہیں اس نے ان اکثر مقالات اور باطل عقائد کو ترتیب دیا جن کی اس نے دعوت دی تھی۔ اور ان دونوں کے درمیان یہ تفریق راویوں پر معاملہ خلط ملط ہو جانے کی وجہ سے ہی ہوئی ہے، جیسا کہ امام شعبی ہی کی ایک دوسری روایت میں ان کے ساتھ ہوا جسے العقد الفريد کے مصنف نے نقل کیا ہے، جس میں یہ عبارت آئی ہے: اور علی بن ابی طالبؓ نے انہیں آگ سے جلا دیا تھا اور انہیں مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا تھا،ان میں سے ایک عبد اللہ بن سبا تھا جسے آپ نے ساباط کی طرف جلاوطن کیا، اور دوسرا عبد اللہ بن سباب تھا۔(مجلۃ الرسالۃ:  مرجع سابق عدد 775)

 چنانچہ امام شعبی نے اپنی اس روایت میں دو اشخاص کے نام ذکر کیے ہیں: ایک عبد اللہ بن سبا، اور دوسرا عبد اللہ بن سباب اور جو شخص اس مقام کا مطالعہ کرتا ہے، وہ یہ تصور کر بیٹھتا ہے کہ یہ دوسرا شخص علی بن ابی طالبؓ کی محبت میں غلو کرنے والے سرغنوں میں سے تھا، اور وہ ابنِ سبا کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا، اور اس کے باپ کا نام سباب تھا مگر جب ہم فرق و مذاہب کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو ہم یہ پاتے ہیں کہ وہ کتابیں عبد اللہ بن سبا اور اس کے پیرو کاروں کو سبئیہ بھی کہتی ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ انہیں سبابیہ کے نام سے بھی موسوم کرتی ہیں۔ جیسا کہ کتاب الفرق بين الفرق میں آیا ہے اس باب کی فصلوں میں سے پہلی فصل: سبابیہ کے قول کے ذکر میں جو کہ عبد اللہ بن سبا کے پیروکار ہیں۔(البغدادی مرجع سابق صفحہ227)

صفحہ 2 از 4