اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

یہ روایت سیف بن عمر کے علاوہ کسی دوسرے اخباری کے ہاں اس بات کا پہلا اشارہ ہے کہ ابن سبا، سیدنا علیؓ کی خلافت کے استحقاق کا عقیدہ رکھتا تھا۔ اور اس میں ایک ایسے اخباری کے ہاں ابن سباء کے وجود کا ثبوت بھی ملتا ہے جس پر خود مرتضیٰ عسکری پورا بھروسہ کرتے ہیں۔ پھر ابو مخنف علیؓ کی شہادت کے بعد سبئیہ کا مختصر طور پر تذکرہ کرتا ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ وہ گروہ تھا جو علیؓ سے وفاداری کا دم بھرتا تھا۔ اور زیاد بن ابیہ نے حجر بن عدی الکندی اور ان کے ساتھیوں کو ”السبئیۃ الجانیۃ“(جنایت کار سبئی)اور”الترابیۃ السبئیۃ“(مٹی سے منسوب سبئی گروہ) کے اوصاف سے ملقب کیا۔ ابو مخنف نے ذکر کیا ہے کہ شبث بن ربعی ریاحی نے مختار ثقفی کے ساتھیوں کا تمسخر اڑایا اور انہیں سبئیہ قرار دیا اسی طرح کوفہ کے اشراف و عمائدین نے بھی مختار اور اس کے پیروکاروں کو سبئیہ کہا اور یہ بات مختار ثقفی کے خلاف ان کے اس احتجاج کے دوران کی ہے جو معرکۂ ”جبانہ السبع“ سے پہلے ہوا تھا جس میں مختار کو سن 66 ہجری میں فتح حاصل ہوئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کہا تھا: مختار نے اور اس کے سبئی گروہ نے اپنے اسلافِ صالحین سے براءت و بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ بالکل اسی طرح خوارج نے بھی علیؓ کے ساتھیوں کو سبئیہ کے نام سے پکارا ۔اور یہ تمام روایات جو ابو مخنف سے مروی ہیں، اور اس سے پہلے کی وہ روایات جو سیف اور دیگر راویوں سے منقول ہوئیں، یہ سب اس بات کا فائدہ دیتی ہیں کہ عبد اللہ بن سباء اور اس کے پیروکار حقیقت کی دنیا سے تعلق رکھتے تھے نہ کہ تخیل کی دنیا سے جیسا کہ مرتضیٰ عسکری نے دعویٰ کیا ہے۔ اور مرتضیٰ عسکری کا اس تاریخی خبر کو محض اس بنیاد پر مجروح اور مسترد کر دینا کہ یہ سیف سے مروی ہے، اپنی جگہ پر درست اور محلِ نظر نہیں ہے کیونکہ یہ خبر سیف کے علاوہ دیگر مأخذ سے بھی وارد ہوئی ہے۔ پس عبداللہ بن سبا کے اخبار و احوال کے لیے تنہا سیف ہی واحد مصدر نہیں ہے، جس طرح کہ حافظ ابن عساکر کی روایات کے طرق اور اسانید بھی صرف سیف پر منحصر نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی تاریخ میں ایسی متعدد روایات درج کی ہیں جن کی سند میں سیف سرے سے موجود ہی نہیں ہے، اور وہ تمام کی تمام روایات ابنِ سبا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں اور اس کے احوال کی تصدیق کرتی ہیں۔

حوالہ جات:

حجر بن عدي: عده البخاري من التابعين، وكان من شيعۃ علي في الجمل وصفين روى ابن سيرين أن ابن زياد، وهو أمير للكوفۃ خطب خطبہ أطال فيها، فنادى حجر بن عدي: الصلاة، فمضى زيد في خطبتہ، فصحبہ عدي بحجر وشاركہ آخرون، فكتب زياد إلى معاويۃ يشكو إليه بغي حجر بن عدي على أميره في بيت اللہ، فكتب معاويۃ إلى زياد أن سرح بہ إلي، فلما جيء بہ إلى معاويۃ أمر بقتلہ متعظا بعاقبۃ عثمان، وما جر اله تمادي الذين اجترأوا عليہ ابن العربي، أبوبكر محمد بن عبداللہ، ابن العربي العواصم من القواصم، تحقيق محب الدين الخطيب ط 3 المكتبۃ السلفيۃ بمصر، هامش صفحہ 212۔

حجر بن عدی: امام بخاریؒ نے انہیں تابعین میں شمار کیا ہے، اور وہ (جنگِ)جمل اور صفین میں سیدنا علیؓ کے ساتھیوں(شیعہ)میں سے تھے۔ ابنِ سیرین نے روایت کیا ہے کہ زیاد بن ابی سفیان نے، جب وہ کوفہ کا گورنر تھا، ایک طویل خطبہ دیا، تو حجر بن عدی نے آواز لگائی: نماز کا وقت ہو گیا ہے! مگر ابنِ زیاد اپنے خطبے میں مصروف رہا، تو حجر نے اس کی طرف کنکری پھینکی اور دیگر لوگوں نے بھی اس کام میں ان کا ساتھ دیا۔چنانچہ زیاد نے معاویہؓ کو خط لکھا جس میں اس نے اللہ کے گھر میں اپنے امیر کے خلاف حجر بن عدی کی اس سرکشی کی شکایت کی۔ تو سیدنا معاویہؓ نے زیاد کو لکھا کہ اسے میرے پاس بھیج دو۔ پس جب انہیں سیدنا معاویہؓ کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے سیدنا عثمانؓ کے انجام سے عبرت پکڑتے ہوئے ان کے قتل کا حکم دے دیا، اور یہ کہ ان لوگوں کی درازیِ دستی نے سیدنا عثمانؓ پر کتنا بڑا فتنہ ڈھایا تھا جنہوں نے ان پر جرات کی تھی۔

(حوالہ:ابنِ العربی، ابو بکر محمد بن عبداللہ، العواصم من القواصم، تحقیق: محب الدین الخطیب، تیسرا ایڈیشن، المکتبۃ السلفیۃ مصر، حاشیہ صفحہ 212)

(البلاذری احمد بن يحيىٰ (ت 297هـ)، انساب الأشراف، جلد 4، جلد 5 القدس)

(الطبري تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ 775)

(الطبری تاريخہ، مرجع سابق جلد 5 صفحہ 25)

(الطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ 44)

(البلاذری، انساب الأشراف، مرجع سابق جلد 5 صفحہ صفحہ 212 والطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ 272 جلد 6 صفحہ 25 صفحہ 44، وابو الشعر هند مرجع سابق 333)

جس طرح اہلِ سنت کے مراجع کے علاوہ خود شیعی مصادر بھی متنوع اور کثیر ہیں جنہوں نے عبد اللہ بن سبا کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ اور ان شیعی مصادر میں فرق و مذاہب کی وہ مستند کتابیں شامل ہیں جن میں سرِ فہرست الناشئ الاکبر (متوفی 293ھ)کی کتاب:مسائل الامامۃ ومقتطفات من كتاب الأوسط في المقالات(ابنِ عساكر تاريخ مدينہ دمشق مخطوط في المكتبۃ الأزهريۃ رقم(714)ورقۃ 124ب)

 القمی(متوفی301ھ)کی کتاب المقالات والفرق(الناشئ الأكبر مرجع سابق صفحہ22-23) 

النوبختی (متوفی310ھ) کی کتاب فرق الشيعہ ہے۔(القمي مرجع سابق صفحہ 20، 52)

 اور اسی طرح کتبِ رجال بھی اس کا ثبوت پیش کرتی ہیں،جن میں سے ایک رجال الکشی ہے (جس کا مؤلف ابو عمرو محمد بن عمر، متوفی 340 ہجری ہیں)

(النوبختي ابومحمد الحسن بن موسىٰ 1931 تصريح ريتر استنبول صفحہ 23)

صفحہ 3 از 4