اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

 (الٰہی ظهير، احسان، السنہ والشيعۃ نشر إدارة ترجمۃ السنة الهور، باكستان صفحہ8 نقلا عن طوق الحمامۃ ليحيى بن حمزة الزبيدی)

ب)  حافظ ابنِ عساکرؒ نے زید بن وہب جہنی کوفی متوفی سن (90ھ/709ء) سے روایت کی ہے انہوں نے کہا: امیر المؤمنین علیؓ نے فرمایا :میرا اس خبیث اور سیاہ بخت یعنی عبد اللہ بن سباء سے کیا لینا دینا! وہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کی عیب جوئی اور تنقیص کیا کرتا تھا۔ (ابن عساكر، مختصر تاريخ دمشق مرجع سابق م 12، صفحہ 222)

ج)  امام ابن سعد نے اپنی کتاب الطبقات میں ابراہیم بن یزید نخعی متوفی سن (96ھ/714ء)سے روایت کی ہے کہ ایک شخص ابراہیم نخعی کے پاس آیا کرتا تھا اور ان سے علم سیکھتا تھا۔ اسی دوران اس نے کچھ لوگوں کو علیؓ اور عثمانؓ کے معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا، تو اس نے اپنے دل میں کہا: کیا میں اس شخص سے علم حاصل کر رہا ہوں؟ جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ علیؓ اور عثمانؓ کے معاملے میں باہم دست و گریبان اور اختلاف کا شکار ہیں، چنانچہ اس نے ابراہیم نخعی سے اس کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: نہ تو میں سبئ (عبد اللہ بن سبا کے نظریات کا حامل)ہوں اور نہ ہی مرجئی(ارجاء کا عقیدہ رکھنے والا) ہوں۔ 

(ابن سعد، ابو عبداللہ محمد بن سعد الزهري الطبقات الكبرىٰ جلد 6 صفحہ 192 طبعۃ دار صادر بيروت)

د) حافظ ابنِ عساکرؒ نے تاریخ دمشق میں شعبی(عامر بن شراحیل حمیری یمنی)متوفی سن (103ھ/721ء)سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے پہلے جس شخص نے (اسلام میں عقائد کے باب میں) جھوٹ گھڑا وہ عبداللہ بن سباء تھا۔ اور اسی طرح ابن عساکر نے ابن الطفیل(عامر بن واثلہ لیثیؓ) جو کہ آخری رحلت فرمانے والے صحابی ہیں اور ان کی وفات سن (110ھ/728ء)میں ہوئی، سے روایت کی ہے، انہوں نے بیان کیا: میں نے مسیب بن نجیہ کو دیکھا کہ وہ اسے پکڑ کر لا رہے تھے جبکہ لوگ اس کے گرد شور مچا رہے تھے یعنی ابن السوداء (ابن سبا)کو اور علیؓ اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے تو علیؓ نے دریافت فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا:یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر جھوٹ باندھتا ہے۔

(ابنِ عساكر مختصر تاريخ دمشق:  مرجع سابق م 12 صفحہ221)

ھ) امام (ابن جریر)طبری نے نقل کیا ہے کہ قتادہ بن دعامہ سدوسی متوفی سن (117ھ/735ء)جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالی شان تلاوت فرماتے:

فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ“ (پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھاپن ہے) تو وہ فرماتے: اگر اس سے مراد حروریہ(خوارج) اور سبئیہ(عبد اللہ بن سبا کے پیروکار)نہیں ہیں، تو پھر میں نہیں جانتا (کہ اس سے کون مراد ہے)(الطبری، ابوجعفر محمد بن جرير، جامع البيان في تفسير القران، وبهامشہ تفسير غرائب القران للنسيابوري، نشر دار الجيل، بيروت، جلد 3 صفحہ 119)

جیسا کہ بالکل واضح ہے، ان روایات کے ناقلین میں سے کسی نے بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ روایات سیف بن عمر سے نقل کی گئی ہیں جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہ تاریخی خبر نقل کرنے میں سیف بن عمر تمیمی منفرد نہیں ہے، بلکہ یہ دیگر راویوں سے بھی مروی ہے جن میں سے بعض تو سیف پر زمانی اعتبار سے مقدم (پہلے)ہیں۔ اور اس کے باوجود کہ استاد مرتضیٰ عسکری سیف کی روایت کو قبول کرنے سے اس حجت کے ساتھ انکار کرتے ہیں کہ علمائے جرح و تعدیل نے اسے مجروح قرار دیا ہے بطورِ محدث، نہ کہ بطورِ اخباری (تاریخی راوی) ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ خود ابو مخنف کی روایات کو بلا جھجک قبول کر لیتے ہیں، جبکہ علمائے جرح و تعدیل نے ابو مخنف کو بطورِ محدث اور بطورِ اخباری دونوں حیثیتوں سے مجروح اور ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔

(ابو مخنف هو لوط بن یحیی ٰبن سعد الازدی الكوفی الاخباری، جرحہ العلماء محدثا واخباريا. ابن حجر العسقلانی، لسان الميزان، نشر مطبعۃ مجلس ادارة المعارف النظاميۃ بحيدر اباد الدكن جلد 4 صفحہ 492)

ابو مخنف کے بارے میں امام ابن معین نے فرمایا ہے:

وہ کچھ بھی نہیں ہے (یعنی روایت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔(ابنِ حجر العسقلانی لسان الميزان: مرجع سابق :جلد 4 صفحہ 492)

*مام ذہبیؒ نے اس کے متعلق فرمایا ہے:

اور وہ تاریخ میں کوئی مستند یا بنیادی ستون نہیں ہے جیسا کہ سیف کا معاملہ ہے، بلکہ وہ تو ایک تباہ حال اور ناقابلِ اعتبار اخباری راوی ہے جس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔(الذہبی، ميزان الاعتدال مرجع سابق جلد 3 صفحہ419)

اور اسی طرح کے اوصاف کے ساتھ حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے لسان المیزان میں اس کی مذمت و تعریف کی ہے۔(ابن حجر لسان الميزان مرجع سابق :جلد 4 صفحہ 492)

ابو مخنف نے خلیفہ راشد سیدنا عثمانؓ کے فتنے کے واقعات میں سبئیہ گروہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا، بلکہ اس کے ہاں عبد اللہ بن سباء کا سب سے پہلا تذکرہ علیؓ کے دورِ خلافت سے ملتا ہے چنانچہ وہ ذکر کرتا ہے کہ معرکہ نہروان کے بعد علیؓ کے پاس ‘عبد اللہ بن سبا عبداللہ بن وہب الراسبی الہمدانی جو خوارج کا سرغنہ تھا اور وہی ابن سباء ہے (جبکہ صحیح عبارت یوں ہے: وہ اور ابن سبا) آئے، اور اس کے ہمراہ حجر الکندی، عمرو بن الحمق الخزاعی اور حیّہ بن جوین البجلی ثم العرنی بھی تھے انہوں نے آپ سے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے بارے میں آپ کی رائے دریافت کی، تو آپ ان پر سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ اب دنیا کے تمام کام چھوڑ کر اسی کام کے لیے فارغ ہوئے ہو؟

(ابوالشعر هند حركۃ المختار بن ابی عبيد فی الكوفۃ، مرجع سابق، صفحہ 332. نقلا عن انساب البلاذري، مرجع سابق جلد 5 صفحہ 59)

صفحہ 2 از 4