اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4

 انہوں نے اس کتاب میں ایک سے زائد ایسی مستند اور باقاعدہ اسانید سے مروی روایات نقل کی ہیں جو ابن سباء کی حقیقت وجود کی تصدیق کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محمد بن الحسن الطوسی(متوفی460ھ)کی کتاب رجال الطوسی بھی اس کی شاہد ہے اور یہ تمام شیعی مراجع ابن سبا کے وجود کو ثابت کرتے ہیں اور متأخرینِ شیعہ میں سے ان لوگوں کی علمی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے عبد اللہ بن سباء کے وجود کا انکار کرنے یا اس کے احوال و اخبار میں شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن اس سب کے باوجود، استاد مرتضیٰ عسکری نے ان تمام راویوں کے اخبار کو مسترد کر دیا، اور ثقہ حفاظِ حدیث نے جو کچھ نقل کیا تھا اس پر انہوں نے قناعت نہیں کی، اور انہوں نے ملل و نحل فرق و مذاہب کی کتابوں پر سخت طعن و تشنیع کی۔ اور بات یہیں تک محدود نہیں رہی کہ انہوں نے صرف علمائے اہل سنت کے اخبار و روایات کو رد کیا ہو، بلکہ انہوں نے تو خود ائمہ و اکابرینِ شیعہ کی لکھی ہوئی باتوں کو بھی یکسر رد کر دیا۔(الطوسی محمد بن الحسن (ت460هـ) رجال الطوسی بغداد صفحہ51)


صفحہ 4 از 4