اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اولاً:مرتضیٰ عسکری کے شکوک و شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

نجف اشرف میں کلیۃ علوم الدین کے ڈیڈ(عمید) مرتضیٰ عسکری نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن مؤرخین نے بھی عبداللہ بن سبا کے احوال پر گفتگو کی ہے، ان کے اکثریتی طبقے نے اپنی معلومات امام طبری سے اخذ کی ہیں، اور یہ کہ طبری نے اس سلسلے میں مشہور اخباری و راوی سیف بن عمر کی روایات پر تکیہ کیا ہے جنہیں علمائے جرح و تعدیل نے مجروح (ناقابلِ اعتبار) قرار دیا ہے۔ مرتضیٰ عسکری کا بیان ہے کہ چنانچہ جب ہم سیف کی شخصیت پر تحقیق کے لیے کتبِ رجال کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ رجالی ائمہ اسے ان الفاظ میں موصوف کرتے ہیں کہ وہ مجہول راویوں کی ایک بہت بڑی جماعت سے روایت کرتا ہے وہ حدیث میں ضعیف ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں (لیس بشیء) وہ متروک الحدیث ہے حدیثیں گھڑتا (وضع کرتا) تھا، روایت کے باب میں وہ ساقط الاعتبار ہے، وہ ثقہ راویوں کی طرف منسوب کر کے من گھڑت (موضوع) روایات نقل کرتا ہے، اس کی عام احادیث منکر ہیں، اور وہ وضعِ حدیث اور زندقہ (ملحدانہ الحاد)کے الزام سے متہم ہے۔

حوالہ:

(سيف بن عمر الضبی التميمی الكوفی مؤلف كتاب (الفتوح والردة) وكتاب(الجمل وسير عائشہ وعلی) توفی سنۃ 170هـ ابن الندين الفهرست صفحہ137)

(العسكری مرتضىٰ 1972م، عبداللہ بن سبا واساطير اخرى دار الغدير بيروت صفحہ17)

ہم (اس کے جواب میں) یہ کہتے ہیں کہ بیشک علمائے جرح و تعدیل نے اسے مجروح قرار دیا ہے چنانچہ اس کے بارے میں (امام) نسائی نے فرمایا ہے ”سیف بن عمر الضبی ضعیف“ ہے.

(ابنِ حبان محمد البستی المجرحين من المحدثين والضعفاء والمتركين، تحقیق محمود ابراهيم زايد حلب :صفحہ 14)

ابو حاتم رازی نے اس کے متعلق کہا ہے:

ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے والد سے سیف بن عمر الضبی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ متروک الحدیث ہے، اور اس کی حدیثیں(روایت کے اسلوب میں) واقدی کی حدیثوں سے مشابہت رکھتی ہیں، ابنِ معین نے اس کے بارے میں فرمایا ہے: سیف حدیث کا ضعیف ہے۔

(ابن ابی حاتم الرازی عبدالرحمٰن، الجرح والتعديل مطبعۃ جمعيۃ دائرة المعارف العثمانيۃ، حيدر آباد الدكن: ط1جلد 2 صفحہ 378)

امام ذہبیؒ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے صرف اسی قول پر اکتفا کیا ہے کہ:

ابنِ معین اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

(الذهبی مجمد بن احمد بن عثمان، الكاشف فی معرفۃ من له روايۃ في الكتب الستۃ، تحقيق عزت علي عيد عطيہ وزميلہ، 1972م، نشر دارالكتب الحديثۃ القاهرة جلد 1صفحہ416)

ابنِ حجرؒ کے نزدیک:

سیف حدیث میں ضعیف ہےـ

(ابن حجر العسقلانیؒ، احمد بن علی، تقريب التهذيب، تحقیق عبدالوهاب عبد اللطيف 1975م ط 2 نشر دار المعرفۃ بيروت:  جلد1صفحہ344)

 لیکن(یہ نکتہ ملحوظِ خاطر رہے کہ) احادیثِ نبویہ شریفہ کے باب میں اس کی مرویات پر جو طعن اور جرح کی گئی ہے، وہ لازمی طور پر ان تاریخی اخبار و واقعات پر لاگو نہیں ہوتی جنہیں وہ روایت کرتا ہے۔ کیونکہ احادیثِ نبویہﷺ شریعت کا وہ حصہ ہیں جن پر احکام کی بنیاد رکھی جاتی ہے، جن سے حلال و حرام اخذ کیا جاتا ہے، اور جن کے ذریعے حدود نافذ کی جاتی ہیں، پس احادیث کا تعلق تشریعِ اسلامی کے ایک ایسے بنیادی اصل سے ہے جو کہ سنّتِ نبویہ غراء (روشن سنت) ہے۔

تاریخی اخبار (واقعات) کی روایت کا معاملہ (احادیث سے) مختلف ہے کیونکہ یہ تاریخی اخبار اگرچہ اہم تو ہیں لیکن ان کی اہمیت احادیثِ نبویہ کے مرتبے تک نہیں پہنچتی، اور نہ ہی ان سے کوئی ایسے شرعی احکام صادر ہوتے ہیں جن کی پابندی لازم ہو۔ کیونکہ(رسولﷺ کے علاوہ)ہر انسان کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے اس قول کے جو رسول اللہﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو۔ اور آئیے ہم دوبارہ جرح و تعدیل کی ان کتابوں کی طرف رجوع کریں جنہوں نے سیف کو بطورِ محدث تو مجروح قرار دیا ہے، تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ بطورِ مؤرخ اور اخباری (تاریخی راوی) ان کا سیف کے بارے میں کیا حکم ہے۔

چنانچہ امام ذہبی نے فرمایا ہے:

سیف ایک (ماہر) اخباری اور (تاریخ کا گہرا) علم رکھنے والا تھا۔( الذهبی محمد بن احمد بن عثمان، ميزان الاعتدال، تحقیق محمد علی البجاوی، 1963م، دار أحياء الكتب العربيۃ ط1القاهرة: جلد 2 صفحہ255)

حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا ہے:

وہ حدیث میں ضعیف ہے (لیکن) تاریخ میں بنیادی ستون اور مستند (عمدہ) ہے۔

(ابنِ حجر العسقلانیؒ احمد بن علی تقريب التهذيب مرجع سابق جلد 1صفحہ 344)

تو پھر ہم کیوں کچھ اقوال کو تو لے لیتے ہیں اور کچھ دوسرے اقوال کو چھوڑ دیتے ہیں؟ اور حقیقت تو یہ ہے کہ عبد اللہ بن سباء کے احوال و اخبار پر تنہا سیف بن عمر ہی وہ واحد ماخذ اور مصدر نہیں ہے جس نے ان روایات کو مخصوص کر رکھا ہو، بلکہ ابن سبا اور اس کے گروہ کے احوال متقدمین(قدیم)علماء اور سیف بن عمر کے علاوہ دیگر ایسے راویوں سے بھی منقول ہو کر وارد ہوئے ہیں جیسے کہ:

الف) یحییٰ بن حمزہ زبیدی کی کتاب (طوق الحمامہ)میں سوید بن غفلہ جعفی کوفی متوفی سن (80ھ/699ء)سے منقول ہے کہ وہ امیرالمؤمنین علیؓ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا ہوں جو ابوبکرؓ اور عمرؓ کا برے الفاظ میں تذکرہ کر رہے تھے، اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ بھی اپنے دل میں ان دونوں کے لیے ایسے ہی منفی جذبات چھپائے ہوئے ہیں، اور ان برائی کرنے والوں میں عبداللہ بن سبا بھی شامل ہے۔ یہ سن کر سیدنا علیؓ نے فرمایا: میرا اس خبیث اور سیاہ بخت سے کیا لینا دینا! پھر انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں ان دونوں کے لیے اپنے دل میں خیر اور بھلائی کے سوا کچھ اور چھپاؤں۔ اس کے بعد انہوں نے ابنِ سباء کی طرف پیغام بھیجا اور اسے مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا، اور خود منبر کی طرف بڑھے یہاں تک کہ جب لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے ان دونوں ابوبکرؓ و عمرؓ کی خوب مدح و ثنا فرمائی، اور پھر ارشاد فرمایا اگر مجھے کسی بھی شخص کے بارے میں یہ پتہ چلا کہ وہ مجھے ان دونوں پر فضیلت دیتا ہے، تو میں اسے مفتری (جھوٹا تہمتی) کی حد (یعنی اسی کوڑے) لگاؤں گا۔

صفحہ 1 از 4